Poetries by Rizwana Khan
تم راز اگر ہوتے تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی
مسکائی ہوئی آنکھیں اعلان نہ بن جائیں
جب نام تیرا آتا پلکوں کو جھکا لیتی
تم میری امیدوں کی کشتی کے لئے ساحل
منزل کے لئے رستہ،آنکھوں کے لئے کاجل
تم دھوپ میں جب آتے،بن جاتی وہیں بادل
آواز اگر ہوتے گیتوں میں سجا لیتی
تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی
تم میری طرف چل کر جس راہ سے بھی آتے
ہر سمت میری آنکھیں قدموں کے تلے پاتے
اک میٹھی ہنسی ہنس کر سو پھول کھلا جاتے
یہ پھول اٹھا لیتی،رنگوں میں چھپا لیتی
تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی *Rizwana Khan*
مسکائی ہوئی آنکھیں اعلان نہ بن جائیں
جب نام تیرا آتا پلکوں کو جھکا لیتی
تم میری امیدوں کی کشتی کے لئے ساحل
منزل کے لئے رستہ،آنکھوں کے لئے کاجل
تم دھوپ میں جب آتے،بن جاتی وہیں بادل
آواز اگر ہوتے گیتوں میں سجا لیتی
تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی
تم میری طرف چل کر جس راہ سے بھی آتے
ہر سمت میری آنکھیں قدموں کے تلے پاتے
اک میٹھی ہنسی ہنس کر سو پھول کھلا جاتے
یہ پھول اٹھا لیتی،رنگوں میں چھپا لیتی
تم راز اگر ہوتے میں دل میں چھپا لیتی *Rizwana Khan*
اے چاند سنو۔۔۔۔۔ اے چاند سنو
کچھ بات کہو
تیری بات چلے میری رات کٹے
بات کرو اس بستی کی
بادل، بارش اور مستی کی
یا بات کرو اس بندھن کی
پائل، چوڑی اور کنگن کی
یا بات کرو ان سپنوں کی
جنہیں تم بھی سوچا کرتے ہو
خوابوں میں پوجا کرتے ہو
یا ہوا میں اڑتے آنچل کی
جو جب لہراتے کچھ یاد ڈھلے
تیرا چین چرائے، تیری نیند اڑائے
تم مجھ سے کہو کچھ بات کرو
تیری بات چلے میری رات کٹے
اے چاند سنو، کچھ بات کہو Rizwana Khan
کچھ بات کہو
تیری بات چلے میری رات کٹے
بات کرو اس بستی کی
بادل، بارش اور مستی کی
یا بات کرو اس بندھن کی
پائل، چوڑی اور کنگن کی
یا بات کرو ان سپنوں کی
جنہیں تم بھی سوچا کرتے ہو
خوابوں میں پوجا کرتے ہو
یا ہوا میں اڑتے آنچل کی
جو جب لہراتے کچھ یاد ڈھلے
تیرا چین چرائے، تیری نیند اڑائے
تم مجھ سے کہو کچھ بات کرو
تیری بات چلے میری رات کٹے
اے چاند سنو، کچھ بات کہو Rizwana Khan
ساحل تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ابجد میں نہیں ہیں
نہ جانے کب سے یہ موسم
ستاروں کی طرح دھرتی کے سینے پر فروزاں ہیں
مگر ان کی نگاہوں نے
تمہارے وصل کے لمحوں سے بہتر وقت
دیکھا ہے،نہ سوچا ہے
ہوا نے منظروں پر،آج تک جو کچھ بھی لکھا ہے
تمہارے نام لکھا ہے
خلا میں ٹوٹتے تارے،تمہارے بام سے گزریں
تو رکنے کو مچلتے ہیں
فلک کو چومتے جذبے،تمہاری آنکھ سے اتریں
تو پاتالوں میں گرتے ہیں
تمہارے خواب سے روشن منارے
وقت کے دریائے بے حد میں نہیں ہیں
تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ابجد میں نہیں ہیں Rizwana Khan
نہ جانے کب سے یہ موسم
ستاروں کی طرح دھرتی کے سینے پر فروزاں ہیں
مگر ان کی نگاہوں نے
تمہارے وصل کے لمحوں سے بہتر وقت
دیکھا ہے،نہ سوچا ہے
ہوا نے منظروں پر،آج تک جو کچھ بھی لکھا ہے
تمہارے نام لکھا ہے
خلا میں ٹوٹتے تارے،تمہارے بام سے گزریں
تو رکنے کو مچلتے ہیں
فلک کو چومتے جذبے،تمہاری آنکھ سے اتریں
تو پاتالوں میں گرتے ہیں
تمہارے خواب سے روشن منارے
وقت کے دریائے بے حد میں نہیں ہیں
تمہارے نام کے حرفوں سے بہتر حرف ابجد میں نہیں ہیں Rizwana Khan
محبت محبت کی طبعیت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہوجائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پورا اب کہاں تک ہے
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندروں سے کہیں گہری،ستاروں سے سوا روشن
بہاروں کی طرح قائم، ہواؤں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں، وفا کے استعارے ہیں، ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں، سنہرا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے زمانہ ساتھ چلتا ہے Rizwana Khan
کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہوجائے
اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفل سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے کہ پورا اب کہاں تک ہے
محبت کی طبعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
تمہیں مجھ سے محبت ہے
سمندروں سے کہیں گہری،ستاروں سے سوا روشن
بہاروں کی طرح قائم، ہواؤں کی طرح دائم
زمیں سے آسماں تک جس قدر اچھے مناظر ہیں
محبت کے کنائے ہیں، وفا کے استعارے ہیں، ہمارے ہیں
ہمارے واسطے یہ چاندنی راتیں سنورتی ہیں، سنہرا دن نکلتا ہے
محبت جس طرف جائے زمانہ ساتھ چلتا ہے Rizwana Khan
You Are My Friend You're my companion, my friend
Through all times my buddy ,my friend
Beside me you stand
Beside me you walk
You are there to listen
You are there to walk
With happiness, with smiles
I know you will be there
Throughout the years
You are all good friend to me
And i grateful to you
Rizwana Khan
Through all times my buddy ,my friend
Beside me you stand
Beside me you walk
You are there to listen
You are there to walk
With happiness, with smiles
I know you will be there
Throughout the years
You are all good friend to me
And i grateful to you
Rizwana Khan
بہادر شاہ ظفر سے معذرت کے ساتھ لگتا نہیں ہے دل میرا اب کسی بھی سوال میں
کس لئے آگئے ہم ایگزامینیشن ہال میں
وقت دراز مانگ کے لائے تھے تین گھنٹے
دو سوال میں کٹ گئے ایک جواب میں
کنٹرولر سے گلہ ہے نہ ایگزامینیشن سے شکوہ
قسمت میں فیل لکھا تھا بس اسی سال میں
ان کتابوں سے کہو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دماغ داغدار میں
کتنا ہے بد نصیب سٹوڈنٹ نقل کے لئے
دو کاغذ کے ٹکڑے نہ ملے پورے ہال میں Rizwana Khan
کس لئے آگئے ہم ایگزامینیشن ہال میں
وقت دراز مانگ کے لائے تھے تین گھنٹے
دو سوال میں کٹ گئے ایک جواب میں
کنٹرولر سے گلہ ہے نہ ایگزامینیشن سے شکوہ
قسمت میں فیل لکھا تھا بس اسی سال میں
ان کتابوں سے کہو کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دماغ داغدار میں
کتنا ہے بد نصیب سٹوڈنٹ نقل کے لئے
دو کاغذ کے ٹکڑے نہ ملے پورے ہال میں Rizwana Khan
یاد جب یاد کا قصہ کھولوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
میں گزرے پل جو سوچوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
اب جانے کونسی نگری میں آباد ہیں جاکر مدت سے
میں رات گئے تک جاگوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
کچھ باتیں پھولوں جیسی تھیں کچھ لہجے خوشبو جیسے تھے
میں شہر چمن میں ٹہلوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
وہ پل بھر کی ناراضگیاں اور مان بھی جانا پل بھر میں
اب خود سے جب بھی روٹھوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں Rizwana Khan
میں گزرے پل جو سوچوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
اب جانے کونسی نگری میں آباد ہیں جاکر مدت سے
میں رات گئے تک جاگوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
کچھ باتیں پھولوں جیسی تھیں کچھ لہجے خوشبو جیسے تھے
میں شہر چمن میں ٹہلوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں
وہ پل بھر کی ناراضگیاں اور مان بھی جانا پل بھر میں
اب خود سے جب بھی روٹھوں تو کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں Rizwana Khan
DILASA DOSTI ka ik samandar
An ginat sahil wafa ke
Apne seene mein chupae
Jane kab se beh raha hai
Dafatan ik moj ubhri
Motiyon ki shakl mein
Dhalte hue alfaz jumle
Khud bakhud dil se ut'the
Lab tak gae
Dil ka har ik bojh lafzon ne uthaya
Fikr ka har lamha ik jumle se takraya
Bikhar kar khogaya
Gham ka reza reza
Kuch baton ki ro mein beh gaya
Rizwana Khan
