Nahin Waswas Ji Ganwane Ke
Poet: میر تقی میر

نہیں وسواس جی گنوانے کے
ہائے رے ذوق دل لگانے کے
میرے تغییر حال پر مت جا
اتفاقات ہیں زمانے کے
دم آخر ہی کیا نہ آنا تھا
اور بھی وقت تھے بہانے کے
اس کدورت کو ہم سمجھتے ہیں
ڈھب ہیں یہ خاک میں ملانے کے
بس ہیں دو برگ گل قفس میں صبا
نہیں بھوکے ہم آب و دانے کے
مرنے پر بیٹھے ہیں سنو صاحب
بندے ہیں اپنے جی چلانے کے
اب گریباں کہاں کہ اے ناصح
چڑھ گیا ہاتھ اس دوانے کے
چشم نجم سپہر جھپکے ہے
صدقے اس انکھڑیاں لڑانے کے
دل و دیں ہوش و صبر سب ہی گئے
آگے آگے تمہارے آنے کے
کب تو سوتا تھا گھر مرے آ کر
جاگے تالا غریب خانے کے
مژہ ابرو نگہ سے اس کی میرؔ
کشتہ ہیں اپنے دل لگانے کے
تیر و تلوار و سیل یکجا ہیں
سارے اسباب مار جانے کے
Nahin Waswas Ji Ganwane Ke Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Mir Taqi Mir poetry in which says Nahin Waswas Ji Ganwane Ke. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Mir Taqi Mir shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.