Poetries by ڈاکٹر محمد علی قیصر
جذبات کی لہروں میں کنارہ نہ ملے گا جذبات کی لہروں میں کنارہ نہ ملے گا
ہر سو بھنور ہیں، سہارا نہ ملے گا
اِن حسرتوں کو دل میں نہ یوں بسا کے رکھنا
ٹوٹا محل کانچ کا تو پارہ پارہ نہ ملے گا
منڈلاتے رہے ابرِ خواہشاں آسمانِ دل
چاند کی اُمید کہاں؟ تارا نہ ملے گا
بیچ دلدل نہ بلاؤ چارہ جوئی کے لئے
چارہ گر نہ رہے گا، چارہ نہ ملے گا
عشق میں گوشہءِ تنہائی ضروری تو نہیں
ترکِ دنیا وصالِ یار، عشق سارا نہ ملے گا
اصول پسند اعتدال میں رہنے والوں میں
شاید وادیءِ دنیا میں کوئی شخص ہارا نہ ملے گا
چھوٹ پائے نہ وقت کی گاڑی خیال رہے قیصرؔ
گزرا اِک لمحہ تا ابد دوبارہ نہ ملے گا
ڈاکٹر محمد علی قیصر
ہر سو بھنور ہیں، سہارا نہ ملے گا
اِن حسرتوں کو دل میں نہ یوں بسا کے رکھنا
ٹوٹا محل کانچ کا تو پارہ پارہ نہ ملے گا
منڈلاتے رہے ابرِ خواہشاں آسمانِ دل
چاند کی اُمید کہاں؟ تارا نہ ملے گا
بیچ دلدل نہ بلاؤ چارہ جوئی کے لئے
چارہ گر نہ رہے گا، چارہ نہ ملے گا
عشق میں گوشہءِ تنہائی ضروری تو نہیں
ترکِ دنیا وصالِ یار، عشق سارا نہ ملے گا
اصول پسند اعتدال میں رہنے والوں میں
شاید وادیءِ دنیا میں کوئی شخص ہارا نہ ملے گا
چھوٹ پائے نہ وقت کی گاڑی خیال رہے قیصرؔ
گزرا اِک لمحہ تا ابد دوبارہ نہ ملے گا
ڈاکٹر محمد علی قیصر
جب چل پڑیں جانبِ منزل، دشواریوں کی پرواہ کون کرے؟ جب چل پڑیں جانبِ منزل، دشواریوں کی پرواہ کون کرے؟
طوفان آئے یا بارش برسے، علالت و بیماریوں کی پرواہ کون کرے؟
میدان ہو جنگ یا عشق کا، کوئی فرق نہیں دونوں میں
اوڑھا ہو لبادہ جنوں کا، نیزے کلہاڑیوں کی پرواہ کون کرے؟
وصل، ہجر، انتظار، ہر لمحہ حسین، بِن عشق زندگی کے لمحات سے
جب آتشِ عشق ہو سینے میں، چنگاڑیوں کی پرواہ کون کرے؟
ہو میکدہ یا ہو کوئی در، تیرا ساتھ ہو ساقی عمر بھر
جو پلائے جام تو پیار کے، تو خماریوں کی پرواہ کون کرے؟
وفا، جفا، رضاء کا سوال ہو، یا کئے پہ اپنے ملال ہو
ہر حال میں جینا سیکھ لے تُو، جہاں ہاریوں کی پرواہ کون کرے؟
جو ہو دل میں تیرے عکس میرا، میری دھڑکنوں میں تڑپ تیری
چاہے کرتا رہے سارا جہاں، دل آزاریوں کی پرواہ کون کرے؟
تیرا قرب ہو یا کہ جدائی ہو، تیری یاد نَس نَس سمائی ہو
دلوں پہ زمانہ چلاتا رہے، قیصرؔ آریوں ک ی پرواہ کون کرے؟
ڈاکٹر محمد علی قیصر
طوفان آئے یا بارش برسے، علالت و بیماریوں کی پرواہ کون کرے؟
میدان ہو جنگ یا عشق کا، کوئی فرق نہیں دونوں میں
