BAIT-UL-LLAH (بيت الله)
Poet: Fayaz Mohammed (Shakir) By: Fayaz Mohammed (Shakir), Mumbai-IndiaDekh Ke Jisko Dil Nahi Bharta Shar-e-Makkah Aysa Hai
Aankho’n Ko Jo Taazgi Bakhshey Khaan-e-Kaaba Aysa Hai
Dekh Ke Jisko Aankhen Bhar Aayee’n Gaar-e-Hira Bhi Aysa Hai
Jismo’n Mein Wo Taaqat Bhardey Jabal-e-Noor Bhi Aysa Hai
Hum Pahad Chadey Ek Din Wo, Jo Quraa’n Mein Aayat Bani
Dil Mein Basta Har Ek Naqsha, Gaar-e-Hira Bhi Aysa Hai
Rooh Mein Jo Taazgi Bhardey Azaan-e-Haram Bhi Aysi Hai
Allahu Akbar Kehta Mua’zzin Jazb-e-Imaa’n Aysa Hai
Bait-ul-llah Mein Daakhli, Har Baab Ki Alag Kahani Hai
Sunnat Ada Karta Hua Jazba, Bab-us-Salam Aysa Hai
Laut Ke Aaye’n Dil Nahi Karta Chod Ke Ooski Chaukhat Ko
Armano Ki Pyas Bujhaye Aab-e-Zam Zam Aysa Hai
Tawaf Kare’n Oos Ghar Ka, Jismein Hain Rab Ke Nisha’n
Gunah Jazb Karta Hua Manzar, Hajar-e-Aswad Aysa Hai
Laazmi Hai Daudna Safa Marwah Per Aajzi Se
Milti Hai Imaan Ko Quwwat Sunnat-e-Haajra Aysa Hai
Khaan-e-Kaaba Ki Tamiri Dast-e-Khalil-ul-llah Se hui
Qadm-e-Mubarak Ka Wo Manzar Naqsh-e-Ibrahimi Aysa Hai
Aakhri Tausi Shakir Ne Dekhi Mulk-e-Malik Fahad Se
Rehti Dunya Tak Ho Qayam Naqsh-e-Imarat Aysa Hai
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






