Poetries by Tahir Javed Tahir
خدا سے مسکا اے خدااچھی اپنی تقدیر کر دے
کوئی نیا شاہکار تعمیرکر دے
ملک کے ہر کونے میں ہوں ہٹیاں
اتنی معمولی سی عطا جاگیر کر دے
لڑکیاں آہ بھریں جدھر سے گزروں
ماٹھی بوتھی میں پیدا تاثیر کردے
کثرت اولاد سے مجھے اتنا نواز
محلے والے پکار اٹھیں اب اخیر کر دے
بیوی دے سوہنی،سالی ہو من موہنی
یوں رستوں میں تو مجھے امیر کر دے
حسن پرست ہوں اتنا دے Discount
ہر حسینہ کو خوابوں میں بغلگیر کر دے Tahir Javed Tahir
کوئی نیا شاہکار تعمیرکر دے
ملک کے ہر کونے میں ہوں ہٹیاں
اتنی معمولی سی عطا جاگیر کر دے
لڑکیاں آہ بھریں جدھر سے گزروں
ماٹھی بوتھی میں پیدا تاثیر کردے
کثرت اولاد سے مجھے اتنا نواز
محلے والے پکار اٹھیں اب اخیر کر دے
بیوی دے سوہنی،سالی ہو من موہنی
یوں رستوں میں تو مجھے امیر کر دے
حسن پرست ہوں اتنا دے Discount
ہر حسینہ کو خوابوں میں بغلگیر کر دے Tahir Javed Tahir
انٹرنیٹ انٹرنیٹ کا دور ہے لوگ انٹرنیٹ پرباتیں کرنے لگے ہیں
نوجوان لڑکے لڑکیاں انٹرنیٹ پرملاقاتیں کرنے لگے ہیں
شرم و حیاءسرِعام نیلام ہے بے حیائی کا بس کام ہے
ملک کے شرفاءفکر مند ہیں اب اس سے ڈرنے لگے ہیں
جن کی ننگی تہذیب ہے اُن کے لیے کب یہ عجیب ہے
اب لوگوں پر اس کے گندے رنگ چڑھنے لگے ہیں
کچھ ڈھونڈیں پڑھائی کے بہانے کچھ سگائی کے بہانے
چسکوں کی یہ ریل چلی ہے مسافر اس پر چڑھنے لگے ہیں
عریانی یہاں بے حساب ہے اسلیے انٹرنیٹ کامیاب ہے
دیکھ کر اسکے نئے ڈھنگ غیرت مند اب کڑھنے لگے ہیں
کبھی بُری سمجھی جاتی تھی بے حیائی اب فیشن بن کرآئی
ماﺅں بہنوں کے کپڑے جسموں سے سے کڑنے لگے ہیں
دیکھ کر رنگ بھرنگی تصویریں بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہمیشہ چلتے تھے سیدھی راہ پراب وہ اڑنے لگے ہیں
ہر ایک کا اب تو بُرا حال ہے اسے دیکھنے کو بے قرار ہے
برے اسکے اثرات ہیں بچوں کے ذہن بکھرنے لگے ہیں
کچھ لوگ جو ہوتے ہیں مجبورجن کی پہنچ سے ہے یہ دور
دیکھ کر یہ نئے رنگ ڈھنگ اندر ہی اندر سڑنے لگے ہیں
ریٹائیرمنٹ کا بڑا فائدہ ہے وقت بچتا بہت زیادہ ہے
فارغ بوڑھے ان راہوں پر اب چلنے لگے ہیں
اے طاہر تو ہے مجبوراس لیے ہے انٹر نیٹ سے دور
کس لیے تو جلتا ہے’ تجھے اب کیوں ہول’ پڑنے لگے ہیں Tahir Javed Tahir
نوجوان لڑکے لڑکیاں انٹرنیٹ پرملاقاتیں کرنے لگے ہیں
شرم و حیاءسرِعام نیلام ہے بے حیائی کا بس کام ہے
ملک کے شرفاءفکر مند ہیں اب اس سے ڈرنے لگے ہیں
