Poetries by H.M.AwaiS
یا ملاقات کے امکان سے باہر ہو جا ا ملاقات کے امکان سے باہر ہو جا
یا کسی دن مری فرصت کو میسّر ہو جا
تجھ کو معلوم نہیں ہے مری خواہش کیا ہے
مجھ پہ احسان نہ کر اور سبک سر ہو جا
ارتقا کیا تری قسمت میں نہیں لکھا ہے؟
اب تمنّا سے گزر میرا مقدّر ہو جا
بے حسی گر تری فطرت ہے تو ایسا کبھی کر
اپنے حق میں بھی کسی روز تُو پتھر ہو جا
اس سے پہلے تو غزل بھی تھی گریزاں مجھ سے
حالتِ دل تُو ذرا اور بھی ابتر ہو جا
میں جہاں پائوں رکھوں واں سے بگولا اُٹھّے
ریگِ صحرا مری وحشت کے برابر ہو جا
اے مرے حرفِ سخن تُو مجھے حیراں کر دے
تُو کسی دن مری امید سے بڑھ کر ہو جا H.M.AwaiS
یا کسی دن مری فرصت کو میسّر ہو جا
تجھ کو معلوم نہیں ہے مری خواہش کیا ہے
مجھ پہ احسان نہ کر اور سبک سر ہو جا
ارتقا کیا تری قسمت میں نہیں لکھا ہے؟
اب تمنّا سے گزر میرا مقدّر ہو جا
بے حسی گر تری فطرت ہے تو ایسا کبھی کر
اپنے حق میں بھی کسی روز تُو پتھر ہو جا
اس سے پہلے تو غزل بھی تھی گریزاں مجھ سے
حالتِ دل تُو ذرا اور بھی ابتر ہو جا
میں جہاں پائوں رکھوں واں سے بگولا اُٹھّے
ریگِ صحرا مری وحشت کے برابر ہو جا
اے مرے حرفِ سخن تُو مجھے حیراں کر دے
تُو کسی دن مری امید سے بڑھ کر ہو جا H.M.AwaiS
خَلقتِ شہر عجب خواب میں کھوئی ہُوئی ہے خَلقتِ شہر عجب خواب میں کھوئی ہُوئی ہے
جاگتے میں بھی یہ لگتا ہے کہ سوئی ہُوئی ہے
اب جو یہ خار بدن چَھید رہا ہے میرا
فصل یہ بھی مِرے اَجداد کی بوئی ہُوئی ہے
مَیں تِری یاد سے غافِل رہُوں ' کب ممکِن ہے
اک سُوئی تُو نے مِرے دل میں چُبھوئی ہُوئی ہے
یہ تِری چشم سلامت رہے ' اَے میرے غزال
تار ِ اَبرُو میں مِری جان پِروئی ہُوئی ہے
لب تِرا دیکھ ' مجھے مِیرؔ کی یاد آتی ہے
پَنکھڑی جیسے مَے ء ناب سے دھوئی ہُوئی ہے H.M.AwaiS
جاگتے میں بھی یہ لگتا ہے کہ سوئی ہُوئی ہے
اب جو یہ خار بدن چَھید رہا ہے میرا
فصل یہ بھی مِرے اَجداد کی بوئی ہُوئی ہے
مَیں تِری یاد سے غافِل رہُوں ' کب ممکِن ہے
اک سُوئی تُو نے مِرے دل میں چُبھوئی ہُوئی ہے
یہ تِری چشم سلامت رہے ' اَے میرے غزال
تار ِ اَبرُو میں مِری جان پِروئی ہُوئی ہے
لب تِرا دیکھ ' مجھے مِیرؔ کی یاد آتی ہے
پَنکھڑی جیسے مَے ء ناب سے دھوئی ہُوئی ہے H.M.AwaiS