Poetries by Muhammad Amir
کیا رہ جاتا ہے باقی اس کا تصور بھی کھو دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
میں بھی اس کی طرع رو دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
اک مدت سے خود کو تھامے ہوئے ہیں ہم
ہجر کی کہانی سنا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
کہیں تو اسے بھی ہم سے کچھ کہنے کو ہوگا
یہ خیال بھی مٹا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
بُرے شَر سے بچنے کی دعا بھی رد ہی گئی
محبت بھی چھوڑ دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
تیری بَستی کے چند سو لوگوں میں اگر
تیرا قصہ سنا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
معلوم ہے اسے میرا اس کی گلی میں انا جانا
حقیقت سے پردہ اٹھا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
تیرے ہجر کے ہر زخم سے واقف ہوں میں
درد سارے ہی لکھ دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی Muhammad Amir
میں بھی اس کی طرع رو دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
اک مدت سے خود کو تھامے ہوئے ہیں ہم
ہجر کی کہانی سنا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
کہیں تو اسے بھی ہم سے کچھ کہنے کو ہوگا
یہ خیال بھی مٹا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
بُرے شَر سے بچنے کی دعا بھی رد ہی گئی
محبت بھی چھوڑ دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
تیری بَستی کے چند سو لوگوں میں اگر
تیرا قصہ سنا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
معلوم ہے اسے میرا اس کی گلی میں انا جانا
حقیقت سے پردہ اٹھا دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی
تیرے ہجر کے ہر زخم سے واقف ہوں میں
درد سارے ہی لکھ دوں تو کیا رہ جاتا ہے باقی Muhammad Amir
خود کو اس پے مٹانے کا کیا فائدہ خود کو اس پے مٹانے کا کیا فائدہ
خیال اب اس کے آنے کا کیا فائدہ
پاس آتا بھی نہیں دور جاتا بھی نہیں
ایسی اُلجنھیں بڑھانے کا کیا فائدہ
لب و لہجہ بتا دیتا ہے دل کےسبھی راز
ایسے منہ پے مسکرانے کا کیا فائدہ
شب و روز یہ وہم کہ مر جائیں گے اب
ارے! ایسے مر مر کے جینے کا کیا فائدہ
یوں تو رہبر بھی پیاسا ہے عشق کا
رہزنوں سے اب گلہ کرنے کا کیا فائدہ
تیری ہی یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے عامر
اپنے دل کے راز اب چھپانے کا کیا فائدہ Muhammad Amir
خیال اب اس کے آنے کا کیا فائدہ
پاس آتا بھی نہیں دور جاتا بھی نہیں
ایسی اُلجنھیں بڑھانے کا کیا فائدہ
لب و لہجہ بتا دیتا ہے دل کےسبھی راز
ایسے منہ پے مسکرانے کا کیا فائدہ
شب و روز یہ وہم کہ مر جائیں گے اب
ارے! ایسے مر مر کے جینے کا کیا فائدہ
یوں تو رہبر بھی پیاسا ہے عشق کا
رہزنوں سے اب گلہ کرنے کا کیا فائدہ
تیری ہی یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے عامر
اپنے دل کے راز اب چھپانے کا کیا فائدہ Muhammad Amir
خواب سونے نہیں دیتے آنکھوں کے گِرے گواہ ہیں کہ یہ خواب سونے نہیں دیتے
منتظر ہیں اک جھلک کو کہ آنکھ اب بند کرنے نہیں دیتے
ارتحال کو جو رواں ہوں دل پاوُں سے لپٹ جاتا ہے
اب میرے حواس بھی تیرے شہر سے جانے نہیں دیتے
یوں تو پورا ہی شہر لیلیٰ مجنوں پے رشک کرتا ہے
مجھے اس کی گلی میں یہ لوگ کیوں جانے نہیں دیتے
سنا ہے چاند بھی اب اس کا پہرہ دیتا ہے رات بھر۔
تارے بھی اس کے صحن سے کسی کو گزرنے نہیں دیتے
سہل جائیں گے سبھی کڑے امتحان بھی بندشوں کے
قفسِ قید سے جو مجھے اس کی طرف جانے نہیں دیتے
لاحاصل ہی رہا عمر بھر ہمیں اک نظر کا دیدار
رخ یار سے اب میرے پاوُں بھی پلٹنے نہیں دیتے
ضم کر گئی مجھ میں اب تیرے شہر کی رعنائی
رات ہوتے ہی یہ جگنوں مجھے اب کہیں جانے نہیں دیتے
اس کے شہر کے لوگوں میں بھی اسی کے رنگ ہیں عامرٓ
اس کا ہو کہ بھی اس کے قصے اب سنانے نہیں دیتے Muhammad Amir
منتظر ہیں اک جھلک کو کہ آنکھ اب بند کرنے نہیں دیتے
ارتحال کو جو رواں ہوں دل پاوُں سے لپٹ جاتا ہے
اب میرے حواس بھی تیرے شہر سے جانے نہیں دیتے
یوں تو پورا ہی شہر لیلیٰ مجنوں پے رشک کرتا ہے
مجھے اس کی گلی میں یہ لوگ کیوں جانے نہیں دیتے
سنا ہے چاند بھی اب اس کا پہرہ دیتا ہے رات بھر۔
تارے بھی اس کے صحن سے کسی کو گزرنے نہیں دیتے
سہل جائیں گے سبھی کڑے امتحان بھی بندشوں کے
قفسِ قید سے جو مجھے اس کی طرف جانے نہیں دیتے
لاحاصل ہی رہا عمر بھر ہمیں اک نظر کا دیدار
رخ یار سے اب میرے پاوُں بھی پلٹنے نہیں دیتے
ضم کر گئی مجھ میں اب تیرے شہر کی رعنائی
رات ہوتے ہی یہ جگنوں مجھے اب کہیں جانے نہیں دیتے
اس کے شہر کے لوگوں میں بھی اسی کے رنگ ہیں عامرٓ
اس کا ہو کہ بھی اس کے قصے اب سنانے نہیں دیتے Muhammad Amir