آئینہ
Poet: Mussawar Ali Baloch By: Mussawar Ali Baloch, kتاریخ بتاتی ہے
ہم حوصلے والے تھے ہاں دبدبے والے تھے
حالات یہ کہتے ہیں
بزدل ہوئے تو ہم ہیں کاہل ہوئے تو ہم ہیں
تاریخ بتاتی ہے
لی رہنمائی جب تک قرآن ہی سے ہم نے
کھائی نہ مات تب تک کسی اجنبی سے ہم نے
حالات یہ کہتے ہیں
قرآن وہ ہمارا طاقوں پہ سج رہا ہے
ہر کان میں نغمہ مغرب کا بج رہا ہے
تاریخ بتاتی ہے
اک حکمراں عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھا انصاف کا تھا داعی
رعایا کو خلیفہ تک آسان تھی رسائی
زیور سے لدی عورت جو گھر سے نکلتی تھی
بے خوف بے خطر منزل کو پہنچتی تھی
حالات یہ کہتے ہیں
چوروں کی حکومت ہے چوروں کا بسیرا ہے
مسلم ہی لٹ رہا ہے ، مسلم ہی لٹیرا ہے
تاریخ بتاتی ہے
رسول صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیٹا مثال بن گیا تھا
ہاں دین ہی کے واسطے وہ ڈھال بن گیا تھا
سردی کے اس نے یارو ثابت ےہ کردیا تھا
ہو دین کو خطرہ تو سب کچھ ہی لٹادو تم باطل کو مٹادو تم
حالات یہ کہتے ہیں
ہر سو یہ دہائی ہے، بے دینگی چھائی ہے
سارے مسلماں اپنے مرکز سے ہٹ گئے ہیں
ٹکڑوں میں،بٹ گئے ہیں
نفرت کی آگ ہر سو غیروں نے لگائی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے
کہ کیسے ابن قاسم اک بہن کو بچانے کھینچتا چلا آیا تھا
دھرتی پہ اس داہر کو فرعون سے آمر کو
وہ درس پڑھایا تھا
کہ آج تلک ہندو اس کو نہ بھلا پایا
حالات یہ کہتے ہیں
عرصہ ہی ہوگیا ہے کشمیر جل رہا ہے
نہ جانے کتنی بہنیں
ناموس بھی لٹا کر
ہاں راہ تک رہی ہیں
قاسم کی، ایوبی کی، محمود غزنوی کی
قصہ یہ مختصر ہے
رونا تو عمر بھر ہے
حاکم ہو یا کہ تاجر
عالم ہو یا کہ سیید
کردار ان سبھی کا
تاریخ میں مقید
تاریخ چینحتی ہے لیکن خموش ہم ہیں
مغرب کی مستیوں میں
آہ ! مدہوش ہم ہیں
ایماںفروش ہم ہیں
ایماں فروش ہم ہیں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