جن کی ننگی تہذیب ہے اُن کے لیے کب یہ عجیب ہے
اب لوگوں پر اس کے گندے رنگ چڑھنے لگے ہیں
کچھ ڈھونڈیں پڑھائی کے بہانے کچھ سگائی کے بہانے
چسکوں کی یہ ریل چلی ہے مسافر اس پر چڑھنے لگے ہیں
عریانی یہاں بے حساب ہے اسلیے انٹرنیٹ کامیاب ہے
دیکھ کر اسکے نئے ڈھنگ غیرت مند اب کڑھنے لگے ہیں
کبھی بُری سمجھی جاتی تھی بے حیائی اب فیشن بن کرآئی
ماﺅں بہنوں کے کپڑے جسموں سے سے کڑنے لگے ہیں
دیکھ کر رنگ بھرنگی تصویریں بدل جاتی ہیں تقدیریں
جو ہمیشہ چلتے تھے سیدھی راہ پراب وہ اڑنے لگے ہیں
ہر ایک کا اب تو بُرا حال ہے اسے دیکھنے کو بے قرار ہے
برے اسکے اثرات ہیں بچوں کے ذہن بکھرنے لگے ہیں
کچھ لوگ جو ہوتے ہیں مجبورجن کی پہنچ سے ہے یہ دور
دیکھ کر یہ نئے رنگ ڈھنگ اندر ہی اندر سڑنے لگے ہیں
ریٹائیرمنٹ کا بڑا فائدہ ہے وقت بچتا بہت زیادہ ہے
فارغ بوڑھے ان راہوں پر اب چلنے لگے ہیں
اے طاہر تو ہے مجبوراس لیے ہے انٹر نیٹ سے دور
کس لیے تو جلتا ہے’ تجھے اب کیوں ہول’ پڑنے لگے ہیں Tahir Javed Tahir
مرغا مرغا اپنا مرغیوں میں بڑامشہور ہواہے
جیسے فلموں میں عامر خان کا دور ہوا ہے
ہر روز اک نئی مرغی کے ساتھ گلی میں ٹہلنا
اس بات کا مرغوں میں بہت شور ہوا ہے
کئی بار ہو چکی ہے رقیبوں کے ہاتھ پٹائی
کھا کھا کر مار،ڈھیٹ اور منہ زور ہوا ہے
ایک بار پکڑاگیا بیوہ مرغی کے سنگ سرعام
رنڈوے مرغوں میں اس بات پر غور ہوا ہے
کم بخت دیتا نہیں ہے اب کبھی سحر کی اذان
عیاشیوں میں ڈوب کر ایسا کام چور ہوا ہے
کچھ نہ پوچھو تھانیدا ر کے گھر اس پر کیا گزری
بس یارو اک عدد ٹانگ سے معذور ہوا ہے
مولوی کی مرغی جب سے کر گئی انتقال
تب سے لاچار اور کمزور ہوا ہے
پڑوسن نے مارا طعنہ،مرا مرغا بھی مرے جیسا
سن کر یہ بات طاہر شرمندہ ضرور ہوا ہے Tahir Javed Tahir
جیسے فلموں میں عامر خان کا دور ہوا ہے
ہر روز اک نئی مرغی کے ساتھ گلی میں ٹہلنا
اس بات کا مرغوں میں بہت شور ہوا ہے
کئی بار ہو چکی ہے رقیبوں کے ہاتھ پٹائی
کھا کھا کر مار،ڈھیٹ اور منہ زور ہوا ہے
ایک بار پکڑاگیا بیوہ مرغی کے سنگ سرعام
رنڈوے مرغوں میں اس بات پر غور ہوا ہے
کم بخت دیتا نہیں ہے اب کبھی سحر کی اذان
عیاشیوں میں ڈوب کر ایسا کام چور ہوا ہے
کچھ نہ پوچھو تھانیدا ر کے گھر اس پر کیا گزری
بس یارو اک عدد ٹانگ سے معذور ہوا ہے
مولوی کی مرغی جب سے کر گئی انتقال
تب سے لاچار اور کمزور ہوا ہے
پڑوسن نے مارا طعنہ،مرا مرغا بھی مرے جیسا
سن کر یہ بات طاہر شرمندہ ضرور ہوا ہے Tahir Javed Tahir
