Poetries by S.M.Akhtar
فصل گل جو آگئی بہار سے بھی ڈر گئے فصل گل جو آگئی بہار سے بھی ڈر گئے
خزاں رسیدہ پات تھے ہواؤں میں بکھر گئے
اب اور کیا کہو گے تم پیار کی صفائی میں
ترے لئے تو جیتے جی ہم آج ہی سے مر گئے
انعا م تو نے پا لیا تجھے بھی کچھ خبر ہے کیا
ترے انعام کے عوض جانے کتنے سر گئے
پوچھ لی جو میں نے ان سے رات کی وہ داستاں
ملے تو مجھ سے ملتے ہی وہ آج پھر مکر گئے
رقص میں تھیں وحشتیں رقص میں تھا آسماں
اداسیوں سے مل کے بھی روتے روتے گھر گئے
تری کٹی ہے عیش میں مری کٹی دکھوں میں ہے
ترے بھی دن گزر گئے مرے بھی دن گزر گئے S.M. Akhtar Malik
خزاں رسیدہ پات تھے ہواؤں میں بکھر گئے
اب اور کیا کہو گے تم پیار کی صفائی میں
ترے لئے تو جیتے جی ہم آج ہی سے مر گئے
انعا م تو نے پا لیا تجھے بھی کچھ خبر ہے کیا
ترے انعام کے عوض جانے کتنے سر گئے
پوچھ لی جو میں نے ان سے رات کی وہ داستاں
ملے تو مجھ سے ملتے ہی وہ آج پھر مکر گئے
رقص میں تھیں وحشتیں رقص میں تھا آسماں
اداسیوں سے مل کے بھی روتے روتے گھر گئے
تری کٹی ہے عیش میں مری کٹی دکھوں میں ہے
ترے بھی دن گزر گئے مرے بھی دن گزر گئے S.M. Akhtar Malik
یاس و حسرت کا ہے جنگل میں جدھر جاوں گا یاس و حسرت کا ہے جنگل میں جدھر جاؤں گا
جب بھی گزروں گا مری جاں میں تو ڈر جاؤں گا
کیسے مل پائے گا تجھ کو میری ہستی کا سراغ
خشک پتا ہوں، ہواؤں میں بکھر جاؤں گا
مجھ کو آئے گی میسر نہ کہیں جائے سکوں
تیرے کوچے سے جو نکلوں گا کدھر جاؤں گا
تیری فرقت کی گھڑی جبکہ گراں ہے دل پر
تجھ سے بچھڑوں گا کسی طور تو مر جاؤں گا
کیسے ابھریں گی مرے ضبط کی موجیں اختر
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا S.M. Akhtar Malik
جب بھی گزروں گا مری جاں میں تو ڈر جاؤں گا
کیسے مل پائے گا تجھ کو میری ہستی کا سراغ
خشک پتا ہوں، ہواؤں میں بکھر جاؤں گا
مجھ کو آئے گی میسر نہ کہیں جائے سکوں
تیرے کوچے سے جو نکلوں گا کدھر جاؤں گا
تیری فرقت کی گھڑی جبکہ گراں ہے دل پر
تجھ سے بچھڑوں گا کسی طور تو مر جاؤں گا
کیسے ابھریں گی مرے ضبط کی موجیں اختر
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا S.M. Akhtar Malik
زندگی تجھ سے میں تو ہار گیا جاں پہ اک قرض تھا اتار گیا
زندگی تجھ سے میں تو ہار گیا
اے عروس خیال یہ تو بتا
کون گیسو ترے سنوار گیا
جب سے الجھا ترے خیالوں میں
رات دن کا مرے شمار گیا
دید اسکی نہ آج ہو پائی
آج کا دن بھی سوگوار گیا
ظلم صیاد کا ذرا دیکھو
تیر سینے کے آرپار گیا
اس کو حاصل کوئی دوام نہیں
گل کی ہستی کا اعتبار گیا
اسکی جھولی میں پھول تھے سارے
مجھ کو اختر جو دے کے خار گیا S.M. akhtar Malik
زندگی تجھ سے میں تو ہار گیا
اے عروس خیال یہ تو بتا
کون گیسو ترے سنوار گیا
جب سے الجھا ترے خیالوں میں
رات دن کا مرے شمار گیا
دید اسکی نہ آج ہو پائی
آج کا دن بھی سوگوار گیا
ظلم صیاد کا ذرا دیکھو
تیر سینے کے آرپار گیا
اس کو حاصل کوئی دوام نہیں
گل کی ہستی کا اعتبار گیا
