Poetries by saqib raheem
یاد اسکا چہرہ میری آنکھوں میں
رہتا ہے
جب کبھی اسکی یاد
دل پہ دستک دیتی ہے
میں دل کے کواڑ کھول دیتا ہوں
اسکی جھلک آنکھوں میں اتر آتی ہے
وہ میٹھی سی مسکان
جو بہت کم میسّر آئئ مجھکو
وہ اسکا آپ آپ کرنا
جو بہت کم کم سنا میں نے
وہ اسکی آنکھوں کی بے رخی
بس اک واحد شے
جو اس میں مستقل نظر آئ مجھکو
اور پھر
غم دنیا کے شور آنکھیں کھول دیتے ہیں
اور میں گہرا سانس لے کے
کچھ دیر کے لئے
سب کچھ بھول جاتا ہوں
لیکن!
اسکا چہرہ یاد رہتا ہے
کیونکہ
وہ میری آنکھوں میں جو رہتا ہے Saqib Raheem.
رہتا ہے
جب کبھی اسکی یاد
دل پہ دستک دیتی ہے
میں دل کے کواڑ کھول دیتا ہوں
اسکی جھلک آنکھوں میں اتر آتی ہے
وہ میٹھی سی مسکان
جو بہت کم میسّر آئئ مجھکو
وہ اسکا آپ آپ کرنا
جو بہت کم کم سنا میں نے
وہ اسکی آنکھوں کی بے رخی
بس اک واحد شے
جو اس میں مستقل نظر آئ مجھکو
اور پھر
غم دنیا کے شور آنکھیں کھول دیتے ہیں
اور میں گہرا سانس لے کے
کچھ دیر کے لئے
سب کچھ بھول جاتا ہوں
لیکن!
اسکا چہرہ یاد رہتا ہے
کیونکہ
وہ میری آنکھوں میں جو رہتا ہے Saqib Raheem.
قسم لے لو اسے کہنا قسم لے لو
تمھارے بعد اگر ہم نے
کسی کا خواب دیکھا ہو
کسی کو ہم نے چاہا ہو
کسی کو ہم نے سوچا ہو
کسی کی آرزو کی ہو
کسی کی جستجو کی ہو
کسی سے آس رکھی ہو
کوئی امید باندھی ہو
کوئی دل میں اتارا ہو
کوئی اگر تم سے پیارا ہو
کوئی دل میں...... بسایا ہو
کوئی......... اپنا بنایا ہو
کوئی روٹھا ہو اور ہم نےاسے رو رو منایا ہو
دسمبر کی حسیں رت میں
کسی کے ہجر جھیلے ہوں
کسی کی یاد کا موسم
میرے آنگن میں کھیلا ہو
کسی سے بات کرنے کو
کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں
کسی کی بے وفائی پر
کبھی یہ نین برسے ہوں
اسے کہنا قسم لے لو Saqib Raheem.
تمھارے بعد اگر ہم نے
کسی کا خواب دیکھا ہو
کسی کو ہم نے چاہا ہو
کسی کو ہم نے سوچا ہو
کسی کی آرزو کی ہو
کسی کی جستجو کی ہو
کسی سے آس رکھی ہو
کوئی امید باندھی ہو
کوئی دل میں اتارا ہو
کوئی اگر تم سے پیارا ہو
کوئی دل میں...... بسایا ہو
کوئی......... اپنا بنایا ہو
کوئی روٹھا ہو اور ہم نےاسے رو رو منایا ہو
دسمبر کی حسیں رت میں
کسی کے ہجر جھیلے ہوں
کسی کی یاد کا موسم
میرے آنگن میں کھیلا ہو
کسی سے بات کرنے کو
کبھی یہ ہونٹ ترسے ہوں
کسی کی بے وفائی پر
کبھی یہ نین برسے ہوں
اسے کہنا قسم لے لو Saqib Raheem.
