Poetries by Amir Ahmad
تو کریم ہے مولا تیرا کرم چاہتے ہیں ااتو کریم ہے مولا تیرا کرم چاہتے ہیں
جو ستاۓ تیری یاد کو وہ غم چاہتے ہیں
تیرا ہی پیتے اور تیرا ہی کھاتے ہیں
کہنے کے ہم مسلمان تھوڑا ہم شرماتے ہیں
نہ کر سکے جو ڪچھ تو کہ دیا انشاءالله
ہو چلے اک ذرا تو پہاڑ ہم ڈھاتے ہیں
نہ رہی تمیز کبیرہ نہ صغیرہ یاد ہیں
دین کی راہ پہ بے ہوش سے ہم جاتے ہیں
کتنی پیاری ہے یہ دنیا آج ہمیں
جو ہو کمی ذرا تو نالے ہم بہاتے ہیں
بن کے غافل مان لیتے ہیں ابلیس کی
بند کوٹھی میں پاکیزہ روح کو ہم تڑپاتے ہیں
دل میں ہوتا ہے خوف خدا انہی کے امیر
میدان حشر میں جو اپنا بھرم چاہتے ہیں Amir Ahmad
جو ستاۓ تیری یاد کو وہ غم چاہتے ہیں
تیرا ہی پیتے اور تیرا ہی کھاتے ہیں
کہنے کے ہم مسلمان تھوڑا ہم شرماتے ہیں
نہ کر سکے جو ڪچھ تو کہ دیا انشاءالله
ہو چلے اک ذرا تو پہاڑ ہم ڈھاتے ہیں
نہ رہی تمیز کبیرہ نہ صغیرہ یاد ہیں
دین کی راہ پہ بے ہوش سے ہم جاتے ہیں
کتنی پیاری ہے یہ دنیا آج ہمیں
جو ہو کمی ذرا تو نالے ہم بہاتے ہیں
بن کے غافل مان لیتے ہیں ابلیس کی
بند کوٹھی میں پاکیزہ روح کو ہم تڑپاتے ہیں
دل میں ہوتا ہے خوف خدا انہی کے امیر
میدان حشر میں جو اپنا بھرم چاہتے ہیں Amir Ahmad
سرکاری نوکری کی سفارش لو آ گئی پھر سفارش مرا اک کام کرو
رکھ لو بندہ مرا اور مجھ پہ انعام کرو
منتیں کرتا ہے دھن دیتا ہے دھن کماتے گا
سمجھا دیا ہے اسے جھک کے یوں سلام کرو
آداب غلامی سے واقف نہیں سیکھ جاتے گا
مرے کام کا نہیں اب اسے اپنا غلام کرو
رکھ لو بھرّم میری عزت اسی میں ہے
رسوا اس کو بے شک صبح شام کرو
ہاتھ باندھے معافیاں مانگے گا یہ معصوم سہی
تم پہ واجب نہیں کبھی اس کا احترام کرو
یہ بکتا رہے یہ تکتا رہے پرواہ نہیں
سر اسی کے سارے اپنے بھی الزام کرو
روٹی دلیے کو تڑپے گا یہ جو رات دن
مر تو نہ سکے گا جینا اس کا حرام کرو
بھلے کی صورت میں یوں ضائع اس کا ایمان ہو گا
سود و حرام خوری کا کچھ تو اہتمام کرو
کچھ پارسا بھی ہیں اس پیشے سے وابستہ
بس امیربس سب کو نہ تم بدنام کرو Amir Ahmad
رکھ لو بندہ مرا اور مجھ پہ انعام کرو
منتیں کرتا ہے دھن دیتا ہے دھن کماتے گا
سمجھا دیا ہے اسے جھک کے یوں سلام کرو
آداب غلامی سے واقف نہیں سیکھ جاتے گا
مرے کام کا نہیں اب اسے اپنا غلام کرو
رکھ لو بھرّم میری عزت اسی میں ہے
رسوا اس کو بے شک صبح شام کرو
ہاتھ باندھے معافیاں مانگے گا یہ معصوم سہی
تم پہ واجب نہیں کبھی اس کا احترام کرو
