Chawkhat
Poet: Mufti Taqi Usmani By: Mohsin Ali Mohsin, KarachiElahi Teri Chawkhat Per Bhikari Ban K Aaya Hoo
Sarapa Patr Hoo Ijz-O-Nidamat Saath Laya Hoo
Bhikari Wo K Jis K Pass Jholi Na Piyala Ha
Bhikari Wo Jsi Hirs-O-Hawas Ne Mar Dala Ha
Mata-E-Deen-O-Danish Nafs K Hathoo Se Lutwa Kr
Sukoon-E-Qalb Ki Doolat Hawas Ki Bheent Charwa Kr
Luta Kar Saari Kunji Gaflatoo Ki Is Yaa K Daldal Ma
Sahara Laine Aaya Ho Terey Kabey K Aanchal Ma
Gunaho Ki Lipat Se Kainaat-E-Qalb Afsurda
Irade Mazhamal, Himmat Shakista, Hosley Murda
Kha Se Lao Taqat Dil Ki Sachi Tarjumani Ki
K Is Janjhal Ma Guzri Ha Gharyaan Zindagani Ki
Khulasa Ye K Jal Bhun Kr Apni Rooh Siyahi Se
Sarapa Patr Ban Kr Apni Halat Ki Tabahi Se
Terey Darbar Ma Laya Hoo Apni Ab Zaboo Hali
Terey Chawkhat K Laiq Har Emal Se Haath Hain Khaali
Ye Tera Ghar Terey Mehr Ka Darbar Ha Moula
Srapa Noor Ha Muhbat-E-Inbaar Ha Moula
Teri Chawkhat K Jo Aadab Hain Ma Un Se Khali Hoo
Nhi Jis Ko Saleeqa Mangney Ka Wo Sawali Hoo
Zaban Garq-E-Nidamat Dil Ki Naqiss Tarjumani Per
Khudaya Rehm Meri Is Zabaan-E-Zubani Per
K Aankhey Khushk Hain In Ko Roona Nhi Aata
Sulagtey Daag Hain Dil Ma Jinhien Dhoona Nhi Aata
Elahi Teri Chawkhat Per Bhikari Ban K Aaya Hoo
Sarapa Patr Hoo Ijz-O-Nidamat Saath Laya Hoo
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