بیگم بندر کی طرح مجھے نچاتی ہے میری بیگم
دن میں بھی ستارے دکھاتی ہے میری بیگم
چغلیوں میں لگتاہے ماسٹرز کیا اِس نے
محلے بھر میں آگ لگاتی ہے میری بیگم
پنجابی بولتی ہے انگریزی لب و لہجے میں
یوں سوسائٹی ہائی بناتی ہے میری بیگم
خواب میں ڈر کرجاگ جاتا ہوں اکثر
بغیر میک اپ جب یاد آتی ہے میری بیگم
مجھے دیتی ہے کھانے میں کریلے اور کدُو
خُود ہر روز روسٹ اُڑاتی ہے میری بیگم
ہر موضوع پر بولتی ہے جاہلوں کی طرح
بولنے میں نہیں مات کھاتی ہے میری بیگم
دکھائی دیتی ہے کبھی رفیق تو کبھی فیقا
رات کوجب سوٹا لگاتی ہے میری بیگم
رُونے دھونے میں کوئی نہیں اس کا ثانی
ہر میت پر بُلائی جاتی ہے میری بیگم
بن ٹھن کر جب دیکھتی ہے مجھے پیار سے
پھر جھُوٹ مجھ سے بلواتی ہے میری بیگم
ہر وقت رُونا روتی رہتی ہے مہنگائی کا
لیکن روز بیوٹی پارلر جاتی ہے میری بیگم
جب آتے ہیں اس کے ماں باپ ملنے
ظالم سے مظلوم بن جاتی ہے میری بیگم
ہر فیشن دیکھ کر فلموں میں،ڈراموں میں
درزیوں کی سیل بڑھاتی ہے میر ی بیگم
سسرالی مہمانوں سے ہے اسے خدا کا بیر
بس پانی پر ہی ان کو ٹرخاتی ہے میری بیگم
میکے میں مشہور ہے اس کی مہمان نوازی
اُنکو ناشتے میں پیزا کھلاتی ہے میری بیگم
اپنی زبان سے کہتی ہے حُور ہوں میں
مجھے تو لنگور جیسی نظر آتی ہے میری بیگم
کتنے سہانے گزرتے ہیں اپنے وہ دن
جن دنوں میکے چلی جاتی ہے میری بیگم
اپنے آٹھ بھائیوں کا جب دیتی ہے حوالہ
ایسے دھوتی گیلی کرواتی ہے میری بیگم
طاہر تو اک ادارے میں ہے ادنیٰ ملازم
سب کو سرکاری افسر بتاتی ہے میری بیگم Tahir Javed Tahir
دن میں بھی ستارے دکھاتی ہے میری بیگم
چغلیوں میں لگتاہے ماسٹرز کیا اِس نے
محلے بھر میں آگ لگاتی ہے میری بیگم
پنجابی بولتی ہے انگریزی لب و لہجے میں
یوں سوسائٹی ہائی بناتی ہے میری بیگم
خواب میں ڈر کرجاگ جاتا ہوں اکثر
بغیر میک اپ جب یاد آتی ہے میری بیگم
مجھے دیتی ہے کھانے میں کریلے اور کدُو
خُود ہر روز روسٹ اُڑاتی ہے میری بیگم
ہر موضوع پر بولتی ہے جاہلوں کی طرح
بولنے میں نہیں مات کھاتی ہے میری بیگم
دکھائی دیتی ہے کبھی رفیق تو کبھی فیقا
رات کوجب سوٹا لگاتی ہے میری بیگم
رُونے دھونے میں کوئی نہیں اس کا ثانی
ہر میت پر بُلائی جاتی ہے میری بیگم
بن ٹھن کر جب دیکھتی ہے مجھے پیار سے
پھر جھُوٹ مجھ سے بلواتی ہے میری بیگم
ہر وقت رُونا روتی رہتی ہے مہنگائی کا
لیکن روز بیوٹی پارلر جاتی ہے میری بیگم
جب آتے ہیں اس کے ماں باپ ملنے
