Poetries by usman ahsan
صحافی لفافہ نہیں لیتا دوستو ہر خبر و تجزیہ کی تحقیق ہے لازم
ہر اینکر و صحافی قابل اعتماد نہیں ہوتا
سیاہ کو کریں سفید سفید کو بنائیں کالا
انھیں کونسا اس سب کام کا بل ہے آتا
روز بدلیں یہ پینترا نت نبھائیں یہ وفاداریاں
عثمان دعوی پھر کہ صحافی لفافہ نہیں لیتا
ان پر لگے الزام تو کرتے ہیں تقاضہ ثبوت کا
خود دن رآت ہر صاحب کردار کی دستار ہے اچھالتا
ہم سے مت الجھو نہ کرو بات تم ثبوت کی
عکس لفافے کا تمھاری آنکھوں میں ہے نظر آتا
تنقید تمھاری سرآنکھوں پر مگر حسد تو نہ کر
کاش حاسد رقیب میرا تھوڑا سا قد اپنا ہی بڑھاتا Usman Ahsan
ہر اینکر و صحافی قابل اعتماد نہیں ہوتا
سیاہ کو کریں سفید سفید کو بنائیں کالا
انھیں کونسا اس سب کام کا بل ہے آتا
روز بدلیں یہ پینترا نت نبھائیں یہ وفاداریاں
عثمان دعوی پھر کہ صحافی لفافہ نہیں لیتا
ان پر لگے الزام تو کرتے ہیں تقاضہ ثبوت کا
خود دن رآت ہر صاحب کردار کی دستار ہے اچھالتا
ہم سے مت الجھو نہ کرو بات تم ثبوت کی
عکس لفافے کا تمھاری آنکھوں میں ہے نظر آتا
تنقید تمھاری سرآنکھوں پر مگر حسد تو نہ کر
کاش حاسد رقیب میرا تھوڑا سا قد اپنا ہی بڑھاتا Usman Ahsan
شوکاز نوٹس صرف واعظ کو ہی ہم تم سب نے بدنام کررکھا ہے
ورنہ شیوخ الاسلام نے بھی قوم سے دغا کررکھا ہے
سیاستداں و شیوخ قاضی و ملاں سبھی شریک جرم ہیں
عثمان دھوکے کی منڈی ہے ساماں سب نے سجا رکھا ہے
خدمت خلق کا درد ہر اک کے سینے میں ہے موجزن
مرض اپنا لاعلاج نہ تھا ہم نے قاتلوں کو مسیحا بنا رکھا ہے
تھر میں بچے بھوک سے مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہے ہیں
مگر بڑے سائیں نے سائیں کو شوکاز نوٹس بھجوا رکھا ہے Usman Ahsan
ورنہ شیوخ الاسلام نے بھی قوم سے دغا کررکھا ہے
سیاستداں و شیوخ قاضی و ملاں سبھی شریک جرم ہیں
عثمان دھوکے کی منڈی ہے ساماں سب نے سجا رکھا ہے
خدمت خلق کا درد ہر اک کے سینے میں ہے موجزن
مرض اپنا لاعلاج نہ تھا ہم نے قاتلوں کو مسیحا بنا رکھا ہے
تھر میں بچے بھوک سے مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہے ہیں
مگر بڑے سائیں نے سائیں کو شوکاز نوٹس بھجوا رکھا ہے Usman Ahsan
آگیا ہے انقلاب مبارک ہو مبارک ہو ، آگیا ہے انقلاب
دو تم قادری کو اب ووٹ و نوٹ بے حساب
لگایا تھا نعرہ انقلاب کا ہوئے جو ناکام تو فرمایا
ہم نے دیا ہے تمھیں شعور یہی تو ہے اصل انقلاب
شیخ لے لو اپنا شعور ہمیں نہیں ہے یہ درکار
واپس لوٹا دو ہمارا وہ وقت جو تونے کیا خراب
نعرہ آپ نے لگایا تھا حسینی فکر کی اتباع کا
مگر ہاتھ ملایا ہر دور کے یزید سے آپ نے جناب