تمہارا چہرہ تمہارا چہرہ
تمہاری آنکھیں
تمہارے ہونٹوں کے حاشیے پہ
لکھے ہوئے یہ وفا کے نغمے
تمہارے شانوں پہ بکھری زلفیں
تمہاری قوسِ قزح سی رنگت
یہ جسم جیسے کہ
خوشبوؤں کو کسی نے پیکر عطا کیا ہے
یہ چال جیسے کہ
بے نیازی کو چلنا کوئی سکھا گیا ہے
یہ رنگ سارے
روش روش پہ کھلے ہوئے
یہ گلاب سارے
حسنِ فطرت کا سارا جادو
یہ خوشبوؤں کا دیار سارا
یہ موسموں کا خمار سارا
تمہارے پیکر میں گھل گیا ہے
تمہارے ہونٹوں کی مسکراہٹ،
تمہاری آنکھیں،
تمہارا چہرہ،
یہ بےتکلف سا شوخ لہجہ
مرے تخیل کو چپکے چپکے
کوئی کہانی سنا رہا ہے
حسین سپنے سجا رہا ہے
میں دم بخود ہوں
میں سوچتا ہوں
یہ تم نہیں ہو تو کون ہے جو
گریز پا بھی ہے ساتھ بھی ہے
تمہیں خبر ہو تو
تم بتاؤ ! Saqib Raheem.
تمہاری آنکھیں
تمہارے ہونٹوں کے حاشیے پہ
لکھے ہوئے یہ وفا کے نغمے
تمہارے شانوں پہ بکھری زلفیں
تمہاری قوسِ قزح سی رنگت
یہ جسم جیسے کہ
خوشبوؤں کو کسی نے پیکر عطا کیا ہے
یہ چال جیسے کہ
بے نیازی کو چلنا کوئی سکھا گیا ہے
یہ رنگ سارے
روش روش پہ کھلے ہوئے
یہ گلاب سارے
حسنِ فطرت کا سارا جادو
یہ خوشبوؤں کا دیار سارا
یہ موسموں کا خمار سارا
تمہارے پیکر میں گھل گیا ہے
تمہارے ہونٹوں کی مسکراہٹ،
تمہاری آنکھیں،
تمہارا چہرہ،
یہ بےتکلف سا شوخ لہجہ
مرے تخیل کو چپکے چپکے
کوئی کہانی سنا رہا ہے
حسین سپنے سجا رہا ہے
میں دم بخود ہوں
میں سوچتا ہوں
یہ تم نہیں ہو تو کون ہے جو
گریز پا بھی ہے ساتھ بھی ہے
تمہیں خبر ہو تو
تم بتاؤ ! Saqib Raheem.
میں گدائے دیارنبی ہوںدیکھئے میری آنکھوں میں کیاہے میں گدائے دیارنبی ہوںدیکھئے میری آنکھوں میں کیاہے
مجھکونسبت ہے آل نبی سےہاتھہ میں دامن مصطفے ہے
میرے مولا تو مالک ہے میرسچا رازق ہےخالق ہے میر
مگر اس لیے میں تجھے مانتا ہوںتو میرے مصطفے کا خدا ہے
مجھکو اقرار ہے کچھہ نہیں ہوںمیرا سب کچھہ میرے مصطفے ہیں
اور کہنے کوکچھہ بھی نہیں ہےمیں نے کہناتھا جوکہہ دیا ہے
جب میں بچھڑا دیار نبی سےہو بیاں کیسے لفظوں میں منظر
آگیا ہوں مدینے سے لیکندل مدینے میں ہی رہ گیاہے
جب بھی "ناصر" مجھے موت آئےمیری تربت پہ قطبہ لگان
ہے ثناء خوان خیرالوری ک پنجتن کا یہ ادنی گدا ہے.. Saqib Raheem
مجھکونسبت ہے آل نبی سےہاتھہ میں دامن مصطفے ہے
میرے مولا تو مالک ہے میرسچا رازق ہےخالق ہے میر
مگر اس لیے میں تجھے مانتا ہوںتو میرے مصطفے کا خدا ہے
مجھکو اقرار ہے کچھہ نہیں ہوںمیرا سب کچھہ میرے مصطفے ہیں
اور کہنے کوکچھہ بھی نہیں ہےمیں نے کہناتھا جوکہہ دیا ہے
جب میں بچھڑا دیار نبی سےہو بیاں کیسے لفظوں میں منظر
آگیا ہوں مدینے سے لیکندل مدینے میں ہی رہ گیاہے
جب بھی "ناصر" مجھے موت آئےمیری تربت پہ قطبہ لگان
ہے ثناء خوان خیرالوری ک پنجتن کا یہ ادنی گدا ہے.. Saqib Raheem
