Poetries by Mubasher Nazar
ظلمت تراش ظلمت تراش دستِ ستم گر نہیں ہوں میں
اک عَبْدِ کردگار ,ہوں کافر نہیں ہُوں میں
جیون کے پھول جس سے کھلیں میں ہوں وہ صبا
گل ہوں چراغ جس سے وہ صر صر نہیں ہوں میں
دریا کو آبشار کو جھیلوں کو ہے خبر
ساگر بکف ہوں موج۔ سمندر نہیں ہوں میں
تیری خوشی کے واسطے قابیل کی طرح
ہابیل مار دوں وہ برادر نہیں ہوں میں
جامہ سرا ہوں دل سے تراشے ہزار بیت
جو بت تراشتا ہے وہ آزر نہیں ہوں میں
میرا وجود عشقِ حقیقی ہے مرتضیٰ
رتبے میں اک ملنگ سے کمتر نہیں ہُوں میں Murtaza Zaman Gardezi
اک عَبْدِ کردگار ,ہوں کافر نہیں ہُوں میں
جیون کے پھول جس سے کھلیں میں ہوں وہ صبا
گل ہوں چراغ جس سے وہ صر صر نہیں ہوں میں
دریا کو آبشار کو جھیلوں کو ہے خبر
ساگر بکف ہوں موج۔ سمندر نہیں ہوں میں
تیری خوشی کے واسطے قابیل کی طرح
ہابیل مار دوں وہ برادر نہیں ہوں میں
جامہ سرا ہوں دل سے تراشے ہزار بیت
جو بت تراشتا ہے وہ آزر نہیں ہوں میں
میرا وجود عشقِ حقیقی ہے مرتضیٰ
رتبے میں اک ملنگ سے کمتر نہیں ہُوں میں Murtaza Zaman Gardezi
راہنما کل کارواں کے راہنما کل کارواں کے راہزن
عزتوں کا لوٹتے رہتے ہیں دھن
فکر انساں پر ہے چھای تیرگی
بے چراغاں جابجا اہل سخن
گل میں رنگ و بو نہیں تو جان لے
دشت کی مانند ہے تیرا چمن
عاشقوں نے رزم گاہ عشق میں
خون میں تر ہو کے پہنا ہے کفن
ناٰیز نزاع میں جھونکے شیخ نے
مرتضی سے نجم وہ بھی سیم تن murtaza zaman gardezi
عزتوں کا لوٹتے رہتے ہیں دھن
فکر انساں پر ہے چھای تیرگی
بے چراغاں جابجا اہل سخن
گل میں رنگ و بو نہیں تو جان لے
دشت کی مانند ہے تیرا چمن
عاشقوں نے رزم گاہ عشق میں
خون میں تر ہو کے پہنا ہے کفن
ناٰیز نزاع میں جھونکے شیخ نے
مرتضی سے نجم وہ بھی سیم تن murtaza zaman gardezi
ملے دھرتی پہ امبر ملے دھرتی پہ امبر کیسے کیسے
ولی الللہ پعمبر کیسے کیسے
خدایا عشق میں تیرے اتھے ہیں
سناں کی نوک پر سر کیسے کیسے
دل معصوم کو لحظہ بہ لحظہ
ملے رہ میں ستمگر کیسے کیسے
اجل کو مسکرا کر جا ملے ہیں
فلک صورت گل تر کیسے کیسے
اٹھایا پرچم حق جس کسی نے
چلے ناوک اسی پر کیسے کیسے
انیس و جوش فیض و مرتضی سے
ہوے جگ میں سخن ور کیسے کیسے murtaza zaman gardezi
ولی الللہ پعمبر کیسے کیسے
خدایا عشق میں تیرے اتھے ہیں
سناں کی نوک پر سر کیسے کیسے
دل معصوم کو لحظہ بہ لحظہ
ملے رہ میں ستمگر کیسے کیسے
اجل کو مسکرا کر جا ملے ہیں
فلک صورت گل تر کیسے کیسے
اٹھایا پرچم حق جس کسی نے
چلے ناوک اسی پر کیسے کیسے
انیس و جوش فیض و مرتضی سے
ہوے جگ میں سخن ور کیسے کیسے murtaza zaman gardezi
فکر جو فکر جو انساں کی بیمار ہے
ساز رنگ آکہی درکار ہے
کو بہ کو روشن کرو قندیل کو
نوع انساں کا یہی اقدار ہے
سارے عالم کے لیے قرآن میں
حکمتوں کا بےبہا امبار ہے
اک تعلق صاحب کردار سے
وہ رکھے جو صاحب کردار ہے
عکس میرا جو دکھائے ھو بہ ھو
ایک ایسا آئینہ درکار ہے
اس نے میرے سر کو دوپارہ کیا