ظالم سے مظلوم بن جاتی ہے میری بیگم
ہر فیشن دیکھ کر فلموں میں،ڈراموں میں
درزیوں کی سیل بڑھاتی ہے میر ی بیگم
سسرالی مہمانوں سے ہے اسے خدا کا بیر
بس پانی پر ہی ان کو ٹرخاتی ہے میری بیگم
میکے میں مشہور ہے اس کی مہمان نوازی
اُنکو ناشتے میں پیزا کھلاتی ہے میری بیگم
اپنی زبان سے کہتی ہے حُور ہوں میں
مجھے تو لنگور جیسی نظر آتی ہے میری بیگم
کتنے سہانے گزرتے ہیں اپنے وہ دن
جن دنوں میکے چلی جاتی ہے میری بیگم
اپنے آٹھ بھائیوں کا جب دیتی ہے حوالہ
ایسے دھوتی گیلی کرواتی ہے میری بیگم
طاہر تو اک ادارے میں ہے ادنیٰ ملازم
سب کو سرکاری افسر بتاتی ہے میری بیگم Tahir Javed Tahir
امیراں توں کُڑی امیراں دی، ابا ترا اے سیاست دان
میں واں مُنڈا غریباں دا ،ابا مرا اے غریب کسان
تری ڈفنس وچ کوٹھی،پورے چار کنالاں اُتے
ساڈا کچی آبادی دے وچ،دو منجیاں دا مکان
تُوں کھاوے روز ہوٹل وچ ، مکڈولنڈ تے پیزا
اسی وڈے ہو گئے آں،کھا کے چھُولے تے نان
تُوں جاوے کلباں وچ، پا کے ادھے لیڑے
اسی نچ لیندے میلایاں وچ،پا کے کچھا ،بنیان
تُوں پھریں ٹھنڈی گڈی وچ،انار کلی تے پینوراما
ساڈی ٹوٹی سائیکل اوتے،لنڈے تک اوڑان
تاڈے وچ بے حیائی،فیشن بن کے ہے آئی
ساڈی تے کُڑی ویکھ کے، نکل جاندی اے جان
تُوں کیتیاںپڑھایاں جا کے ،امریکہ تے جاپان
اسی ٹاٹاں تے پڑھ کے، سنبھالی دادے دی دکان
کھیڈاں اسی کھیڈیاں، گلیاں وچ کھا کے چھتر
تاڈے واسطے حاضر سن، وڈے وڈے میدان
دے کے ڈونیشن ،تیاڈی کالج وچ پکیاں سیٹاں
ساڈی واری شروع ہو جائے، میرٹ دی گردان
تاڈے بچے نہ پڑھ کے ،فوج وچ کرنل،جرنل
ساڈے بچے محنتاں کر کے ،چپڑاسی تے دربان
تیاڈے ویاواں وچ ،درجن ڈشاں تے شراب
سانوں لا کے ون ڈش پابندی،کیتا جے پریشان
آپوں قرضے لے کے،آپوں کر دیندے معاف
بندا ایناں نوں پُوچھے،تاڈے پیو دا اے پاکستان
چل طاہر چُپ کر جا ،ایتھے کسی نے تر ی نہیں سننی
وادوں کھپ پائی تے، تھانے وچ تُوں مہمان Tahir Javed Tahir
میں واں مُنڈا غریباں دا ،ابا مرا اے غریب کسان
تری ڈفنس وچ کوٹھی،پورے چار کنالاں اُتے
ساڈا کچی آبادی دے وچ،دو منجیاں دا مکان
تُوں کھاوے روز ہوٹل وچ ، مکڈولنڈ تے پیزا
اسی وڈے ہو گئے آں،کھا کے چھُولے تے نان
تُوں جاوے کلباں وچ، پا کے ادھے لیڑے
اسی نچ لیندے میلایاں وچ،پا کے کچھا ،بنیان
تُوں پھریں ٹھنڈی گڈی وچ،انار کلی تے پینوراما
ساڈی ٹوٹی سائیکل اوتے،لنڈے تک اوڑان
تاڈے وچ بے حیائی،فیشن بن کے ہے آئی
ساڈی تے کُڑی ویکھ کے، نکل جاندی اے جان