یہ چاند ستارے یہ حسیں رات نہ ہوتی ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ
یہ چاند ستارے یہ حسیں رات نہ ہوتی
گر آپﷺ نہ ہوتےتوکوئی بات نہ ہوتی
مولاسے ملایا ہےہمیں آپ ﷺ نے آکر
ملتا نہ خدا بھی جو تیری ذات نہ ہوتی
وہ چہرہ نہ ہوتا تو کبھی دن نہ نکلتا
وہ زلف نہ ہوتی تو کبھی رات نہ ہوتی
اٹھتی نہ اگرگنبدخضری سے گھٹائیں
دنیا میں کہیں بھی کبھی برسات نہ ہوتی
گرابن علی سر نہ کٹاتے سرمقتل
دنیا میں کہیں عزت سادات نہ ہوتی
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ saqib raheem
یہ چاند ستارے یہ حسیں رات نہ ہوتی
گر آپﷺ نہ ہوتےتوکوئی بات نہ ہوتی
مولاسے ملایا ہےہمیں آپ ﷺ نے آکر
ملتا نہ خدا بھی جو تیری ذات نہ ہوتی
وہ چہرہ نہ ہوتا تو کبھی دن نہ نکلتا
وہ زلف نہ ہوتی تو کبھی رات نہ ہوتی
اٹھتی نہ اگرگنبدخضری سے گھٹائیں
دنیا میں کہیں بھی کبھی برسات نہ ہوتی
گرابن علی سر نہ کٹاتے سرمقتل
دنیا میں کہیں عزت سادات نہ ہوتی
ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ ﷺ saqib raheem
دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں
یہ کیف کیوں آج آرہے ہیں
کچھہ ایسا محسوس ہورہا ہے
حضورﷺ تشریف لا رہے ہیں
نوازشوں پرنوازشیں ہیں
عنایتوں پر عنایتیں ہیں
نبیﷺ کی نعتیں سنا سنا کر
ہم اپنی قسمت جگا رہے ہیں
کہیں پہ رونق ہے مےکشوں کی
کہیں پہ محفل ہے دل جلوں کی
وہ کتنے خوش بخت ہیں جو اپنے
نبیﷺ کی محفل سجارہے ہیں
نہ پاس پی ہو تو سونا ساون
وہ جس سے راضی وہی سہاگن
جنہوں نے پکڑا نبیﷺ کا دامن
انہی کے گھر جگمگا رہے ہیں
کہاں کا منسب کہاں کی دولت
قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
جنہیں بلایا ہے مصطفی ﷺ نے
وہی مدینے کو جا رہے ہیں
میں اپنے خیرالوری ﷺ کے صدقے
میں ان کی شان عطا کے صدقے
بھرا عیبوں سے میرا دامن
حضور ﷺ پھر بھی نبھا رہے ہیں
بنے گا جانے کا پھر بہانا
کہے گا آکر کوئی دیوانہ
چلو نیازی تمہیں مدینے
مدینے والے بلا رہے ہیں saqib raheem
یہ کیف کیوں آج آرہے ہیں
کچھہ ایسا محسوس ہورہا ہے
حضورﷺ تشریف لا رہے ہیں
نوازشوں پرنوازشیں ہیں
عنایتوں پر عنایتیں ہیں
نبیﷺ کی نعتیں سنا سنا کر
ہم اپنی قسمت جگا رہے ہیں
کہیں پہ رونق ہے مےکشوں کی
کہیں پہ محفل ہے دل جلوں کی
وہ کتنے خوش بخت ہیں جو اپنے
نبیﷺ کی محفل سجارہے ہیں
نہ پاس پی ہو تو سونا ساون
وہ جس سے راضی وہی سہاگن
جنہوں نے پکڑا نبیﷺ کا دامن
انہی کے گھر جگمگا رہے ہیں
کہاں کا منسب کہاں کی دولت
قسم خدا کی یہ ہے حقیقت
جنہیں بلایا ہے مصطفی ﷺ نے
وہی مدینے کو جا رہے ہیں
میں اپنے خیرالوری ﷺ کے صدقے
میں ان کی شان عطا کے صدقے
بھرا عیبوں سے میرا دامن
حضور ﷺ پھر بھی نبھا رہے ہیں
بنے گا جانے کا پھر بہانا
کہے گا آکر کوئی دیوانہ
چلو نیازی تمہیں مدینے
مدینے والے بلا رہے ہیں saqib raheem
