Poetries by محمد اسامہ علوی الرومی
میں نے مانا کے تم ظالم نہیں ہو مگر میں نے مانا کے تم ظالم نہیں ہو مگر
کیامعلوم تھا کہ ہم تم سے ڈرجائیں گے
تیری یاد ستاتی رہی جو رات بھر مجھے
شبِ حجر سے ہم بچھڑ کر کدھر جائیں گے
تری تحریر جو پڑی ہے جو میرے سرہانے
ہم ان ورقوں کے لفظوں پر بکھر جائیںگے
یادوں کی غاروں میں جو بکھرے الفاظ
ان لفظوں کی رونق میں ٹھٹر جائیںگے
قبل اس سے کہ داد سنو ہم سے رومی
اسی واسطے ہم تم سے مکر جائیں گے محمد اسامہ علوی الرومی
کیامعلوم تھا کہ ہم تم سے ڈرجائیں گے
تیری یاد ستاتی رہی جو رات بھر مجھے
شبِ حجر سے ہم بچھڑ کر کدھر جائیں گے
تری تحریر جو پڑی ہے جو میرے سرہانے
ہم ان ورقوں کے لفظوں پر بکھر جائیںگے
یادوں کی غاروں میں جو بکھرے الفاظ
ان لفظوں کی رونق میں ٹھٹر جائیںگے
قبل اس سے کہ داد سنو ہم سے رومی
اسی واسطے ہم تم سے مکر جائیں گے محمد اسامہ علوی الرومی