عثمان کس پر کریں اعتماد کس کا کریں ہم اعتبار
جسے جانا معتبر اسی نے کیا اس قوم کا خانہ خراب
آئے تھے قادری لانے انقلاب
گئے کینڈا اب وہ تو جناب
قسمیں کھائیں تھیں گنبد خضرا کی
کیا منہ دکھلائے گا انھیں یہ یوم حساب Usman Ahsan
دو تم قادری کو اب ووٹ و نوٹ بے حساب
لگایا تھا نعرہ انقلاب کا ہوئے جو ناکام تو فرمایا
ہم نے دیا ہے تمھیں شعور یہی تو ہے اصل انقلاب
شیخ لے لو اپنا شعور ہمیں نہیں ہے یہ درکار
واپس لوٹا دو ہمارا وہ وقت جو تونے کیا خراب
نعرہ آپ نے لگایا تھا حسینی فکر کی اتباع کا
مگر ہاتھ ملایا ہر دور کے یزید سے آپ نے جناب
عثمان کس پر کریں اعتماد کس کا کریں ہم اعتبار
جسے جانا معتبر اسی نے کیا اس قوم کا خانہ خراب
آئے تھے قادری لانے انقلاب
گئے کینڈا اب وہ تو جناب
قسمیں کھائیں تھیں گنبد خضرا کی
کیا منہ دکھلائے گا انھیں یہ یوم حساب Usman Ahsan
حب آل نبی گر تمھارے نذدیک گناہ محبت آل نبی کی
اس گناہ پر توبہ میں نہ کروں گا کبھی
رافضی ہوں نہ خارجی نہ ہی میں ناصبی
آدب مسلک میرا مذہب ہے حب آل نبی
مؤزن بہت گذرے پر آذان دے گئے سیدنا بلال
زیر خنجر سجدہ کرگئے حسین ابن علی
نوک نیزہ پر قرآن سناکر حسین گئے سمجھا
شہید ہوتا ہے زندہ اسے مردہ نہ کہنا کبھی
خاطر میں نہیں لاتا شاہوں کو وہ فقیر
جو عثمان کرتا ہے آل نبی کے در کی گدائی
واعظ دوزخ سے نہ ڈراجنت سے نہ بہلا مجھے
میں منگتا حسین کا جنت تو ہے میرے حسین کی Usman Ahsan
اس گناہ پر توبہ میں نہ کروں گا کبھی
رافضی ہوں نہ خارجی نہ ہی میں ناصبی
آدب مسلک میرا مذہب ہے حب آل نبی
مؤزن بہت گذرے پر آذان دے گئے سیدنا بلال
زیر خنجر سجدہ کرگئے حسین ابن علی
نوک نیزہ پر قرآن سناکر حسین گئے سمجھا
شہید ہوتا ہے زندہ اسے مردہ نہ کہنا کبھی
خاطر میں نہیں لاتا شاہوں کو وہ فقیر
جو عثمان کرتا ہے آل نبی کے در کی گدائی
واعظ دوزخ سے نہ ڈراجنت سے نہ بہلا مجھے
میں منگتا حسین کا جنت تو ہے میرے حسین کی Usman Ahsan
جمہوریت کو نہ دیکھا میں نے ویلوں پر نیم دانشوروں کو ناچتے دیکھا
میں نے نظریوں کو وزارتوں پر بکتے ہوے دیکھا
میں نے جگادڑیوں کو کرپشن کے لئیے میثاق جمہورت کرتے دیکھا
میں نے صحافیوں کو جمہوریت کے نام پر روٹیاں سینکتے دیکھا
میں نے ملاؤں کو ڈیزل کے عوض ضمیر بیچتے دیکھا
میں نے دانے دنکے کے لئیے سیاستدانوں کو چھتریاں بدلتے دیکھا
میں نے جمہوریت کو اشرافیہ کے سامنے ناچتے دیکھا
روز میں نے قانون کو طاقتروں کی لونڈی بنتے دیکھا
میں نے وسیع تر قومی مفاد میں ملک ہوتے دیوالیہ دیکھا
بہت کچھ دیکھا عثمان مگر وطن عزیز میں جمہوریت کو نہ دیکھا usman ahsan
میں نے نظریوں کو وزارتوں پر بکتے ہوے دیکھا