اسکی جھولی میں پھول تھے سارے
مجھ کو اختر جو دے کے خار گیا S.M. akhtar Malik
کھولنے دو لب مجھے اب دل کے اس اظہار پر کھولنے دو لب مجھے اب دل کے اس اظہار پر
حرف آئے گا بھلا کیا آپ کی سرکار پر
آبرو تو لٹ چکی ہے دختر نادار کی
یوں اٹھی ہے آج انگلی شہر کی کے سردار پر
بھولا بسرا کوئی ساتھی آج آئیگا ضرور
صبح دم بھر کاگا بولا ہے میری دیوار پر
تیری یادیں تیری باتیں تیرے قصے تیرے خواب
چلنا پڑتا ہے مجھے ہر رات کی تلوار پر
سانحہ کیا ہو گیا ہے پھر کوئی اس شہر میں
کیوں جھکی ہے ساری خلقت آج کے اخبار پر
آئینوں کے شہر میں تو پیار کرنا جرم ہے
کس نے اختر لکھ دیا ہے شہر کی دیوار پر S.M akhtar Malik
حرف آئے گا بھلا کیا آپ کی سرکار پر
آبرو تو لٹ چکی ہے دختر نادار کی
یوں اٹھی ہے آج انگلی شہر کی کے سردار پر
بھولا بسرا کوئی ساتھی آج آئیگا ضرور
صبح دم بھر کاگا بولا ہے میری دیوار پر
تیری یادیں تیری باتیں تیرے قصے تیرے خواب
چلنا پڑتا ہے مجھے ہر رات کی تلوار پر
سانحہ کیا ہو گیا ہے پھر کوئی اس شہر میں
کیوں جھکی ہے ساری خلقت آج کے اخبار پر
آئینوں کے شہر میں تو پیار کرنا جرم ہے
کس نے اختر لکھ دیا ہے شہر کی دیوار پر S.M akhtar Malik
کھولنے دو لب مجھے اب دل کے اس اظہار پر کھولنے دو لب مجھے اب دل کے اس اظہار پر
حرف آئے گا بھلا کیا آپ کی سرکار پر
آبرو تو لٹ چکی ہے دختر نادار کی
یوں اٹھی ہے آج انگلی شہر کے سردار پر
بھولا بسرا کوئی ساتھی آج آئے گا ضرور
صبح دم پھر کاگا بولا ہے میری دیوار پر
تیری یادیں تیری باتیں تیرے قصے تیرے خواب
چلنا پڑتا ہے مجھے ہر رات کی تلوار پر
سانحہ کیا ہوگیا ہے پھر کوئی اس شہر میں
کیوں جھکی ہے ساری خلقت آج کے اخبار پر
آئینوں کے شہر میں تو پیار کرنا جرم ہے
کس نے اختر لکھ دیا ہے شہر کی دیوار پر S.M akhtar Malik
حرف آئے گا بھلا کیا آپ کی سرکار پر
آبرو تو لٹ چکی ہے دختر نادار کی
یوں اٹھی ہے آج انگلی شہر کے سردار پر
بھولا بسرا کوئی ساتھی آج آئے گا ضرور
صبح دم پھر کاگا بولا ہے میری دیوار پر
تیری یادیں تیری باتیں تیرے قصے تیرے خواب
چلنا پڑتا ہے مجھے ہر رات کی تلوار پر
سانحہ کیا ہوگیا ہے پھر کوئی اس شہر میں
کیوں جھکی ہے ساری خلقت آج کے اخبار پر
آئینوں کے شہر میں تو پیار کرنا جرم ہے
کس نے اختر لکھ دیا ہے شہر کی دیوار پر S.M akhtar Malik
پتھروں کا شہر کس نے دی ہے سدا پتھروں کے شہر میں
شیشے کا نہ گھر بنا پتھروں کے شہر میں
پتھروں کے شہر میں پیار کرنا جرم ہے
یہ کسی نے لکھ دیا پتھروں کے شھر میں
بو چرا کے لے گئی مرمریں بدن کی وہ
سوچ میں تھی گم ہوا پتھروں کے شہر میں
بے نقاب ہو کے اختر سحر سے مل
طوطے ہاتھ کے اڑا پتھروں کے شھر میں S.M Akhtar Malik
شیشے کا نہ گھر بنا پتھروں کے شہر میں
پتھروں کے شہر میں پیار کرنا جرم ہے
یہ کسی نے لکھ دیا پتھروں کے شھر میں
بو چرا کے لے گئی مرمریں بدن کی وہ
سوچ میں تھی گم ہوا پتھروں کے شہر میں
بے نقاب ہو کے اختر سحر سے مل
طوطے ہاتھ کے اڑا پتھروں کے شھر میں S.M Akhtar Malik