Poetries by Rauf Tabassum
خوش نصیبی وہ ہوا منسوب میری ذات سے خوش نصیبی وہ ہوا منسوب میری ذات سے
گلشن دل کھل اٹھا ہے پیار کی برسات سے
تیری پلکوں پہ ستارے کیوں لرزنے لگ گئے
پھر کوئی کھیلا ہے کیا ہمدم ترے جذبات سے
حوصلہ سے کام لیتا ہوں میں ہر اک موڑ پہ
میں کبھی ڈرتا نہیں ہوں گردشِ حالات سے
کائناتِ رنگ و بومیں یہ ہے قدرت کا نظام
رات ہے دن سے ابھرتی, دن ابھرتا رات سے
میں نے جس پہ زندگی کی ہر خوشی قربان کی
وہ تبسم بے خبر ہے میرے احساسات سے Rauf Tabassum
گلشن دل کھل اٹھا ہے پیار کی برسات سے
تیری پلکوں پہ ستارے کیوں لرزنے لگ گئے
پھر کوئی کھیلا ہے کیا ہمدم ترے جذبات سے
حوصلہ سے کام لیتا ہوں میں ہر اک موڑ پہ
میں کبھی ڈرتا نہیں ہوں گردشِ حالات سے
کائناتِ رنگ و بومیں یہ ہے قدرت کا نظام
رات ہے دن سے ابھرتی, دن ابھرتا رات سے
میں نے جس پہ زندگی کی ہر خوشی قربان کی
وہ تبسم بے خبر ہے میرے احساسات سے Rauf Tabassum
نہ ضرورت نہ سہولت سے کیا جاتا ہے نہ ضرورت نہ سہولت سے کیا جاتا ہے
عشق در اصل عقیدت سے کیا جاتا ہے
آج کے دور میں نفرت کو ملا خوب عروج
اک یہی کام ہی نیت سے کیا جاتا ہے
گو تعلق نہ رہا, اب بھی مگر محفل میں
تذکرہ تیرا شرارت سے کیا جاتا ہے
میں شب و روز اسے یاد تو کرتا ہوں مگر
کام یہ اس کی اجازت سے کیا جاتا ہے
اب تبسم نہ رہی ندرت افکار کی قدر
فیصلہ فن کا بھی شہرت سے کیا جاتا ہے Rauf Tabassum
عشق در اصل عقیدت سے کیا جاتا ہے
آج کے دور میں نفرت کو ملا خوب عروج
اک یہی کام ہی نیت سے کیا جاتا ہے
گو تعلق نہ رہا, اب بھی مگر محفل میں
تذکرہ تیرا شرارت سے کیا جاتا ہے
میں شب و روز اسے یاد تو کرتا ہوں مگر
کام یہ اس کی اجازت سے کیا جاتا ہے
اب تبسم نہ رہی ندرت افکار کی قدر
فیصلہ فن کا بھی شہرت سے کیا جاتا ہے Rauf Tabassum