جس پہناءئ مجھے دستار ہے
صاحب فہم و فراست مرتضی
قوم کی تقدیر کا معمار ہے Murtaza Gardezi
ساز رنگ آکہی درکار ہے
کو بہ کو روشن کرو قندیل کو
نوع انساں کا یہی اقدار ہے
سارے عالم کے لیے قرآن میں
حکمتوں کا بےبہا امبار ہے
اک تعلق صاحب کردار سے
وہ رکھے جو صاحب کردار ہے
عکس میرا جو دکھائے ھو بہ ھو
ایک ایسا آئینہ درکار ہے
اس نے میرے سر کو دوپارہ کیا
جس پہناءئ مجھے دستار ہے
صاحب فہم و فراست مرتضی
قوم کی تقدیر کا معمار ہے Murtaza Gardezi
رحمت کے تاجدار کی مدحت کریں گے ہم رحمت کے تاجدار کی مدحت کریں گے ہم
سانسوں پہ حرف صلے اعلی ہی لکھیں گے ہم
منگتے رسول پاک کےدل سے بننے گے ہم
جا کر مدینہ پھولوں سے جھولی بھریں گے ہم
چوکھٹ پہ جا کے ماتھے کو اپنی دھریں گے ہم
ذہن و دل و نگاہ میں تارے بھریں گے ہم
ہم جانثار احمد مرسل ہیں تاب حشر
دل کو چراغ نعت سے روشن رکھیں گے ہم
وا ہو گا اس کے واسطے باغ ارم کادر
یا مصطفٰی کا ورد جو دل سے کریں گے ہم
اے مرتضی نبی کی کرامات کے طفیل
علم و ادب کے شہر کی جانب چلیں گے ہم Murtaza Zaman Gardezi
سانسوں پہ حرف صلے اعلی ہی لکھیں گے ہم
منگتے رسول پاک کےدل سے بننے گے ہم
جا کر مدینہ پھولوں سے جھولی بھریں گے ہم
چوکھٹ پہ جا کے ماتھے کو اپنی دھریں گے ہم
ذہن و دل و نگاہ میں تارے بھریں گے ہم
ہم جانثار احمد مرسل ہیں تاب حشر
دل کو چراغ نعت سے روشن رکھیں گے ہم
وا ہو گا اس کے واسطے باغ ارم کادر
یا مصطفٰی کا ورد جو دل سے کریں گے ہم
اے مرتضی نبی کی کرامات کے طفیل
علم و ادب کے شہر کی جانب چلیں گے ہم Murtaza Zaman Gardezi
حمد حمد و نعت اور منقبت پڑھنے پڑھانے کے لیے
میری نسلوں میں ہو کوئی ہر زمانے کے لیے
رب کعبہ بخش دے تو لحن داودی مجہے
منقبت شہ کی زمانے کو سنانے کے لیے
نینوا کی خاک کا مجہکو مصحلہ ہو عطا
ےا خدایا تیرے آگے سر جھکانے کے لیے
تم نمازوں میں گواہی دو علئ کے نام کی
حددت دوزخ سے دل اپنا بپانے کے لیے
مشکلوں میں ہر گھڑی تو یا علئ کا ورد رکھ
مشعل امید ہر لحظہ جلانے کے لیے
ایک قرآں ایک جھولہ ایک غازئ کا علم
ہیں یہی سامان یاروں گھر سجھانے کے لیے murtaza zaman gardezi
میری نسلوں میں ہو کوئی ہر زمانے کے لیے
رب کعبہ بخش دے تو لحن داودی مجہے
منقبت شہ کی زمانے کو سنانے کے لیے
نینوا کی خاک کا مجہکو مصحلہ ہو عطا
ےا خدایا تیرے آگے سر جھکانے کے لیے
تم نمازوں میں گواہی دو علئ کے نام کی
حددت دوزخ سے دل اپنا بپانے کے لیے
مشکلوں میں ہر گھڑی تو یا علئ کا ورد رکھ
مشعل امید ہر لحظہ جلانے کے لیے
ایک قرآں ایک جھولہ ایک غازئ کا علم
ہیں یہی سامان یاروں گھر سجھانے کے لیے murtaza zaman gardezi
زخم مسکراتا رہا ہر زخم مسکراتا رہا میرے حال پر
لیکن تھی زیست رقص کناں اپنے تال پر
ابلیس سے ہر آن عداوت ہے اس لیے
قبضہ خدا کا ہے مرے مکر و خیال پر
شاہکار کردگار ہے انسان خلق میں
جس کی نظر ہے وسعت اوج و زوال پر
موجوں کے خلفشار پہ گہری نگہ رکھ
