Yeh Laal Dibya Mein Jo Pari Hai Woh Mun Dikhayi Pari Rahay Gi
Poet: عامر امیر

یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی پڑی رہے گی
جو میں بھی روٹھا تو صبح تک تو سجی سجائی پڑی رہے گی
نہ تو نے پہنے جو اپنے ہاتھوں میں میری ان انگلیوں کے کنگن
تو سوچ لے کتنی سونی سونی تری کلائی پڑی رہے گی
ہمارے گھر سے یوں بھاگ جانے پہ کیا بنے گا میں سوچتا ہوں
محلے بھر میں کئی مہینوں تلک دہائی پڑی رہے گی
جہاں پہ کپ کے کنارے پر ایک لپ اسٹک کا نشان ہوگا
وہیں پہ اک دو قدم کی دوری پہ ایک ٹائی پڑی رہے گی
ہر ایک کھانے سے پہلے جھگڑا کھلائے گا کون پہلے لقمہ
ہمارے گھر میں تو ایسی باتوں سے ہی لڑائی پڑی رہے گی
اور اب مٹھائی کی کیا ضرورت میں تجھ سے مل جل کے جا رہا ہوں
مگر ہے افسوس تیرے ہاتھوں کی رس ملائی پڑی رہے گی
مجھے تو آفس کے آٹھ گھنٹوں سے ہول آتا ہے سوچ کر یہ
ہمارے مابین روز برسوں کی یہ جدائی پڑی رہے گی
جو میری مانو تو میرے آفس میں کوئی مرضی کی جاب کر لو
کہ ہم نے کیا کام وام کرنا ہے کاروائی پڑی رہے گی
ہمارے سپنے کچھ اس طرح سے جگائے رکھیں گے رات ساری
کہ دن چڑھے تک تو میری باہوں میں کسمسائی پڑی رہے گی
اس ایک بستر پہ آج کوئی نئی کہانی جنم نہ لے لے
اگر یوں ہی اس پہ سلوٹوں سے بھری رضائی پڑی رہے گی
مری محبت کے تین درجے ہیں سہل مشکل یا غیر ممکن
تو ایک حصہ ہی جھیل پائے گی دو تہائی پڑی رہے گی
Yeh Laal Dibya Mein Jo Pari Hai Woh Mun Dikhayi Pari Rahay Gi Poetry - Urdu poetry is filled with so many emotions and insights. Just like this couplet of Amir Ameer poetry in which says Yeh Laal Dibya Mein Jo Pari Hai Woh Mun Dikhayi Pari Rahay Gi. You will find 2 lines and ghazals in image & text form on Amir Ameer shayari. Within the vast realm of Urdu poetry, you'll discover a diverse spectrum of themes like sad, love, friendship, mother, father and Islam. Renowned poets such as Allama Iqbal, John Elia, Ahmad Faraz, and Mirza Ghalib has beautifully written Urdu shayari about these timeless themes.