Poetries by mazhar iqbal
میں اب بھی یاد رکھتا ہوں میں اب بھی یاد رکھتا ہوں
وہ سہانا وقت جو بیت گیا
وہ رقص جنوں جو ہار گیا
وہ غم جو مجھ سے جیت گیا
پاس آنا میرے
اور شرمانا تیرا
کبھی روٹھ جانا تیرا
کبھی مان جانا تیرا
مذاق ہی مذاق میں
وہ تڑپانا تیرا
داغ دل پہ لگا گیا
ہاں وہ وقت چلا گیا
بس یادیں دے کر چلا گیا
بس یادیں دے کر چلا گیا mazhar iqbal samar
وہ سہانا وقت جو بیت گیا
وہ رقص جنوں جو ہار گیا
وہ غم جو مجھ سے جیت گیا
پاس آنا میرے
اور شرمانا تیرا
کبھی روٹھ جانا تیرا
کبھی مان جانا تیرا
مذاق ہی مذاق میں
وہ تڑپانا تیرا
داغ دل پہ لگا گیا
ہاں وہ وقت چلا گیا
بس یادیں دے کر چلا گیا
بس یادیں دے کر چلا گیا mazhar iqbal samar
فسانہ دل کی شہرت نہ تھی جفا کرنا میری عادت نہ تھی
وفا کرنا تیری فطرت نہ تھی
راہ طلب میں بڑھتے رہے
شاید ملن ہی قسمت نہ تھی
وقت رخصت ہی تم آ جاتے
اور تو کوئی حسرت نہ تھی
کیوں نہ دوست جشن مناتے
دل ٹوٹا تھا قیامت نہ تھی
غنیمت جاں تھا تم سے ملنا
پر تمہیں بھی فرصت نہ تھی
کیونکر اسے خبر ملتی مظہر
فسانہ دل کی شہرت نہ تھی mazhar iqbal samar
وفا کرنا تیری فطرت نہ تھی
راہ طلب میں بڑھتے رہے
شاید ملن ہی قسمت نہ تھی
وقت رخصت ہی تم آ جاتے
اور تو کوئی حسرت نہ تھی
کیوں نہ دوست جشن مناتے
دل ٹوٹا تھا قیامت نہ تھی
غنیمت جاں تھا تم سے ملنا
پر تمہیں بھی فرصت نہ تھی
کیونکر اسے خبر ملتی مظہر
فسانہ دل کی شہرت نہ تھی mazhar iqbal samar
زخم زخم ہے اور مسکرایا ہے بہت آسانی سے تمہیں بھلایا ہے
دیوانہ جاں سے ہی گزر آیا ہے
کیوں اداس ہیں تیری آنکھیں
کیا پھر کوئی خواب نیا سجایا ہے
وقت رخصت بتائیں گے آنسو
کون اپنا ہے اور کون پرایا ہے
حسبِ آرزو کوئی نہیں ملتا
فریب قسمت میں کیوں آیا ہے
شاید کوئی زخم دل مہکا ہوگا
آج پھر سے وہ ہمیں یاد آیا ہے
مظہر وہ شخص عجیب ہے کتنا
زخم زخم ہے اور مسکرایا ہے mazhar iqbal samar
دیوانہ جاں سے ہی گزر آیا ہے
کیوں اداس ہیں تیری آنکھیں
کیا پھر کوئی خواب نیا سجایا ہے
وقت رخصت بتائیں گے آنسو
کون اپنا ہے اور کون پرایا ہے
حسبِ آرزو کوئی نہیں ملتا
فریب قسمت میں کیوں آیا ہے
شاید کوئی زخم دل مہکا ہوگا
آج پھر سے وہ ہمیں یاد آیا ہے
مظہر وہ شخص عجیب ہے کتنا
زخم زخم ہے اور مسکرایا ہے mazhar iqbal samar
ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے ہونٹوں پہ محبت کے فسانے نہیں آتے
ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے
پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سوتے میں ہماری
آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے
دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے
اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے
یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں
اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
اس شہر کے بادل تیری زلفوں کی طرح ہیں
یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے
احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں
آتے ہیں مگر دل کو دکھانے نہیں آتے mazhar iqbal samar
ساحل پہ سمندر کے خزانے نہیں آتے
پلکیں بھی چمک اٹھتی ہیں سوتے میں ہماری
آنکھوں کو ابھی خواب چھپانے نہیں آتے
دل اجڑی ہوئی ایک سرائے کی طرح ہے
اب لوگ یہاں رات جگانے نہیں آتے
یارو نئے موسم نے یہ احسان کیے ہیں
اب یاد مجھے درد پرانے نہیں آتے
اڑنے دو پرندوں کو ابھی شوخ ہوا میں
پھر لوٹ کے بچپن کے زمانے نہیں آتے
اس شہر کے بادل تیری زلفوں کی طرح ہیں
یہ آگ لگاتے ہیں بجھانے نہیں آتے
احباب بھی غیروں کی ادا سیکھ گئے ہیں
آتے ہیں مگر دل کو دکھانے نہیں آتے mazhar iqbal samar