Poetries by Muhammad Affan Ahmed
آج نجانے کیا ہوا آج نجانے کیا ہوا
ایسا لگا
جیسے کوئی نعمت مجھ سے چھن گئی
وہ رجائیت، وہ اطمینان قلب کھو گئے
جیسے جسم سے روح ہی نکل گئ
کیا کرے بندہء ناچیز اس عالم ستم گر میں
ذرا سکون ملا تو یک دم تلوار سی کھب گئ
اس خارزار جہاں میں تھی امید کی سردبازاری،
بس اک'عفان'ہی سمجھا تھا کہ اسکی قسمت کھل گئ
بس کیا ہوا کہ میں نے خود ماری اپنے پیر پر کلہاڑی
بس کیا کہوں آج پھر سے نماز عسر مجھ سے چھٹ گئی Muhammad Affan Ahmed
ایسا لگا
جیسے کوئی نعمت مجھ سے چھن گئی
وہ رجائیت، وہ اطمینان قلب کھو گئے
جیسے جسم سے روح ہی نکل گئ
کیا کرے بندہء ناچیز اس عالم ستم گر میں
ذرا سکون ملا تو یک دم تلوار سی کھب گئ
اس خارزار جہاں میں تھی امید کی سردبازاری،
بس اک'عفان'ہی سمجھا تھا کہ اسکی قسمت کھل گئ
بس کیا ہوا کہ میں نے خود ماری اپنے پیر پر کلہاڑی
بس کیا کہوں آج پھر سے نماز عسر مجھ سے چھٹ گئی Muhammad Affan Ahmed
آرزوۓ عروج ٹھانی تھی دل میں اس نے اک آرزوۓ عروج
کہ کردار باکمال ہو ، شجاع خوب خوب
کروں میں کچھ ایسا کہ عرض حیران ہوجاۓ
ٹالوں میں وہ بلا، کسے ٹالی نہیں کبھو
ملے اسے جلال و اضطراب و استطاع
مگر بلا نہ آئ ، بلا ٹالتا وہ کیا
جب کام ہی نہ تھا تو کامیاب کیا ہوتا
نہ تھا کوئ فرعون تو موسی وہ کیا ہوتا
جانا ، کہ مصیبت بھی ہے اک نعمت خدا
مانا ، کہ اہم ہیں یہ فتن ، قلق اور زبوں
نہیں ہے دنیاۓ افریت و عزازیل بلا مقصد
دجال نہ فضول نہ یاجوج وا ماجوج. Muhammad Affan Ahmed
کہ کردار باکمال ہو ، شجاع خوب خوب
کروں میں کچھ ایسا کہ عرض حیران ہوجاۓ
ٹالوں میں وہ بلا، کسے ٹالی نہیں کبھو
ملے اسے جلال و اضطراب و استطاع
مگر بلا نہ آئ ، بلا ٹالتا وہ کیا
جب کام ہی نہ تھا تو کامیاب کیا ہوتا
نہ تھا کوئ فرعون تو موسی وہ کیا ہوتا
جانا ، کہ مصیبت بھی ہے اک نعمت خدا
مانا ، کہ اہم ہیں یہ فتن ، قلق اور زبوں
نہیں ہے دنیاۓ افریت و عزازیل بلا مقصد
دجال نہ فضول نہ یاجوج وا ماجوج. Muhammad Affan Ahmed