Tere Guroor Ka Huliya Bigad Daloon Ga
Poet: جون ایلیا

ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں گا
میں آج تیرا گریبان پھاڑ ڈالوں گا
طرح طرح کے شگوفے جو چھوڑتا ہے تو
میں دل کا باغ نمو ہی اجاڑ ڈالوں گا
کہاں کا سیل اجل تا کنار گاہ عبد
میں ہوں عدم میں سبھی کو لتاڑ ڈالوں گا
بہت ادا سے تو گزرا ہے چشمہ ساروں سے
یہ سن کہ راہ میں تیری میں باڑ ڈالوں گا
شگفتگی کی تری یاد جو دلاتے ہیں
میں ایسے سارے ہی پودھے اکھاڑ ڈالوں گا
یہ طے کیا ہے کہ دریا موج مستی کو
سراب دشت تپیدا میں گاڑ ڈالوں گا
تمام نقش تمنا فریب تھے سو تھے
میں سارے نقش تمنا بگاڑ ڈالوں گا
جو رشتہ ہے دل جاں کا ہے سر بہ سر جھوٹا
سو میں تو اب دل و جاں میں دراڑ ڈالوں گا
جھنڈولے بالوں کی پر فتنہ اس سے کہہ دینا
میں اس کمین کو زندہ ہی گاڑ ڈالوں گا
مجھے تو اب اسے دنگل میں گندہ کرنا ہے
سو میں اسے برے حالوں پچھاڑ ڈالوں گا
Tere Guroor Ka Huliya Bigad Daloon Ga Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Jaun Elia poetry in which says Tere Guroor Ka Huliya Bigad Daloon Ga. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Jaun Elia shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.