یہ بکتا رہے یہ تکتا رہے پرواہ نہیں
سر اسی کے سارے اپنے بھی الزام کرو
روٹی دلیے کو تڑپے گا یہ جو رات دن
مر تو نہ سکے گا جینا اس کا حرام کرو
بھلے کی صورت میں یوں ضائع اس کا ایمان ہو گا
سود و حرام خوری کا کچھ تو اہتمام کرو
کچھ پارسا بھی ہیں اس پیشے سے وابستہ
بس امیربس سب کو نہ تم بدنام کرو Amir Ahmad
درد پرنم ہوں دل میں درد ہے اک چھایا ہوا
روٹھہ گئےجنکی خاطر تھا گلشن سجایا ہوا
کرتے تھے فقط دل لگی ہم تو یوں ہی
کل ہی دیکھاان کے چہرے پہ غصّہ آیا ہوا
وہ کیا روٹھے کہ دنیا اجڑ گئی میری
لٹ گیا میرا سب کچھ، میں نے جو تھا کمایا ہوا
آ جاۓ جو موت تو غور سے دیکھنا میت کو میری
پا لو گےتم بھی ہوتا ہے کس طرح اپنوں کا ستایا ہوا
ذرا سنبھل کے چلنا، یہ دیس ہے ان ہی کا
کچھ کام کا نہیں بعد کا پچھتایا ہوا
زبان تو رک گئی نہ روک سکا آنکھوں کو میں
دیکھا نہ گیا زلفوں کو گالوں پہ یوں پھیلایا ہوا
میری خوشیوں کی انتہا اگر پوچھتے ہو دوستو
مدتوں مانگی دعائیں دیکھوں چہرا ان کا مسکرایا ہوا
میری ہر خوشی پہ پہرا ہے ستم گر زمانے کا
لگتا ہے امیر یہ زمانہ بھی انہی کا سکھایا ہوا Amir Ahmad
روٹھہ گئےجنکی خاطر تھا گلشن سجایا ہوا
کرتے تھے فقط دل لگی ہم تو یوں ہی
کل ہی دیکھاان کے چہرے پہ غصّہ آیا ہوا
وہ کیا روٹھے کہ دنیا اجڑ گئی میری
لٹ گیا میرا سب کچھ، میں نے جو تھا کمایا ہوا
آ جاۓ جو موت تو غور سے دیکھنا میت کو میری
پا لو گےتم بھی ہوتا ہے کس طرح اپنوں کا ستایا ہوا
ذرا سنبھل کے چلنا، یہ دیس ہے ان ہی کا
کچھ کام کا نہیں بعد کا پچھتایا ہوا
زبان تو رک گئی نہ روک سکا آنکھوں کو میں
دیکھا نہ گیا زلفوں کو گالوں پہ یوں پھیلایا ہوا
میری خوشیوں کی انتہا اگر پوچھتے ہو دوستو
مدتوں مانگی دعائیں دیکھوں چہرا ان کا مسکرایا ہوا
میری ہر خوشی پہ پہرا ہے ستم گر زمانے کا
لگتا ہے امیر یہ زمانہ بھی انہی کا سکھایا ہوا Amir Ahmad
چاچا تجھے مان گئے تیرا انتخاب ہے با کمال چاچا
یہ تو بھی جان لے کہ عشق ازل سے ہے لا زوال چاچا
خوب صورت خوب سیرت مٹک مٹک کے چلنا اس کا
چاند بھی دیکھہ کے شرماۓ تیرے محبوب کا جمال چاچا
اک نہ اک روز دل کی بات زبان پہ آئے گی
پتھ چلے گا سبھی کو نہ رسوائی کا کر ملال چاچا
لوگ مرتے آئےہیں مریں گے جب تلک ہے زندگی
ڈوبا تھا معشوق ہی کے پیچھے مہینوال چاچا
چلے گا تیرے ساتھہ ہنس کے تو کیہ کے دیکھ ذرا
لے کے چل کبھی تو اسے ساہی وال چاچا
سامنے نہ سہی دل ہی دل میں تو خواہ مخواہ
میں جانتا ہوں کرتا ہے، تو اس کی دیکھہ بھال چاچا
