Poetries by kafait ullah khan
ھمیں تمھاری یاد نے ہمیں تمھاری یاد نے یوں بے سبب تڑپا رکھا ہے
زیست کی فریاد نے یوں بےسبب تڑپارکھا ہے
بےرونقیں زندگی یوں عاشقی میں ڈھل گئی
عشق کے صیادنے یوں بےسبب تڑپا رکھا ہے
میرے دل کی چاہتوں کے سب دریچے کھول کر
اسکو کس عناد نے یوں بے سبب تڑپا رکھا ہے
دل کہے تو جان دے کر پیار اسکا مول لے لوں
حسن کی افتاد نے یوں بےسبب تڑپا رکھا ہے kafait ullah khan
زیست کی فریاد نے یوں بےسبب تڑپارکھا ہے
بےرونقیں زندگی یوں عاشقی میں ڈھل گئی
عشق کے صیادنے یوں بےسبب تڑپا رکھا ہے
میرے دل کی چاہتوں کے سب دریچے کھول کر
اسکو کس عناد نے یوں بے سبب تڑپا رکھا ہے
دل کہے تو جان دے کر پیار اسکا مول لے لوں
حسن کی افتاد نے یوں بےسبب تڑپا رکھا ہے kafait ullah khan
آنکھوں سے آنسو بہہ کر دل میں آنکھوں سے آنسو بہہ کر دل میں اتر کیوں جاتے ہیں
خواب سہانی دھرتی کے پل بھر میں بکھر کیوں جاتے ہیں
روتے ہنستے چہرے لفظ کیوں آنسو بنتے ہیں
ملنے والے لوگ پیارے مل کے بچھڑ کیوں جاتے ہیں
سارے دکھھ ہی دنیا کے یوں غرباء پہہ کیوں پڑتے ہیں
دعوٰٰی عشق کا کرنے والے اس سے مکر کیوں جاتے ہیں
دنیا کے دستور عجب ہیں کیفی انسے پوچھتا ہوں
عشق کے درد میں پکنے والے ہجر سے مر کیوںجاتے ہیں kafait ULLah Khan
خواب سہانی دھرتی کے پل بھر میں بکھر کیوں جاتے ہیں
روتے ہنستے چہرے لفظ کیوں آنسو بنتے ہیں
ملنے والے لوگ پیارے مل کے بچھڑ کیوں جاتے ہیں
سارے دکھھ ہی دنیا کے یوں غرباء پہہ کیوں پڑتے ہیں
دعوٰٰی عشق کا کرنے والے اس سے مکر کیوں جاتے ہیں
دنیا کے دستور عجب ہیں کیفی انسے پوچھتا ہوں
عشق کے درد میں پکنے والے ہجر سے مر کیوںجاتے ہیں kafait ULLah Khan
ہماری اس غریبی نے ہمیں ہمارے ہاتھھ میں ہوتا تو دنیا کو ہلا دیتے
مظالم کی سبھی شمعیں اشارے سے بجھا دیتے
ہماری اس غریبی نے ہمیں مجرم بنا ڈالا
وگرنہ ہم محبت کا دیا کوئی جلا لیتے
ہمارے ملک پہ گرچہ تھی ظالم کی حکومت پر
لہو اپنا جلا لیتے وطن اپنا سجا لیتے
اگرچہ اس نے چاہت میں بہت قربانیاں دی ہیں
مگر ہم بھی سمندر سے کوئی سیپی چرا لیتے
نہ اسکے نقش بھولے ہی kafait ullah khan
مظالم کی سبھی شمعیں اشارے سے بجھا دیتے
ہماری اس غریبی نے ہمیں مجرم بنا ڈالا
وگرنہ ہم محبت کا دیا کوئی جلا لیتے
ہمارے ملک پہ گرچہ تھی ظالم کی حکومت پر
لہو اپنا جلا لیتے وطن اپنا سجا لیتے
اگرچہ اس نے چاہت میں بہت قربانیاں دی ہیں
مگر ہم بھی سمندر سے کوئی سیپی چرا لیتے
نہ اسکے نقش بھولے ہی kafait ullah khan