Poetries by alizy
صحرا میں۔۔۔۔۔۔ صحرا میں بھی پھول کھلتے ہیں
گدڑیوں میں بھی لعل ملتے ہیں
یہ دنیا ہے پیارے یہاں
ہر قدم پر نئے سراغ ملتے ہیں
گزری ہے زندگی عذاب مسلسل کی طرح مگر
دلوں میں پھر بھی امیدوں کے چراغ جلتے ہیں
چھپاو لاکھ کھل ہی جاتے ہیں
راز جو دل میں پنہا ں ہوتے ہیں
کھوکھلی ہنسی سجا کے ہونٹوں پر
درد سینے میں دبا لیتے ہیں
alizy
گدڑیوں میں بھی لعل ملتے ہیں
یہ دنیا ہے پیارے یہاں
ہر قدم پر نئے سراغ ملتے ہیں
گزری ہے زندگی عذاب مسلسل کی طرح مگر
دلوں میں پھر بھی امیدوں کے چراغ جلتے ہیں
چھپاو لاکھ کھل ہی جاتے ہیں
راز جو دل میں پنہا ں ہوتے ہیں
کھوکھلی ہنسی سجا کے ہونٹوں پر
درد سینے میں دبا لیتے ہیں
alizy
نیا دور قلندر کی با تین نہ سمجھا زما نہ
فسانہ ہے کیا؟ کہتا دیوانہ
ہے شوروغل میں یہ ڈوبا ترانہ
دھرے کان کیوں کر بھلا یہ زمانہ
یہ کہنے کی ہے با ت کیوں کر کہیں ہم
بھلا سچ کو سہنے کا ہے کس میں دم
پکار کر کہا اماں نے، اے نور نظر
ہوئی واپسی میں تاخیر کیوں کر
بگڑ کر یہ بولا جگر گوشہ اپنا
جلاتی ہے ناحق خون جگر اپنا
پریشان ہو نہ غم کھایا کر
میری زندگی میں نہ انٹر فئیر کر
تھے پچھلے زمانے کے اطوار اپنے
نیا دور ہے، ہیں طور اس کے اپنے
بجیں شب کے بارہ،نہ غم کھایا کر
بچہ نہیں ہوں،نہ ہولایا کر
بس اپنے کام سے کام رکھ میری اماں
میری زندگی ہے،مجھی پہ چھوڑ میری اماں alizy
فسانہ ہے کیا؟ کہتا دیوانہ
ہے شوروغل میں یہ ڈوبا ترانہ
دھرے کان کیوں کر بھلا یہ زمانہ
یہ کہنے کی ہے با ت کیوں کر کہیں ہم
بھلا سچ کو سہنے کا ہے کس میں دم
پکار کر کہا اماں نے، اے نور نظر
ہوئی واپسی میں تاخیر کیوں کر
بگڑ کر یہ بولا جگر گوشہ اپنا
جلاتی ہے ناحق خون جگر اپنا
پریشان ہو نہ غم کھایا کر
میری زندگی میں نہ انٹر فئیر کر
تھے پچھلے زمانے کے اطوار اپنے
نیا دور ہے، ہیں طور اس کے اپنے
بجیں شب کے بارہ،نہ غم کھایا کر
بچہ نہیں ہوں،نہ ہولایا کر
بس اپنے کام سے کام رکھ میری اماں
میری زندگی ہے،مجھی پہ چھوڑ میری اماں alizy
تیرے شہر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تیرے شہر میں رہ کر دور تھے کتنے
پردیس میں تیری یاد نے تڑ پایا بہت
تیرے ساتھ گزرا ہر ایک لمحہ
تنہائی میں دل نے دہرایا ہے بہت
تیری یادوں کی بد لیوں میں چھپ کے
آنکھوں سے برسی بر کھا بہت
اک دل ہی بھول نہ پایا تجھ کو
بھو ل جا اس کو اپنوں نے سمجھایا بہت
اب رہ رہ کے ملال ہوتا ہے آرزو کو
عمر بھر دل کو تڑ پایا بہت
alizy
پردیس میں تیری یاد نے تڑ پایا بہت
تیرے ساتھ گزرا ہر ایک لمحہ
تنہائی میں دل نے دہرایا ہے بہت
تیری یادوں کی بد لیوں میں چھپ کے
آنکھوں سے برسی بر کھا بہت
اک دل ہی بھول نہ پایا تجھ کو
بھو ل جا اس کو اپنوں نے سمجھایا بہت
اب رہ رہ کے ملال ہوتا ہے آرزو کو
عمر بھر دل کو تڑ پایا بہت
alizy