کشتی چلے گی بہر مئں تب اعتدال پر
دشت جہاں میں ہم نے عزئزوں کے بار ھا
طعنوں کے تیر روک لیے دل کے ڈھال پر
بازار حسں و عشق میں تب تک ہو قیمتی
جب تک رہے گا حسں تمھارا کمال پر murtaza zaman gardezi
لیکن تھی زیست رقص کناں اپنے تال پر
ابلیس سے ہر آن عداوت ہے اس لیے
قبضہ خدا کا ہے مرے مکر و خیال پر
شاہکار کردگار ہے انسان خلق میں
جس کی نظر ہے وسعت اوج و زوال پر
موجوں کے خلفشار پہ گہری نگہ رکھ
کشتی چلے گی بہر مئں تب اعتدال پر
دشت جہاں میں ہم نے عزئزوں کے بار ھا
طعنوں کے تیر روک لیے دل کے ڈھال پر
بازار حسں و عشق میں تب تک ہو قیمتی
جب تک رہے گا حسں تمھارا کمال پر murtaza zaman gardezi
منسٹر کا اگر داماد ہوتا ترے لب پہ میری مسکان ہوتی
بلا کی زندگی میں جان ہوتی
شریروں سی گزرتی زنگانی
اگر بیگم میری شیطان ہوتی
منسٹر کا اگر داماد ہوتا
بتا گاڑی میری مہران ہوتی
ہماری جیب میں ہوتا روپیہ
مقدر جھلملاتا شان ہوتی
مرے احباب جو بدزوق ہوتے
مری دنیا بٹری ویران ہوتی
کہاں بچے بگٹرتے یوں ہمارے
اگر جو مامتا نگران ہوتی
مہکتے باغ جو میرے وطن کے
گلوں سی کوبہ کو پہچان ہوتی Murtaza Gardezi
بلا کی زندگی میں جان ہوتی
شریروں سی گزرتی زنگانی
اگر بیگم میری شیطان ہوتی
منسٹر کا اگر داماد ہوتا
بتا گاڑی میری مہران ہوتی
ہماری جیب میں ہوتا روپیہ
مقدر جھلملاتا شان ہوتی
مرے احباب جو بدزوق ہوتے
مری دنیا بٹری ویران ہوتی
کہاں بچے بگٹرتے یوں ہمارے
اگر جو مامتا نگران ہوتی
مہکتے باغ جو میرے وطن کے
گلوں سی کوبہ کو پہچان ہوتی Murtaza Gardezi
مظالم سے مظالم سے نہ فرط ذوق خون آشام سے آیا
خدا کا دین رحمت بانی اسلام سے آیا
نہایت مختصر سی بات واعظ کو بتانی ہے
قراردین و دنیا امن و استحکام سے آیا
اسی کے ہاتھ کوچوما عقیدت کے تقاضے سے
جو ہو کے روضہ ء آقاکے سقف و بام سے آیا
جہاں میں آپ سے پہلے اندھیرا ہی اندھیرا تھا
اجالا دہر میں آقا تمہارے نام سے آیا
غلام مرتضیٰ ہوں مصطفیٰ کا ہے کرم مجھ پر
مجھے دیں کا سلیقہ ان کے ہی انعام سے آیا murtaza zaman gardezi
خدا کا دین رحمت بانی اسلام سے آیا
نہایت مختصر سی بات واعظ کو بتانی ہے
قراردین و دنیا امن و استحکام سے آیا
اسی کے ہاتھ کوچوما عقیدت کے تقاضے سے
جو ہو کے روضہ ء آقاکے سقف و بام سے آیا
جہاں میں آپ سے پہلے اندھیرا ہی اندھیرا تھا
اجالا دہر میں آقا تمہارے نام سے آیا
غلام مرتضیٰ ہوں مصطفیٰ کا ہے کرم مجھ پر
مجھے دیں کا سلیقہ ان کے ہی انعام سے آیا murtaza zaman gardezi
ناموس پیغمبر ناموس پیغمبرتھی جو با فضل خدا سے
بے پردہ رسن بستہ چلی دشت بلا سے
ان کو ہی مصبیت سے نوازا گیا رن میں
وہ جس سے محبت رہی قدرت کو سدا سے
خولی نے اسے نہر کنارے ہے دبوچا
سرور کا مہکتا تھا چمن جس کی صبا سے
سر نوک سناں اسکو چڑھایا ہے عدو نے
جھلسا ہے جگر جسکا مقدر کی ہوا سے
آفت کے شکنجے میں ہے سرور کی نواسی
منہ پیٹ کے پرسا دے بشر آہ و بقا سے
