Poetries by Tauseef Ahmad
یہ تشنہ لبوں کا پرچم ہے قوم کے ذمہ داروں کا دیکھو کاروبار
بھوکی ننگی جنتا پر ہوتا اتیاچار
اپنی روٹی چاند ہوئی دودھ دہی کو کیا جانو
لگا گہن ہے سبزی پہ کالی سب ہی دال ہوئی
ہر راہ پہ کوئی رہزن ہے ہر موڑ پے کوئی دشمن ہے
ہر شخص یہاں ہے بیگانہ ہر روح یہاں پیاسی ہے
فریاد یہاں تو ہوتی ہے انصاف یہاں کب ہوتا ہے
اور خون جگر سے یارمیرے کب پیٹ کا دوزخ بجھتا ہے
دریا کو یہ خشک نہ کردے بستی کو صحرا نہ کدے
یہ تشنہ لبوں کا پرچم ہے اور خاک و خون کی آندھی ہے Tauseef Ahmad
بھوکی ننگی جنتا پر ہوتا اتیاچار
اپنی روٹی چاند ہوئی دودھ دہی کو کیا جانو
لگا گہن ہے سبزی پہ کالی سب ہی دال ہوئی
ہر راہ پہ کوئی رہزن ہے ہر موڑ پے کوئی دشمن ہے
ہر شخص یہاں ہے بیگانہ ہر روح یہاں پیاسی ہے
فریاد یہاں تو ہوتی ہے انصاف یہاں کب ہوتا ہے
اور خون جگر سے یارمیرے کب پیٹ کا دوزخ بجھتا ہے
دریا کو یہ خشک نہ کردے بستی کو صحرا نہ کدے
یہ تشنہ لبوں کا پرچم ہے اور خاک و خون کی آندھی ہے Tauseef Ahmad
ہاتھ رکھ دو کہ درد کہاں ہوتا ہے بے وجہ تو نہیں مضطر شہر کے حالات
ہاتھ رکھ دو کہ درد کہاں ہوتا ہے
رنگ و بو سے پہچان ابھی باقی ہے
سرشوق میں ایمان جواں ہوتا ہے
کچھ تو بدلو کہ زمانے کو بدلنا ہوگا
دیدہ نم بھی تو آتش فشاں ہوتا ہے
بحر زاہد میں عبادت کی موجیں ہیں
دست عامل میں قسمت کا نشاں ہوتا ہے
فکر فردا تو گراں ہے تم پر توصیف
آج کی آج کل کن کہاں ہوتا ہے Tauseef Ahmad
ہاتھ رکھ دو کہ درد کہاں ہوتا ہے
رنگ و بو سے پہچان ابھی باقی ہے
سرشوق میں ایمان جواں ہوتا ہے
کچھ تو بدلو کہ زمانے کو بدلنا ہوگا
دیدہ نم بھی تو آتش فشاں ہوتا ہے
بحر زاہد میں عبادت کی موجیں ہیں
دست عامل میں قسمت کا نشاں ہوتا ہے
فکر فردا تو گراں ہے تم پر توصیف
آج کی آج کل کن کہاں ہوتا ہے Tauseef Ahmad
امتحان عشق کا پہلا سوال تھا امتحان عشق کا پہلا سوال تھا
اور سامنے وہ چہرہ پری باجمال تھا
آنکھوں میں تھی حیا کہ نہ پوچھیے جناب
پلکیں جھکا کے انکا اٹھانا کمال تھا
ہاتھوں میں تھی قلم وفا دل کتاب تھا
پھر بھی خیال دل میرا کہنا محال تھا
زیر و زبر بھی حفظ کر آئے تھے گھر سے ہم
تیاریوں میں صرف کیا پورا سال تھا
جنبش لب جاناں ہمیں مسحور کر گئی
ہم ہو سکے نہ پاس ہاں اتنا ملال تھا Tauseef Ahmad
اور سامنے وہ چہرہ پری باجمال تھا
آنکھوں میں تھی حیا کہ نہ پوچھیے جناب
پلکیں جھکا کے انکا اٹھانا کمال تھا
ہاتھوں میں تھی قلم وفا دل کتاب تھا
پھر بھی خیال دل میرا کہنا محال تھا
زیر و زبر بھی حفظ کر آئے تھے گھر سے ہم
تیاریوں میں صرف کیا پورا سال تھا
جنبش لب جاناں ہمیں مسحور کر گئی
ہم ہو سکے نہ پاس ہاں اتنا ملال تھا Tauseef Ahmad
چہرہ میری نظر میں چہرہ بسا ہوا ہے جس کا میری نظر میں
سب سے حسیں جدا وہ چہرہ میری نظر میں
محسوس ہو رہا ہے کہیں پھول کھل رہے ہوں
گویا کہ اک چمن وہ چہرہ میری نظر میں
آنکھوں کی شوخیاں معصوم سی ادا
دوجا نہیں کوئی بھی چہرہ میری نظر میں
پھیلی ہوئی لبوں پر ہلکی سی اک ہنسی
سمٹی ہوئی بہار وہ چہرہ میری نظر میں
کیسے کروں بیاں توصیف اس نظر کی
خورشید و ماہتاب وہ چہرہ میری نظر میں Tauseef Ahmad
سب سے حسیں جدا وہ چہرہ میری نظر میں
محسوس ہو رہا ہے کہیں پھول کھل رہے ہوں
گویا کہ اک چمن وہ چہرہ میری نظر میں
آنکھوں کی شوخیاں معصوم سی ادا
دوجا نہیں کوئی بھی چہرہ میری نظر میں
پھیلی ہوئی لبوں پر ہلکی سی اک ہنسی
سمٹی ہوئی بہار وہ چہرہ میری نظر میں
کیسے کروں بیاں توصیف اس نظر کی
خورشید و ماہتاب وہ چہرہ میری نظر میں Tauseef Ahmad
تپتے سحرا کو بھی تپتے سحرا کو بھی گلزار بنا دیتی ہے
کوہ کو چیر کے دریا بھی بہا دیتی ہے
حسن آدم ہے عقل و محنت اس کی
جو اک ذرہ کو انسان بنا دیتی ہے
وہ ملیگا اتنا تو یقیں ہے مجھ کو
خاک راہ اک حوصلہ نیا دیتی ہے
وقت جاتا ہے نہ لوٹ آنے کے لئے
لمحے لمحے کی اک زیست صدا دیتی ہے
بے وجہ تو نہیں گردش ایام توصیف
سب تو فانی ہے وہ ہی باقی ہے بتا دیتی ہے
Tauseef Ahmad
کوہ کو چیر کے دریا بھی بہا دیتی ہے
حسن آدم ہے عقل و محنت اس کی
جو اک ذرہ کو انسان بنا دیتی ہے
وہ ملیگا اتنا تو یقیں ہے مجھ کو
خاک راہ اک حوصلہ نیا دیتی ہے
وقت جاتا ہے نہ لوٹ آنے کے لئے
لمحے لمحے کی اک زیست صدا دیتی ہے
بے وجہ تو نہیں گردش ایام توصیف
سب تو فانی ہے وہ ہی باقی ہے بتا دیتی ہے
Tauseef Ahmad