Poetries by saima saher
کون جانے کب محبت کا جنازہ ہو تم سے تم کو چرانے کا اگر ارادہ ہو
کیسا تمہاری کہانی کا حرف سادہ ہو
مکتب ہو جھمیلا ہو یا ہو تنہائی
ہر جا یادوں کا ہم پہ تیری لبادہ ہو
چاند سے رات کا ملن ہو کچھ ایسا
جیسے کبھی نہ بچھڑنے کا ایک وعدہ ہو
منزل میں کوئی تو راستہ کا مقرر ہو
فرقتوں میں کوئی خاموش سا دلاسا ہو
چاند سے مانگا ہے مسکرانے کا ہنر
نم سی زندگی میں کوئی تو استعادہ ہو
چوکھٹ پہ آن رکی ہے کوئی خواہش سحر
کون جانے کب محبت کا جنازہ ہو Saima Saher
کیسا تمہاری کہانی کا حرف سادہ ہو
مکتب ہو جھمیلا ہو یا ہو تنہائی
ہر جا یادوں کا ہم پہ تیری لبادہ ہو
چاند سے رات کا ملن ہو کچھ ایسا
جیسے کبھی نہ بچھڑنے کا ایک وعدہ ہو
منزل میں کوئی تو راستہ کا مقرر ہو
فرقتوں میں کوئی خاموش سا دلاسا ہو
چاند سے مانگا ہے مسکرانے کا ہنر
نم سی زندگی میں کوئی تو استعادہ ہو
چوکھٹ پہ آن رکی ہے کوئی خواہش سحر
کون جانے کب محبت کا جنازہ ہو Saima Saher
اچھا نہیں لگتا سر شام لوٹ آنا ہمیں اچھا نہں لگتا
تم بلاؤ ہم نہ آئیں ہمیں اچھا نہں لگتا
جب چاہتے ہیں سب ارادے توڑ دیتے ہیں
تم سے لا تعلق رہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم ملتے ہو تو کھو جاتی ہیں باتیں ساری
تمہارے سامنے بولنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
بہت کم لوگوں کو ہم لفظوں کا بھرم دیتے ہیں
ہر اک پہ مان کر لینا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم رتجگے کاٹو اور ہم سکوں نیندیں سوئیں
اے زندگی تیرا یہ ضابطہ ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم زندگی تنہا نہیں گزار سکتے ہو
تمہارا نم آنکھوں سے یہ کہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تمہارے خواب کی آج ہم تمہیں تعبیر دیتے ہیں
تمہارا نارساں چہرہ ہمیں اچھا نہیں لگتا Saima Saher
تم بلاؤ ہم نہ آئیں ہمیں اچھا نہں لگتا
جب چاہتے ہیں سب ارادے توڑ دیتے ہیں
تم سے لا تعلق رہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم ملتے ہو تو کھو جاتی ہیں باتیں ساری
تمہارے سامنے بولنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
بہت کم لوگوں کو ہم لفظوں کا بھرم دیتے ہیں
ہر اک پہ مان کر لینا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم رتجگے کاٹو اور ہم سکوں نیندیں سوئیں
اے زندگی تیرا یہ ضابطہ ہمیں اچھا نہیں لگتا
تم زندگی تنہا نہیں گزار سکتے ہو
تمہارا نم آنکھوں سے یہ کہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
تمہارے خواب کی آج ہم تمہیں تعبیر دیتے ہیں
تمہارا نارساں چہرہ ہمیں اچھا نہیں لگتا Saima Saher
محبت سے محبت تک محبت روح میں پروردہ
مادیت سے بہرہ ور
دیار دل کی رونق
ہجر یاراں کا آخری آنسو
شام تنہائی میں ہم نوا
سخن محفل میں تماشائی
سونپ دیتے ہیں خود کو
محبت کے ہاتھوں میں
انتہائے شوق کی خاطر
چلو احسان کرتے ہیں
دان کرتے ہیں تم کو
دربار دل اپنا
سو فیصلہ تمہارا ہے
چھوڑ جاؤ یا پلٹ آؤ
محبت سے محبت تک Saima Saher
مادیت سے بہرہ ور
دیار دل کی رونق
ہجر یاراں کا آخری آنسو
شام تنہائی میں ہم نوا
سخن محفل میں تماشائی
سونپ دیتے ہیں خود کو
محبت کے ہاتھوں میں
انتہائے شوق کی خاطر
چلو احسان کرتے ہیں
دان کرتے ہیں تم کو
دربار دل اپنا
سو فیصلہ تمہارا ہے
چھوڑ جاؤ یا پلٹ آؤ
محبت سے محبت تک Saima Saher
تاوان وہ اپنی ہر ایک سانس میرے نام کر گیا
جاتے جاتے وہ اپنی زندگی تاوان کر گیا
مانگا تھا اس سے فقط نہ بگڑنے کا عہد
وہ تو پل پل لمحہ لمحہ مجھے دان کر گیا
آتشنگی صحرا میں نہ بھٹکوں میں تنہا
میری حسرتیں وہ یوں قید زندان کر گیا
میری جھکی نگاہ اٹھی جو پل بھر کے لئے
اس لمحے پہ وہ جان و دل قربان کر گیا
نمی نہ اترنے پائے میری ہنستی آنکھوں میں
اپنے آپ سے وہ پگلا عہد پیمان کر گیا Saima Saher
جاتے جاتے وہ اپنی زندگی تاوان کر گیا
مانگا تھا اس سے فقط نہ بگڑنے کا عہد
وہ تو پل پل لمحہ لمحہ مجھے دان کر گیا
آتشنگی صحرا میں نہ بھٹکوں میں تنہا
میری حسرتیں وہ یوں قید زندان کر گیا
میری جھکی نگاہ اٹھی جو پل بھر کے لئے
اس لمحے پہ وہ جان و دل قربان کر گیا
نمی نہ اترنے پائے میری ہنستی آنکھوں میں
اپنے آپ سے وہ پگلا عہد پیمان کر گیا Saima Saher