میں تیری نشانی کو بچا لاؤں گی بھیا
رشتہ نہ رہے چاہے مرا سرکا ردا سے Murtaza Zaman Gardezi
بے پردہ رسن بستہ چلی دشت بلا سے
ان کو ہی مصبیت سے نوازا گیا رن میں
وہ جس سے محبت رہی قدرت کو سدا سے
خولی نے اسے نہر کنارے ہے دبوچا
سرور کا مہکتا تھا چمن جس کی صبا سے
سر نوک سناں اسکو چڑھایا ہے عدو نے
جھلسا ہے جگر جسکا مقدر کی ہوا سے
آفت کے شکنجے میں ہے سرور کی نواسی
منہ پیٹ کے پرسا دے بشر آہ و بقا سے
میں تیری نشانی کو بچا لاؤں گی بھیا
رشتہ نہ رہے چاہے مرا سرکا ردا سے Murtaza Zaman Gardezi
یا رسول اللہ یا رسول اللہ مجھکو ڈرہے اس خونخار سے
چیرتاپھرتا ہے دیں جو تیخ کے ہر وار سے
دیں کا لیکر سہارا اآج بھی جو کو با کو
ہر نمازی کو جلاتا ہے شقی انگار سے
کچھ تو سوچ اے نا سمھ مسلم جہادی کچھ تو کہ
کیا ہے پھیلا دین اِحمدزہر سے تلوار سے
کام وہ مت کیجیو جن کے بل بوتے پہ تم
کل کو روز حشر شرمندہ رہو سرکار سے
چھوڑ دوں مداح سرائی تو بتا دے کس طرح
کہ سکوں ملتا ہے مجھکو بس اسی اظہار سے
آرزو اپنی یہی ہے اے خداوندِ جلیل
کھل اٹھے میرا چمن بس آپکی مہکار سے
ہے ہمیشہ سے یہی تم سے سوال مرتضی
کس لئےتم کو ہے نفرت دین کے گلزار سے murtaza zaman gardezi
چیرتاپھرتا ہے دیں جو تیخ کے ہر وار سے
دیں کا لیکر سہارا اآج بھی جو کو با کو
ہر نمازی کو جلاتا ہے شقی انگار سے
کچھ تو سوچ اے نا سمھ مسلم جہادی کچھ تو کہ
کیا ہے پھیلا دین اِحمدزہر سے تلوار سے
کام وہ مت کیجیو جن کے بل بوتے پہ تم
کل کو روز حشر شرمندہ رہو سرکار سے
چھوڑ دوں مداح سرائی تو بتا دے کس طرح
کہ سکوں ملتا ہے مجھکو بس اسی اظہار سے
آرزو اپنی یہی ہے اے خداوندِ جلیل
کھل اٹھے میرا چمن بس آپکی مہکار سے
ہے ہمیشہ سے یہی تم سے سوال مرتضی
کس لئےتم کو ہے نفرت دین کے گلزار سے murtaza zaman gardezi
شہرِ رسول پاک شہرِ رسول پاک کو ھا سل ہوا عروج
جیسے بہار رت میں ہےگلزار کا عروج
سرور کی اہلیت نے صحرا کی گود میں
خود کو مٹا کے دین خدا کو دیا عروج
ہے جنت البقیع مین مدفون کون کون
کس کس کو دے گئی نگہ مصطفٰی عروج
بدعت نہیں ہے روضے کی جالی کو چومنا
پاتی ہے اس وسلیے سے میری دوعا عروج
وقت نماز سن جو رہے ہو شہادتیں
ملتا انہی سے دین کو ہے برملا عروج
ہیں اہل بیت پاک کے مدفن جہاں جہاں
اس شہر اس مقام کو بخشا گیا عروج
احمد کے جانثار ہیں حمزہ و مرتضٰی
تاریخ میں لکھی گئی جن کی وفا عروج Mubasher Nazar
جیسے بہار رت میں ہےگلزار کا عروج
سرور کی اہلیت نے صحرا کی گود میں
خود کو مٹا کے دین خدا کو دیا عروج
ہے جنت البقیع مین مدفون کون کون
کس کس کو دے گئی نگہ مصطفٰی عروج
بدعت نہیں ہے روضے کی جالی کو چومنا
پاتی ہے اس وسلیے سے میری دوعا عروج
وقت نماز سن جو رہے ہو شہادتیں
ملتا انہی سے دین کو ہے برملا عروج
ہیں اہل بیت پاک کے مدفن جہاں جہاں
اس شہر اس مقام کو بخشا گیا عروج
احمد کے جانثار ہیں حمزہ و مرتضٰی
تاریخ میں لکھی گئی جن کی وفا عروج Mubasher Nazar