میں نے جگادڑیوں کو کرپشن کے لئیے میثاق جمہورت کرتے دیکھا
میں نے صحافیوں کو جمہوریت کے نام پر روٹیاں سینکتے دیکھا
میں نے ملاؤں کو ڈیزل کے عوض ضمیر بیچتے دیکھا
میں نے دانے دنکے کے لئیے سیاستدانوں کو چھتریاں بدلتے دیکھا
میں نے جمہوریت کو اشرافیہ کے سامنے ناچتے دیکھا
روز میں نے قانون کو طاقتروں کی لونڈی بنتے دیکھا
میں نے وسیع تر قومی مفاد میں ملک ہوتے دیوالیہ دیکھا
بہت کچھ دیکھا عثمان مگر وطن عزیز میں جمہوریت کو نہ دیکھا usman ahsan
کتاب ماضی ۔۔۔۔۔ ہماری جنبش لب پر دنیا کان لگاتی تھی
آج سنتا نہیں کوئی جو ہم چیختے چلاتے ہیں
جس سمت بھی گئے ہم نے سکے بٹھا دیے تھے
آج رخ جدھر کا کریں تیر ملامتی ہم پر چلتے ہیں
کہاں بھول ہوئی کہاں کر بیٹھے ہیں ہم خطا
آؤ عثمان ورق کتاب ماضی کا آج پلٹتے ہیں
شائد سدھار لیں صدیوں کی اپنی خطا ہم
اور پا لیں دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار ہم usman ahsan
آج سنتا نہیں کوئی جو ہم چیختے چلاتے ہیں
جس سمت بھی گئے ہم نے سکے بٹھا دیے تھے
آج رخ جدھر کا کریں تیر ملامتی ہم پر چلتے ہیں
کہاں بھول ہوئی کہاں کر بیٹھے ہیں ہم خطا
آؤ عثمان ورق کتاب ماضی کا آج پلٹتے ہیں
شائد سدھار لیں صدیوں کی اپنی خطا ہم
اور پا لیں دوبارہ اپنا کھویا ہوا وقار ہم usman ahsan
اشارہ کسی کا لٹ گیا بیچارہ غریب دور شرافت میں
گر یہ شرافت ہے تو زرداری بدمعاش ہی اچھا تھا
بجلی بند گیس بند آٹا ناپید، وجہ جو پوچھی تو آئی صدا
کم فہم تجھے معلوم نہیں دور حکومت ہے شرفاء کا
اس بار قسم سے انھیں ووٹ دینے کی ہم نے کی نہیں خطا
مگر پھر بھی یہ پنکچر لگا کے گئے ہیں آ آ
یارو اب تم ہی بتاؤ کسے ٹہراؤں مجرم اس سب کا
نجم سیٹھی کو؟ یا اسے جو علمبردار تھا انصاف کا
ٹھوکریں کھاتا ہے دربدر کی انصاف کے لئیے جو عمرآن
تو کہتے ہیں خواجہ سرا کہ ملا ہے اشارہ اسے کسی کا
عثمان سیکھی تھی جس نے سیاست ضیاء کی گود میں
افسوس ہے وہی تو آج علمبردار جمہوریت کا usman ahsan
گر یہ شرافت ہے تو زرداری بدمعاش ہی اچھا تھا
بجلی بند گیس بند آٹا ناپید، وجہ جو پوچھی تو آئی صدا
کم فہم تجھے معلوم نہیں دور حکومت ہے شرفاء کا
اس بار قسم سے انھیں ووٹ دینے کی ہم نے کی نہیں خطا
مگر پھر بھی یہ پنکچر لگا کے گئے ہیں آ آ
یارو اب تم ہی بتاؤ کسے ٹہراؤں مجرم اس سب کا
نجم سیٹھی کو؟ یا اسے جو علمبردار تھا انصاف کا
ٹھوکریں کھاتا ہے دربدر کی انصاف کے لئیے جو عمرآن
تو کہتے ہیں خواجہ سرا کہ ملا ہے اشارہ اسے کسی کا
عثمان سیکھی تھی جس نے سیاست ضیاء کی گود میں
افسوس ہے وہی تو آج علمبردار جمہوریت کا usman ahsan