کاش وہ چہرہ میری آنکھہ نے دیکھا ہوتا کاش وہ چہرہ میری آنکھہ نے دیکھا ہوتا
مجھ کو تقدير نے اس دور ميں لکھا ہوتا
باتیں سنتا میں کبھی پوچھتا معنی ان کے
آپ کے سامنے اصحاب میں بیٹھا ہوتا
ہر سیاہ رات ميں سورج ہیں حديثيں ان كى
وہ نہ آتے تو زمانے ميں اندھیرا ہوتا
فخرى جب مسجدِ نبوى ميں اذانيں ہوتیں
ميں مدينے سے گزرتا ہُوا جھونکا ہوتا saqib raheem
مجھ کو تقدير نے اس دور ميں لکھا ہوتا
باتیں سنتا میں کبھی پوچھتا معنی ان کے
آپ کے سامنے اصحاب میں بیٹھا ہوتا
ہر سیاہ رات ميں سورج ہیں حديثيں ان كى
وہ نہ آتے تو زمانے ميں اندھیرا ہوتا
فخرى جب مسجدِ نبوى ميں اذانيں ہوتیں
ميں مدينے سے گزرتا ہُوا جھونکا ہوتا saqib raheem
وہ جھوٹ نہ بولے گا میرے سامنے آ کر اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانیئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے ؟
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہونگے
وہ جھوٹ نہ بولے گا میرے سامنے آ کر
اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غمِ احباب
میں نے تو کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر saqib raheem
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانیئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے ؟
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہونگے
وہ جھوٹ نہ بولے گا میرے سامنے آ کر
اب دستکیں دے گا تو کہاں اے غمِ احباب
میں نے تو کہا تھا کہ مرے دل میں رہا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر saqib raheem
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا
کوئی آ کر ہمیں پوچھے تمہیں کیسے بھلایا ہے
تمہارے خط کو اشکوں سے شب غم میں جلایا ہے
ہزاروں زخم ایسے ہیں اگر سلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا
تمہیں جتنا بھلاتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے
بہار نو جو آئی ہے وہی خشبو ہی لائی ہے
تمہارے لب میری خاطر اگر ہلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا!
ملا ہے لطف بھی ہم کو حسیں یادوں کی جھلمل میں
کٹی ہے زندگی تم بن مگر اتنی سی ہے دل مین
اگر آتے تو اچھا تھا اگر ملتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا saqib
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا
کوئی آ کر ہمیں پوچھے تمہیں کیسے بھلایا ہے
تمہارے خط کو اشکوں سے شب غم میں جلایا ہے
ہزاروں زخم ایسے ہیں اگر سلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا
تمہیں جتنا بھلاتا ہوں تمہاری یاد آتی ہے
بہار نو جو آئی ہے وہی خشبو ہی لائی ہے
تمہارے لب میری خاطر اگر ہلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا!
