سب حمد اللہ کی جس نے کیا عطا
رحمت والا جس نے بخشی ہر خطا
میں خطا کار اور جلد باز انسان
سب لیا اور ہوا پھر لا پتا
مگر وہ رحیم جو مجھے دیا بتا
دور نہ جا اس سے کہ جس نے کیا عطا
کیسا ہے ظالم تو جو ہے اسے بھولتا
اپنا سکوں اس بھری دنیا میں ڈھونڈتا
کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر گھومتا
ناچے کرے رقص اور کبھی ہے جھومتا
عظیم خلقت ہے تو یہ کیوں ہے بھولتا
اللہ کے ساتھ تو اور کتنوں کو پوجتا
ابتدا سے تھے تیرے دشمن بہت
مگر اس نے دی تجھے سب پر سبقت
دیا تجھے علم اور اپنی معرفت
خلیفہ بنا کر تجھے بخشی عزت
تیرے لطف کے لیے ہے ہر نعمت
دیکھتا کیوں نہیں یہ کارخانہء قدرت!
اللہ کی توحید ہی ہے تیری شان
ہر رستے پر ہے بیٹھا ہوا شیطان
وہ تیرا دشمن ہے یہ جان لے انسان
نہ تباہ ہو اور حقیقت پہچان
اسلام ہے اٹل سو ہو جا مسلمان
نہیں اور کوئی دین یہ مان لے انسان۔
اسلام میں چھپی ہے ہر عظمت
یہ خزانہ سکوں کا اور باعث راحت
ہوئے جھگڑے ختم اب نہ کوئی عداوت
اس کے تلے سب بنے اک ملّت
اب سوال کیا جب کہے یہ قڑآن
آ جائے اس میں وہ جو چاہے عافیت۔
عقل تیرے پاس تو یہ سوچ ذر
نہ رہے یہود اور نہ نصاریٰ
مانیں یہ اللہ کو پر پائیں خسارہ
حق ملا انھیں پر نہ مانیں دوبارہ
اپنا نقصان ان کا کیا اپنا بگاڑ
حالانکہ ایک ہے اللہ تو ہمارا۔
جان لیا حق پر نہ لائے یقین
بھلا پھر کس بات کے تھے یہ فطین
سب ملا انھیں پر نہ ملا دین
نہ عرب کے یہ اور نہ ان کا فلسطین
دنیا و آخرت رہی ان کی برباد
ان میں بہت سے ہیں بے شک بھلے مکین۔
فراموش کی حقیقت یا گئے بھول
آنے والا تھا اک اللہ کا رسول
یہ بتا گئے تھے انھیں پچھلے انبیاء
مگر ان کے ذہنوں نے نہ کیا قبول
یہ چھوڑ گئے اللہ کا راستہ
نہ لیا حق اور ہوئے فلاح سے دور۔
اسلام نے کیا اعلان عام تھ
سنو اے لوگوں اللہ نے کہ
محمد رسول اللہ ہیں امام انبیاء
اب کوئی بھی ہو تم کرو ان کی اتباع
آج سے اسلام ہے تو چھوڑو سارے دین
اب دین محمد ہے اللہ کا راستہ۔
کر ہوش تو کیوں نہیں مانت
اے انسان سچ کیوں نہیں جانت
ضد چھوڑ دے اور مان حکم رب
کیوں نہیں تو قڑان کو تھامت
کیا خوب کلام عطا ہوا تجھے
یہ حق کیوں تو نہیں مانتا۔
ہے عالم تو پھر کر ذرا دلیل
وقت ہے چھوڑ دے تو راہ عزازیل
انجام ہے تیرا بس تیرے ہاتھ میں
ایسا نہ ہو کہ ہو جائے تو ذلیل
نایاب کیسے حق سکھلائیے انھیں
اور کیسے حق پہ لائیے انھیں۔