اوڑھا ہو لبادہ جنوں کا، نیزے کلہاڑیوں کی پرواہ کون کرے؟
وصل، ہجر، انتظار، ہر لمحہ حسین، بِن عشق زندگی کے لمحات سے
جب آتشِ عشق ہو سینے میں، چنگاڑیوں کی پرواہ کون کرے؟
ہو میکدہ یا ہو کوئی در، تیرا ساتھ ہو ساقی عمر بھر
جو پلائے جام تو پیار کے، تو خماریوں کی پرواہ کون کرے؟
وفا، جفا، رضاء کا سوال ہو، یا کئے پہ اپنے ملال ہو
ہر حال میں جینا سیکھ لے تُو، جہاں ہاریوں کی پرواہ کون کرے؟
جو ہو دل میں تیرے عکس میرا، میری دھڑکنوں میں تڑپ تیری
چاہے کرتا رہے سارا جہاں، دل آزاریوں کی پرواہ کون کرے؟
تیرا قرب ہو یا کہ جدائی ہو، تیری یاد نَس نَس سمائی ہو
دلوں پہ زمانہ چلاتا رہے، قیصرؔ آریوں ک ی پرواہ کون کرے؟
ڈاکٹر محمد علی قیصر
کئی سالوں بعد خوشیوں بھرا، اِک سال ملا جو گزر گیا کئی سالوں بعد خوشیوں بھرا، اِک سال ملا جو گزر گیا
دامن میں ہوں گے پھر رنج و غم، یہی تیر دل میں اُتر گیا
گلشن نہیں جو گل پا سکوں، ہوں صحرا نصیب میں جلنا ہے
جو وجہ بنا مجھ پہ ہریالی کا، ابر ہرجائی وہ بکھر گیا
نئے شپ و روز نئے زخم لئے، نئی دوریاں یہ نئے فاصلے
ہیں منتظر مایوسیاں، مجبوریاں، اِن سے ملا میں جدھر گیا
کچھ طلب تھی نہ تلاش تھی، نہ آس تھی، نہ پیاس تھی
کچھ مل گیا، کچھ پا لیا، جسے پا لیا وہ بچھڑ گیا
نہ تھا قافلہ کوئی ساتھ میں، چلتے رہے اکیلے راہوں پہ
منزل نہ ملی ڈھلی شامِ عمر، اپنا تو یونہی کٹ سفر گیا
اِک اجنبی اِک موڑ پہ، بنا ہمسفر کچھ لمحوں کا
جب خاک چھوڑی اِن قدموں نے، میں اِدھر گیا، وہ اُدھر گیا
تمہیں عشقِ لافانی کی طلب رہی، نہ کر سکا کوئی بھی تمھیں
یہ تو آگ تھی کود آگ میں، قیصرؔ ہی تھا بے خطر گیا
ڈاکٹر محمد علی قیصر
دامن میں ہوں گے پھر رنج و غم، یہی تیر دل میں اُتر گیا
گلشن نہیں جو گل پا سکوں، ہوں صحرا نصیب میں جلنا ہے
جو وجہ بنا مجھ پہ ہریالی کا، ابر ہرجائی وہ بکھر گیا
نئے شپ و روز نئے زخم لئے، نئی دوریاں یہ نئے فاصلے
ہیں منتظر مایوسیاں، مجبوریاں، اِن سے ملا میں جدھر گیا
کچھ طلب تھی نہ تلاش تھی، نہ آس تھی، نہ پیاس تھی
کچھ مل گیا، کچھ پا لیا، جسے پا لیا وہ بچھڑ گیا
نہ تھا قافلہ کوئی ساتھ میں، چلتے رہے اکیلے راہوں پہ
منزل نہ ملی ڈھلی شامِ عمر، اپنا تو یونہی کٹ سفر گیا
اِک اجنبی اِک موڑ پہ، بنا ہمسفر کچھ لمحوں کا
جب خاک چھوڑی اِن قدموں نے، میں اِدھر گیا، وہ اُدھر گیا
تمہیں عشقِ لافانی کی طلب رہی، نہ کر سکا کوئی بھی تمھیں
یہ تو آگ تھی کود آگ میں، قیصرؔ ہی تھا بے خطر گیا
ڈاکٹر محمد علی قیصر