ملا ہے لطف بھی ہم کو حسیں یادوں کی جھلمل میں
کٹی ہے زندگی تم بن مگر اتنی سی ہے دل مین
اگر آتے تو اچھا تھا اگر ملتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
جہاں پھولوں کو کھلنا تھا، وہیں کھلتے تو اچھا تھا
تمہی کو ہم نے چاہا تھا، تمہی ملتے تو اچھا تھا saqib
نظر کی پیاس بجھانے کاحوصلہ نہ ہوا نظر کی پیاس بجھانے کاحوصلہ نہ ہوا
ملےتولب بھی ہلانے کاحوصلہ نہ ہوا
پکارتی ہی رہیں دور تک اسے نظریں
مگرزباں سے بلانے کاحوصلہ نہ ہوا
تمہارے جبروستم ہنس کےسہہ لئے دل پر
تمہارے دل کودکھانے کاحوصلہ نہ ہوا
لٹےکچھہ ایسے محبت میں ہم کہ پھر اب تک
کسی کو دل میں بسانے کاحوصلہ نہ ہوا saqib
ملےتولب بھی ہلانے کاحوصلہ نہ ہوا
پکارتی ہی رہیں دور تک اسے نظریں
مگرزباں سے بلانے کاحوصلہ نہ ہوا
تمہارے جبروستم ہنس کےسہہ لئے دل پر
تمہارے دل کودکھانے کاحوصلہ نہ ہوا
لٹےکچھہ ایسے محبت میں ہم کہ پھر اب تک
کسی کو دل میں بسانے کاحوصلہ نہ ہوا saqib
کچھ وقت نکالے رکھنا اپنی باتوں میں میرے نام کے حوالے رکھنا
مجھ سے دور ھو تو خود کو سنبھالے رکھنا
لوگ پوچھیں گے کیوں پریشان ھوتم
کچھ نگاہوں سےکہنا زبان پہ تالے رکھنا
نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو
میری یادوں کوبڑے پیار سے سنبھالے رکھنا
تم لوٹ آؤ گے اتنا یقین ھے مجھ کو
میرے لیے کچھ وقت نکالے رکھنا
دل نے بڑی شدت سے چاہا ھے تمہیں
میرے لیے اپنے انداز وھی پرانے رکھنا saqib raheem
مجھ سے دور ھو تو خود کو سنبھالے رکھنا
لوگ پوچھیں گے کیوں پریشان ھوتم
کچھ نگاہوں سےکہنا زبان پہ تالے رکھنا
نہ کھونے دینا میرے بیتے لمحوں کو
میری یادوں کوبڑے پیار سے سنبھالے رکھنا
تم لوٹ آؤ گے اتنا یقین ھے مجھ کو
میرے لیے کچھ وقت نکالے رکھنا
دل نے بڑی شدت سے چاہا ھے تمہیں
میرے لیے اپنے انداز وھی پرانے رکھنا saqib raheem
خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ھے خردمندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ھے
کہ میں اس فکر میں رہتا ھوں میری انتہا کیا ھے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سےخود پوچھے بتا تیری رضا کیا ھے
مقام گفتگو کیا ھے اگر میں کیمیا گر ھوں
نہ پوچھ اے ھمنشیں مجھ سےوہ چشم سرمہ ساکیا ھے
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اسکو سمجھاتامقام کبریا کیا ھے
نوائے صبح گا ہی نے جگر خوں کردیامیرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ھے وہ خطا کیا ھے saqib raheem
کہ میں اس فکر میں رہتا ھوں میری انتہا کیا ھے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سےخود پوچھے بتا تیری رضا کیا ھے
مقام گفتگو کیا ھے اگر میں کیمیا گر ھوں
نہ پوچھ اے ھمنشیں مجھ سےوہ چشم سرمہ ساکیا ھے
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تو اقبال اسکو سمجھاتامقام کبریا کیا ھے
نوائے صبح گا ہی نے جگر خوں کردیامیرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ھے وہ خطا کیا ھے saqib raheem