An ginat sahil wafa ke
Apne seene mein chupae
Jane kab se beh raha hai
Dafatan ik moj ubhri
Motiyon ki shakl mein
Dhalte hue alfaz jumle
Khud bakhud dil se ut'the
Lab tak gae
Dil ka har ik bojh lafzon ne uthaya
Fikr ka har lamha ik jumle se takraya
Bikhar kar khogaya
Gham ka reza reza
Kuch baton ki ro mein beh gaya
Rizwana Khan
محبت محبت اوس کی صورت
پیاسی پنکھڑی کے ہونٹ کو سیراب کرتی ہے
گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے
سحر کے جھٹپٹے میں گنگناتی،مسکراتی،جگمگاتی ہے
محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے
کسی فردوس کی صورت
محبت اوس کی صورت
محبت ابر کی صورت
دلون کی سر زمیں پہ گھر کے آتی اور برستی ہے
چمن کا زرہ زرہ جھومتا ہے،مسکراتا ہے
ازل کی بے نمو مٹی میں سبزہ سر اٹھاتا ہے
محبت ان کو بھی آباد اور شاداب کرتی ہے
جو دل ہیں قبر کی صورت
محبت ابر کی صورت
محبت آگ کی صورت
بجھے سینوں میں جلتی ہے تو دل بیدار ہوتے ہیں
محبت کی تپش میں کچھ عجب اسرار ہوتے ہیں
دلوں کے ساحلوں پر جمع ہوتی اور بکھرتی ہے
محبت جھاگ کی صورت
محبت آگ کی صورت
محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اترتی ہے کسی مہتاب کی صورت
ستارے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں
کہ پہچانی نہیں جاتی دل بے تاب کی صورت
محبت کے شجرپر خوابکے پنچھی اترتے ہیں
تو شاخیں جاگ اٹھتی ہیں
تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں
تو کب کی منتطر آنکھوں میں
شمعیں جاگ اٹھتی ہیں
محبت ان میں جلتی ہے چراغ آب کی صورت
محبت،خواب کی صورت
محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے
شبان ہجر میں روشن ستارہ بن کے رہتی ہے
منڈیروں پر چراغوں کی لویں جب تھرتھراتی ہیں
نگر میں ناامیدی کی ہوائیں سنسناتی ہیں
گلی میں جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں رہتا
دکھے دل کے لئیے جب کوئی بھی دھوکہ نہیں رہتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو
یہ ان پہ ہاتھ رکھتی ہے
کسی ہمدرد کی صورت
گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے
فضا میں تیرتی ہے دیر تک
یہ گرد کی صورت
محبت،درد کی صورت Rizwana Khan
پیاسی پنکھڑی کے ہونٹ کو سیراب کرتی ہے
گلوں کی آستینوں میں انوکھے رنگ بھرتی ہے
سحر کے جھٹپٹے میں گنگناتی،مسکراتی،جگمگاتی ہے
محبت کے دنوں میں دشت بھی محسوس ہوتا ہے
کسی فردوس کی صورت
محبت اوس کی صورت
محبت ابر کی صورت
دلون کی سر زمیں پہ گھر کے آتی اور برستی ہے
چمن کا زرہ زرہ جھومتا ہے،مسکراتا ہے
ازل کی بے نمو مٹی میں سبزہ سر اٹھاتا ہے
محبت ان کو بھی آباد اور شاداب کرتی ہے
جو دل ہیں قبر کی صورت
محبت ابر کی صورت
محبت آگ کی صورت
بجھے سینوں میں جلتی ہے تو دل بیدار ہوتے ہیں
محبت کی تپش میں کچھ عجب اسرار ہوتے ہیں
دلوں کے ساحلوں پر جمع ہوتی اور بکھرتی ہے
محبت جھاگ کی صورت
محبت آگ کی صورت
محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اترتی ہے کسی مہتاب کی صورت
ستارے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں
کہ پہچانی نہیں جاتی دل بے تاب کی صورت
محبت کے شجرپر خوابکے پنچھی اترتے ہیں
تو شاخیں جاگ اٹھتی ہیں
تھکے ہارے ستارے جب زمیں سے بات کرتے ہیں
تو کب کی منتطر آنکھوں میں
شمعیں جاگ اٹھتی ہیں
محبت ان میں جلتی ہے چراغ آب کی صورت
محبت،خواب کی صورت
محبت درد کی صورت
گزشتہ موسموں کا استعارہ بن کے رہتی ہے
شبان ہجر میں روشن ستارہ بن کے رہتی ہے
منڈیروں پر چراغوں کی لویں جب تھرتھراتی ہیں
نگر میں ناامیدی کی ہوائیں سنسناتی ہیں
گلی میں جب کوئی آہٹ کوئی سایہ نہیں رہتا
دکھے دل کے لئیے جب کوئی بھی دھوکہ نہیں رہتا
غموں کے بوجھ سے جب ٹوٹنے لگتے ہیں شانے تو
یہ ان پہ ہاتھ رکھتی ہے
کسی ہمدرد کی صورت
گزر جاتے ہیں سارے قافلے جب دل کی بستی سے
فضا میں تیرتی ہے دیر تک
یہ گرد کی صورت
محبت،درد کی صورت Rizwana Khan