تُوں کیتیاںپڑھایاں جا کے ،امریکہ تے جاپان
اسی ٹاٹاں تے پڑھ کے، سنبھالی دادے دی دکان
کھیڈاں اسی کھیڈیاں، گلیاں وچ کھا کے چھتر
تاڈے واسطے حاضر سن، وڈے وڈے میدان
دے کے ڈونیشن ،تیاڈی کالج وچ پکیاں سیٹاں
ساڈی واری شروع ہو جائے، میرٹ دی گردان
تاڈے بچے نہ پڑھ کے ،فوج وچ کرنل،جرنل
ساڈے بچے محنتاں کر کے ،چپڑاسی تے دربان
تیاڈے ویاواں وچ ،درجن ڈشاں تے شراب
سانوں لا کے ون ڈش پابندی،کیتا جے پریشان
آپوں قرضے لے کے،آپوں کر دیندے معاف
بندا ایناں نوں پُوچھے،تاڈے پیو دا اے پاکستان
چل طاہر چُپ کر جا ،ایتھے کسی نے تر ی نہیں سننی
وادوں کھپ پائی تے، تھانے وچ تُوں مہمان Tahir Javed Tahir
عقل مند اک بار انداز مجھے اپنا بچگانہ لگا
بیگم کا چہرہ مجھے جانا پہچانہ لگا
شیخ جی نے کی نہیں ساری عمر شادی
مرد مجھے یہ سب مردوں میں دانا لگا
اک دن دیا ہمسائی نے خط کے ساتھ بل
یوں پہلی محبت میں پہلا جرمانہ لگا
بیگم کی سج دھج لگنے لگی ہے زہر
ہمسائی کے سنگ جب سے یارانہ لگا
درد ٹانگوں کا کمبخت رک جائے اس لمحے
جب راہ چلتی کسی حسینہ کا شانہ لگا
کرکٹ میں سٹہ بازی میچ فکسنگ
کھیل یہ مجھے ٹھگوں کا ٹھکانہ لگا
ایکسرے میں دیکھ کر درد دل ڈاکٹر بولا
کیوں نہیں اب تک تیرا اوپر کا پروانہ لگا
نیٹ پرکیا اک سولہ سالہ لڑکی نے اظہار عشق
طاہر کو یقین دلانے میں اک زمانہ لگا Tahir Javed Tahir
بیگم کا چہرہ مجھے جانا پہچانہ لگا
شیخ جی نے کی نہیں ساری عمر شادی
مرد مجھے یہ سب مردوں میں دانا لگا
اک دن دیا ہمسائی نے خط کے ساتھ بل
یوں پہلی محبت میں پہلا جرمانہ لگا
بیگم کی سج دھج لگنے لگی ہے زہر
ہمسائی کے سنگ جب سے یارانہ لگا
درد ٹانگوں کا کمبخت رک جائے اس لمحے
جب راہ چلتی کسی حسینہ کا شانہ لگا
کرکٹ میں سٹہ بازی میچ فکسنگ
کھیل یہ مجھے ٹھگوں کا ٹھکانہ لگا
ایکسرے میں دیکھ کر درد دل ڈاکٹر بولا
کیوں نہیں اب تک تیرا اوپر کا پروانہ لگا
نیٹ پرکیا اک سولہ سالہ لڑکی نے اظہار عشق
طاہر کو یقین دلانے میں اک زمانہ لگا Tahir Javed Tahir
تیس مار خان برسوں کے رسم و رواج کو یوں ہے توڑا
پہلی ہی رات بیگم کے منہ پر تھپڑ چھوڑا
سب دیتے ہیں منہ دکھلائی میں قیمتی تحفہ
میں جا کر دیا کمر میں اک کرارا کوڑا
اس کی چیخوں نے سر پر اٹھا لیا آسمان
پکڑ کر بازو جو کمر کی جانب مروڑا
مانگنے لگی معافیاں دونوں ہاتھ جوڑ کر
رو رو کر ناک اس کی بن گئی پکوڑا
بھاگی جو بے چاری خوف سے ادھر ادھر
ہاتھ میں میرے پکڑا رہ گیا اس کا جوڑا
قدموں میں گر کر مانگنے لگی وہ معافی
