Palkon Ki Dehleez Pay Chamka Aik Sitaara Tha

Poet: Amjad Islam Amjad

Palkon Ki Dehleez Pay Chamka Aik Sitaara Tha

پلکوں کی دہلیز پہ چمکا ایک ستارا تھا
ساحل کی اس بھیڑ میں جانے کون ہمارا تھا

کہساروں کی گونج کی صورت پھیل گیا ہے وہ
میں نے اپنے آپ میں چھپ کر جسے پکارا تھا

سر سے گزرتی ہر اک موج کو ایسے دیکھتے ہیں
جیسے اس گرداب فنا میں یہی سہارا تھا

ہجر کی شب وہ نیلی آنکھیں اور بھی نیلی تھیں
جیسے اس نے اپنے سر سے بوجھ اتارا تھا

جس کی جھلملاتا میں تم نے مجھ کو قتل کیا
پت جھڑ کی اس رات وہ سب سے روشن تارا تھا

ترک وفا کے بعد ملا تو جب معلوم ہوا
اس میں کتنے رنگ تھے اس کے کون ہمارا تھا

کون کہاں پر جھوٹا نکلا کیا بتلاتے ہم
دنیا کی تفریح تھی اس میں ہمیں خسارا تھا

جو منزل بھی راہ میں آئی دل کا بوجھ بنی
وہ اس کی تعبیر نہ تھی جو خواب ہمارا تھا

یہ کیسی آواز ہے جس کی زندہ گونج ہوں میں
صبح ازل میں کس نے امجدؔ مجھے پکارا تھا

Palkon Ki Dehleez Pay Chamka Aik Sitaara Tha Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Amjad Islam Amjad poetry in which says Palkon Ki Dehleez Pay Chamka Aik Sitaara Tha. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Amjad Islam Amjad shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.