Poetries by Engr. Ali Azam
فصل بہار میں منظر خزاں کا ہے فصل بہار میں منظر خزاں کا ہے
دہن گلاب بھی خار زباں سا ہے
برگ گلاب میں پہلی مہک نہیں
گل جانفزاء تھا جو خالی نشاں سا ہے
حالت پہ تیری رو کے بلبل بھی اڑ گئی ہے
جس کو رشک تھا تجھ پہ اس کا گماں سا ہے
کچھ تو بتا اۓ ساقی کیوں رنگ اسکا بدلا
مستی میں تیری مئے کی زہر فنا سا ہے
Ali Azam
دہن گلاب بھی خار زباں سا ہے
برگ گلاب میں پہلی مہک نہیں
گل جانفزاء تھا جو خالی نشاں سا ہے
حالت پہ تیری رو کے بلبل بھی اڑ گئی ہے
جس کو رشک تھا تجھ پہ اس کا گماں سا ہے
کچھ تو بتا اۓ ساقی کیوں رنگ اسکا بدلا
مستی میں تیری مئے کی زہر فنا سا ہے
Ali Azam
کل شب میں نے سپنا دیکھا کل شب میں نے سپنا دیکھا
تجھ کو میں نے اپنا دیکھا
جو اپنا تھا دور ہوا ہے
دل میرا رنجور ہوا ہے
میں اب ان کی سیخ بنا ہوں
غم کو پینا سیکھ رہا ہوں
بھیگی بھیگی آنکھوں میں
نہ سپنا ہے نہ اپنا ہے
محشر جو لگایا جاۓ گا
انصاف دیلایا جاۓ گا
ان کو بھی بلایا جاۓ گا
ہم کو بھی بلایا جاۓ گا
ہم زخم دیکھاتے جايئں گے
ان کو یہ بتاتے جايئں گے
یہ زخم نہیں تلواروں کے
یہ زخم ہیں تیرے پیاروں کے
جو گلیوں بھی کہتے تھے
اب نام لیا تو ماریں گے
تنہا ہوں میں تنہائيوں میں
ڈوبا ہوں اب گہرائيوں میں
میرے دل کو بھی سلجھاؤ نا
میرے پاس کبھی تم آو نا
میں تم کو درد سناتا ہوں
کچھ مجھ کو بھی بتلاؤ نا
آنکھوں میں اب نیند نہیں
مجھے گہری نیند سلاؤ نا Engr. Ali Azam
تجھ کو میں نے اپنا دیکھا
جو اپنا تھا دور ہوا ہے
دل میرا رنجور ہوا ہے
میں اب ان کی سیخ بنا ہوں
غم کو پینا سیکھ رہا ہوں
بھیگی بھیگی آنکھوں میں
نہ سپنا ہے نہ اپنا ہے
محشر جو لگایا جاۓ گا
انصاف دیلایا جاۓ گا
ان کو بھی بلایا جاۓ گا
ہم کو بھی بلایا جاۓ گا
ہم زخم دیکھاتے جايئں گے
ان کو یہ بتاتے جايئں گے
یہ زخم نہیں تلواروں کے
یہ زخم ہیں تیرے پیاروں کے
جو گلیوں بھی کہتے تھے
اب نام لیا تو ماریں گے
تنہا ہوں میں تنہائيوں میں
ڈوبا ہوں اب گہرائيوں میں
میرے دل کو بھی سلجھاؤ نا
میرے پاس کبھی تم آو نا
میں تم کو درد سناتا ہوں
کچھ مجھ کو بھی بتلاؤ نا
آنکھوں میں اب نیند نہیں
مجھے گہری نیند سلاؤ نا Engr. Ali Azam