سینہ اپنا ہو گیا پھول کر فخر سے چوڑا
اچانک ڈر کر اٹھ بیٹھا طاہر نیند سے
کسی نے آ کر صبح سویرے جھنجھوڑا
دیکھا جو اماں بیٹھی ہیں کرسی پر آرام سے
ابا جی بیٹھے دھو رہے ہیں کام کا جوڑا Tahir Javed
پہلی ہی رات بیگم کے منہ پر تھپڑ چھوڑا
سب دیتے ہیں منہ دکھلائی میں قیمتی تحفہ
میں جا کر دیا کمر میں اک کرارا کوڑا
اس کی چیخوں نے سر پر اٹھا لیا آسمان
پکڑ کر بازو جو کمر کی جانب مروڑا
مانگنے لگی معافیاں دونوں ہاتھ جوڑ کر
رو رو کر ناک اس کی بن گئی پکوڑا
بھاگی جو بے چاری خوف سے ادھر ادھر
ہاتھ میں میرے پکڑا رہ گیا اس کا جوڑا
قدموں میں گر کر مانگنے لگی وہ معافی
سینہ اپنا ہو گیا پھول کر فخر سے چوڑا
اچانک ڈر کر اٹھ بیٹھا طاہر نیند سے
کسی نے آ کر صبح سویرے جھنجھوڑا
دیکھا جو اماں بیٹھی ہیں کرسی پر آرام سے
ابا جی بیٹھے دھو رہے ہیں کام کا جوڑا Tahir Javed
رب سے دعا کوئی سوہنی کڑی مس کال دے ربا
زندگی میں کوئی ایسا حادثہ ڈال دے ربا
دے ہم کو زرداری جیسے ٹھاٹ بھاٹ
بعد میں چاہے دوزخ میں ڈال دے ربا
جدھر سے گزروں لوگ کریں سلام
کوئی ایسا سیاسی سسرال دے ربا
جس حسینہ کو پکاروں ہو جائے سنگ
اپنی شخصیت میں ایسے کمال دے ربا
غریباں دی جھولی میں پھینک چند ملین
ان پیسے والوں کو اب ٹال دے ربا
اشوا رائے،ریما ثنا ہو یا کترینہ کپور
اپنے حصے میں سوہنا مال دے ربا
ان سب سیاستدانوں کو کر دے فارغ
مجھ کو بس کرسی کا اک سال دے ربا
سر کی کھیتی اجڑے ہو گئے کئی سال
اس گنج پر تھوڑے تھوڑے بال دے ربا
دو چار کارنامے ہوں اپنے کھاتے میں
محلے کی ہر لڑکی میری مثال دے ربا
کر دے عدنان سمیع کی طرح مشہور
ہم کو بھی کوئی اچھے سر تال دے ربا Tahir Javed Tahir
زندگی میں کوئی ایسا حادثہ ڈال دے ربا
دے ہم کو زرداری جیسے ٹھاٹ بھاٹ
بعد میں چاہے دوزخ میں ڈال دے ربا
جدھر سے گزروں لوگ کریں سلام
کوئی ایسا سیاسی سسرال دے ربا
جس حسینہ کو پکاروں ہو جائے سنگ
اپنی شخصیت میں ایسے کمال دے ربا
غریباں دی جھولی میں پھینک چند ملین
ان پیسے والوں کو اب ٹال دے ربا
اشوا رائے،ریما ثنا ہو یا کترینہ کپور
اپنے حصے میں سوہنا مال دے ربا
ان سب سیاستدانوں کو کر دے فارغ
مجھ کو بس کرسی کا اک سال دے ربا
سر کی کھیتی اجڑے ہو گئے کئی سال
اس گنج پر تھوڑے تھوڑے بال دے ربا
دو چار کارنامے ہوں اپنے کھاتے میں
محلے کی ہر لڑکی میری مثال دے ربا
کر دے عدنان سمیع کی طرح مشہور
ہم کو بھی کوئی اچھے سر تال دے ربا Tahir Javed Tahir