Poetries by Muhammad Shafiq Khan
فرصت ملے تو آج آخری صدا دے جا ہر اِک درد کی تو مجھے دوا دے جا
فرصت ملے تو آج آخری صدا دے جا
میں گیا وقت تو نہیں پھر لوٹ نہ آؤں
ہو سکےاگر لمحے لمحے کی تو سزا دے جا
شکوہ نہیں کوئی تم سے بس شکایت ہے
وفا کے بدلے میں بس تو جفا دے جا
میرے مقدر میں سختیاں ہی سختیاں ہیں
دم نکلتے وقت تو شفیق کو دُعا دے جا Muhammad Shafiq
فرصت ملے تو آج آخری صدا دے جا
میں گیا وقت تو نہیں پھر لوٹ نہ آؤں
ہو سکےاگر لمحے لمحے کی تو سزا دے جا
شکوہ نہیں کوئی تم سے بس شکایت ہے
وفا کے بدلے میں بس تو جفا دے جا
میرے مقدر میں سختیاں ہی سختیاں ہیں
دم نکلتے وقت تو شفیق کو دُعا دے جا Muhammad Shafiq
کاش وہ جان غزل دِل کا دروازہ کُھلا چھوڑا کہ جب تو آئے
صحن گلشن سے تیرے ساتھ ہی خوشبو آئے
جام دو جام سے ملتا ہے کہاں دِل کو سکوں
تشنہ لب پیاس بجھانے لبِ جو آئے
گھر جلانا ہے تو پھر ہم سے تکلف کیسا
آگ دامن میں اُٹھائے ہوئے جُگنو آئے
اسی اُمید پہ شفیق سوئے جنگل نِکلا
کاش وہ جان غزل صورت آہو آئے Muhammad Shafiq Khan
صحن گلشن سے تیرے ساتھ ہی خوشبو آئے
جام دو جام سے ملتا ہے کہاں دِل کو سکوں
تشنہ لب پیاس بجھانے لبِ جو آئے
گھر جلانا ہے تو پھر ہم سے تکلف کیسا
آگ دامن میں اُٹھائے ہوئے جُگنو آئے
اسی اُمید پہ شفیق سوئے جنگل نِکلا
کاش وہ جان غزل صورت آہو آئے Muhammad Shafiq Khan
میرے مکاں کا سایہ تیرے مکاں سے ملے کتاب دل سے ملے سورہ قرآں سے ملے
غریب وقت کو انصاف دو جہاں سے ملے
میں زخم زیست کا مرہم تلاش کرتا ہوں
نہ اس دکاں سے ملے نہ اس دوکاں سے ملے
میں اپنے آپ کو تجھ سے جدا کروں کیسے
میرے مکاں کا سایہ تیرے مکاں سے ملے
میری تو عمر انہیں کھوجتی رہی یار شفیق
تمہیں یہ پیار کے موتی کہاں کہاں سے ملے
Muhammad Shafiq
غریب وقت کو انصاف دو جہاں سے ملے
میں زخم زیست کا مرہم تلاش کرتا ہوں
نہ اس دکاں سے ملے نہ اس دوکاں سے ملے
میں اپنے آپ کو تجھ سے جدا کروں کیسے
میرے مکاں کا سایہ تیرے مکاں سے ملے
میری تو عمر انہیں کھوجتی رہی یار شفیق
تمہیں یہ پیار کے موتی کہاں کہاں سے ملے
Muhammad Shafiq
راحت راحت مجھے ملے نہ ملے کوئی غم نہیں
میں کیا تھا اور کیا ہوں کوئی کم نہیں
چاند بھی میرے محبوب کی طرح ہے دوستوں
آجائیں آمنے سامنے تو کوئی مدہم نہیں
کاری زخم دیکر یوں چھوڑا اس نے مجھے
اب کسی اور سے دوستی کا کوئی دم نہیں
تڑپتے رہے جس کے لئے عمر بھر
لاش پہ میری اس کی آنکھ کوئی نم نہہں
شکستہ دل سے تو نکلتی ہے آہ مگر
شفیق کیسے کہہ دے کہ مجھ پر کوئی کرم نہیں
Muhammad Shafiq
میں کیا تھا اور کیا ہوں کوئی کم نہیں
چاند بھی میرے محبوب کی طرح ہے دوستوں
آجائیں آمنے سامنے تو کوئی مدہم نہیں
کاری زخم دیکر یوں چھوڑا اس نے مجھے
اب کسی اور سے دوستی کا کوئی دم نہیں
تڑپتے رہے جس کے لئے عمر بھر
لاش پہ میری اس کی آنکھ کوئی نم نہہں
شکستہ دل سے تو نکلتی ہے آہ مگر
شفیق کیسے کہہ دے کہ مجھ پر کوئی کرم نہیں
Muhammad Shafiq