Poetries by Muhammad Wasim Ashraf
ًمیرے دل میں چاہت کا سویرا کر دے میرےدل میں چاہت کا سویرا کر دے
اے خدا مجھے اُس کا اُسے میرا کر دے
کبھی تو گرا برقِ حُسن اپنے دیوانے پر
کچھ شرما اور پھر سامنے چہرہ کر دے
یا تمنا کوئی سرِشام جگایا نہ کرو
یا میرے جزبوں کے سمندر کو صحرا کر دے
میں پہچان لوں تشبیہ اپنے تصور کی
توں اُس حُسن کے نقشوں کو زرا گہرا کردے
چلو بسا لیں دنیا نئ اک دوجے میں
آ میری روح پہ اپنی زات کا پہرا کردے
تیری یادوں نے کبھی تنہا نہ ہونے دیا وسیم
توں بھی آجا کے ہم دونوں کو تہرہ کردے Muhammad Wasim Ashraf
اے خدا مجھے اُس کا اُسے میرا کر دے
کبھی تو گرا برقِ حُسن اپنے دیوانے پر
کچھ شرما اور پھر سامنے چہرہ کر دے
یا تمنا کوئی سرِشام جگایا نہ کرو
یا میرے جزبوں کے سمندر کو صحرا کر دے
میں پہچان لوں تشبیہ اپنے تصور کی
توں اُس حُسن کے نقشوں کو زرا گہرا کردے
چلو بسا لیں دنیا نئ اک دوجے میں
آ میری روح پہ اپنی زات کا پہرا کردے
تیری یادوں نے کبھی تنہا نہ ہونے دیا وسیم
توں بھی آجا کے ہم دونوں کو تہرہ کردے Muhammad Wasim Ashraf
لگتا ہے اسے مجھ سے محبت نہیں رہی لگتا ہے اسے مجھ سے محبت نہیں رہی
اب تو انتطار کی بھی عادت نہیں رہی
اک دوجے کو ہی دیکھنا ہی کام تھا اپنا
اب کسی کے دیدار کی حسرت نہیں رہی
اتنا چاہا اسے کے دل و جان بن گئے
پھر یوں ہوا کے خود سے بھی محبت نہیں رہی
مجھ کو بدل کربدل گیا ہمنشیں میرا
اور پھر میری میرے یار کو ضرورت نہیں رہی Ibn-e-Ashraf
اب تو انتطار کی بھی عادت نہیں رہی
اک دوجے کو ہی دیکھنا ہی کام تھا اپنا
اب کسی کے دیدار کی حسرت نہیں رہی
اتنا چاہا اسے کے دل و جان بن گئے
پھر یوں ہوا کے خود سے بھی محبت نہیں رہی
مجھ کو بدل کربدل گیا ہمنشیں میرا
اور پھر میری میرے یار کو ضرورت نہیں رہی Ibn-e-Ashraf
میں ٹوٹ گیا ہوں اب بکھرتا دیکھو میں ٹوٹ گیا ہوں اب بکھرتا دیکھو
میرے دل کا آشیاں اجڑتا دیکھو
تجھ سے دور میری تنہائی کیسے گزرتی ہے
کاش تم بھی اس عزاب کو گزرتا دیکھو
میں فقظ سانس لے رھا ہوں زمانے میں
اور اپنے خیالوں ک خنجر سے مرتا دیکھو
تجھے اپنے پاس یوں محسوس کرتا ہوں
تم خود کو میرے جسم سے نکلتا دیکھو
اپنے قفس میں ہی مقید ہوگیا ہوں وسیم
میری ہر رات کو تنہا گزرتا دیکھو Muhammad Wasim Ashraf
میرے دل کا آشیاں اجڑتا دیکھو
تجھ سے دور میری تنہائی کیسے گزرتی ہے
کاش تم بھی اس عزاب کو گزرتا دیکھو
میں فقظ سانس لے رھا ہوں زمانے میں
اور اپنے خیالوں ک خنجر سے مرتا دیکھو
تجھے اپنے پاس یوں محسوس کرتا ہوں
تم خود کو میرے جسم سے نکلتا دیکھو
اپنے قفس میں ہی مقید ہوگیا ہوں وسیم
میری ہر رات کو تنہا گزرتا دیکھو Muhammad Wasim Ashraf