Senkron Hi Rehnuma Hai Rasta Koi Nahi

Poet: امجد اسلام امجد

Senkron Hi Rehnuma Hai Rasta Koi Nahi

سینکڑوں ہی رہنما ہیں راستہ کوئی نہیں
آئنے چاروں طرف ہیں دیکھتا کوئی نہیں

سب کے سب ہیں اپنے اپنے دائرے کی قید میں
دائروں کی حد سے باہر سوچتا کوئی نہیں

صرف ماتم اور زاری سے ہی جس کا حل ملے
اس طرح کا تو کہیں بھی مسئلہ کوئی نہیں

یہ جو سائے سے بھٹکتے ہیں ہمارے ارد گرد
چھو کے ان کو دیکھیے تو واہمہ کوئی نہیں

جو ہوا یہ درج تھا پہلے ہی اپنے بخت میں
اس کا مطلب تو ہوا کہ بے وفا کوئی نہیں

تیرے رستے میں کھڑے ہیں صرف تجھ کو دیکھنے
مدعا پوچھو تو اپنا مدعا کوئی نہیں

کن‌ فکاں کے بھید سے مولیٰ مجھے آگاہ کر
کون ہوں میں گر یہاں پر دوسرا کوئی نہیں

وقت ایسا ہم سفر ہے جس کی منزل ہے الگ
وہ سرائے ہے کہ جس میں ٹھہرتا کوئی نہیں

گاہے گاہے ہی سہی امجدؔ مگر یہ واقعہ
یوں بھی لگتا ہے کہ دنیا کا خدا کوئی نہیں

Senkron Hi Rehnuma Hai Rasta Koi Nahi Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Amjad Islam Amjad poetry in which says Senkron Hi Rehnuma Hai Rasta Koi Nahi. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Amjad Islam Amjad shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.