بھلاۓ ہیں عشق نے اپنے پرائے سبھی کو
یاد رہتا نہیں کتنے ماہ کا ہے سال چاچا
دل میں رکھہ یہ بات بھی ،ہوتا ہے کانٹوں کی سیج یہ
بن جاتا ہے کبھی کبھی عشق جان کا وبال چاچا
جانتا ہے امیر کھری بات کا یہ زمانہ نہیں
شاعری ہوتی نہیں کھا کے چنوں کی دال چاچا Amir Ahmad
یہ تو بھی جان لے کہ عشق ازل سے ہے لا زوال چاچا
خوب صورت خوب سیرت مٹک مٹک کے چلنا اس کا
چاند بھی دیکھہ کے شرماۓ تیرے محبوب کا جمال چاچا
اک نہ اک روز دل کی بات زبان پہ آئے گی
پتھ چلے گا سبھی کو نہ رسوائی کا کر ملال چاچا
لوگ مرتے آئےہیں مریں گے جب تلک ہے زندگی
ڈوبا تھا معشوق ہی کے پیچھے مہینوال چاچا
چلے گا تیرے ساتھہ ہنس کے تو کیہ کے دیکھ ذرا
لے کے چل کبھی تو اسے ساہی وال چاچا
سامنے نہ سہی دل ہی دل میں تو خواہ مخواہ
میں جانتا ہوں کرتا ہے، تو اس کی دیکھہ بھال چاچا
بھلاۓ ہیں عشق نے اپنے پرائے سبھی کو
یاد رہتا نہیں کتنے ماہ کا ہے سال چاچا
دل میں رکھہ یہ بات بھی ،ہوتا ہے کانٹوں کی سیج یہ
بن جاتا ہے کبھی کبھی عشق جان کا وبال چاچا
جانتا ہے امیر کھری بات کا یہ زمانہ نہیں
شاعری ہوتی نہیں کھا کے چنوں کی دال چاچا Amir Ahmad
اچھا نھ لگا سر عام وہ تیرا حسن لٹانا اچھا نہ لگا
یوں باغ میں بن ٹھن کے آنا اچھا نہ لگا
تعریف نہ کروں تیرے حسن کی یہ ہو نہ سکا
ترچھی آنکھوں میں کاجل کا لگانا اچھا نہ لگا
اور تجھہ سا ہوتا ہے ہزاروں میں کوئی ایک حسین
ریشمی زلفوں سے تیرا چہرہ چھپانا اچھا نہ لگا
وہ نازک پن تیرا بے ہوش جوانی تھی
مخملی گھاس پہ بے جان سا جانا اچھا نہ لگا
وہ سادگی جب جھولا جھلا تیرا کسی سے
سمجھ کے ظالم سامنے بٹھانا اچھا نہ لگا
وہ ہمت تیری مجبوری کیوں بن بیٹھی
وہ تیرا ہنس کے آنسو بہانا اچھا نہ لگا
یوں تو ہر روز کئی لوگ مل کے بچھڑ جاتے ہیں
جانے امیرکیوں ان کو چھوڑ آنا اچھا نہ لگا Amir Ahmad
یوں باغ میں بن ٹھن کے آنا اچھا نہ لگا
تعریف نہ کروں تیرے حسن کی یہ ہو نہ سکا
ترچھی آنکھوں میں کاجل کا لگانا اچھا نہ لگا
اور تجھہ سا ہوتا ہے ہزاروں میں کوئی ایک حسین
ریشمی زلفوں سے تیرا چہرہ چھپانا اچھا نہ لگا
وہ نازک پن تیرا بے ہوش جوانی تھی
مخملی گھاس پہ بے جان سا جانا اچھا نہ لگا
وہ سادگی جب جھولا جھلا تیرا کسی سے
سمجھ کے ظالم سامنے بٹھانا اچھا نہ لگا
وہ ہمت تیری مجبوری کیوں بن بیٹھی
وہ تیرا ہنس کے آنسو بہانا اچھا نہ لگا
یوں تو ہر روز کئی لوگ مل کے بچھڑ جاتے ہیں
جانے امیرکیوں ان کو چھوڑ آنا اچھا نہ لگا Amir Ahmad