اس زمانے میں مُوَحِّد کہاں سے لاؤ گے
ڈھونڈتے ہی مُتَوَکِّل یہاں رہ جاؤ گے
برق گر تی ہے کبھی آشیاں مٹتا بھی ہے
جو ارادے رہیں پختہ تو سنبھل جاؤگے
جو حوادث کبھی گھیریں تو نہ ہو کوئی غم
جو یقیں پختہ ہو تابع سبھی کو پاؤگے
ایسا قدرت نے کرشمہ بھی کبھی دکھلایا
آگ کے شعلوں میں رہ کر کبھی سستاؤگے
یہ ہوائیں جو مخالف بھی چلیں تو کیا غم
ان میں پلنا ہی جو سیکھو تو نہ گھبراؤگے
کوئی اندازِ بیاں ایسا جو بھائے من کو
نہ ہو اخلاص تو پھر منہ کی ہی بس کھاؤ گے
وہ تو جھانسے میں کسی کے نہیں آنے والے
جو ہیں مخلص اُنہیں کیسے کبھی للچاؤگے
یہ گزارش ہے ستم گر سے اثر کی اتنی
کہ ستم پر تو بلا شک ہی صِلَہ پاؤگے