اسلام دین حق
Poet: ڈاکٹر صبا غزالی By: ڈاکٹر صبا غزالی, Karachiسب حمد اللہ کی جس نے کیا عطا
رحمت والا جس نے بخشی ہر خطا
میں خطا کار اور جلد باز انسان
سب لیا اور ہوا پھر لا پتا
مگر وہ رحیم جو مجھے دیا بتا
دور نہ جا اس سے کہ جس نے کیا عطا
کیسا ہے ظالم تو جو ہے اسے بھولتا
اپنا سکوں اس بھری دنیا میں ڈھونڈتا
کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر گھومتا
ناچے کرے رقص اور کبھی ہے جھومتا
عظیم خلقت ہے تو یہ کیوں ہے بھولتا
اللہ کے ساتھ تو اور کتنوں کو پوجتا
ابتدا سے تھے تیرے دشمن بہت
مگر اس نے دی تجھے سب پر سبقت
دیا تجھے علم اور اپنی معرفت
خلیفہ بنا کر تجھے بخشی عزت
تیرے لطف کے لیے ہے ہر نعمت
دیکھتا کیوں نہیں یہ کارخانہء قدرت!
اللہ کی توحید ہی ہے تیری شان
ہر رستے پر ہے بیٹھا ہوا شیطان
وہ تیرا دشمن ہے یہ جان لے انسان
نہ تباہ ہو اور حقیقت پہچان
اسلام ہے اٹل سو ہو جا مسلمان
نہیں اور کوئی دین یہ مان لے انسان۔
اسلام میں چھپی ہے ہر عظمت
یہ خزانہ سکوں کا اور باعث راحت
ہوئے جھگڑے ختم اب نہ کوئی عداوت
اس کے تلے سب بنے اک ملّت
اب سوال کیا جب کہے یہ قڑآن
آ جائے اس میں وہ جو چاہے عافیت۔
عقل تیرے پاس تو یہ سوچ ذر
نہ رہے یہود اور نہ نصاریٰ
مانیں یہ اللہ کو پر پائیں خسارہ
حق ملا انھیں پر نہ مانیں دوبارہ
اپنا نقصان ان کا کیا اپنا بگاڑ
حالانکہ ایک ہے اللہ تو ہمارا۔
جان لیا حق پر نہ لائے یقین
بھلا پھر کس بات کے تھے یہ فطین
سب ملا انھیں پر نہ ملا دین
نہ عرب کے یہ اور نہ ان کا فلسطین
دنیا و آخرت رہی ان کی برباد
ان میں بہت سے ہیں بے شک بھلے مکین۔
فراموش کی حقیقت یا گئے بھول
آنے والا تھا اک اللہ کا رسول
یہ بتا گئے تھے انھیں پچھلے انبیاء
مگر ان کے ذہنوں نے نہ کیا قبول
یہ چھوڑ گئے اللہ کا راستہ
نہ لیا حق اور ہوئے فلاح سے دور۔
اسلام نے کیا اعلان عام تھ
سنو اے لوگوں اللہ نے کہ
محمد رسول اللہ ہیں امام انبیاء
اب کوئی بھی ہو تم کرو ان کی اتباع
آج سے اسلام ہے تو چھوڑو سارے دین
اب دین محمد ہے اللہ کا راستہ۔
کر ہوش تو کیوں نہیں مانت
اے انسان سچ کیوں نہیں جانت
ضد چھوڑ دے اور مان حکم رب
کیوں نہیں تو قڑان کو تھامت
کیا خوب کلام عطا ہوا تجھے
یہ حق کیوں تو نہیں مانتا۔
ہے عالم تو پھر کر ذرا دلیل
وقت ہے چھوڑ دے تو راہ عزازیل
انجام ہے تیرا بس تیرے ہاتھ میں
ایسا نہ ہو کہ ہو جائے تو ذلیل
نایاب کیسے حق سکھلائیے انھیں
اور کیسے حق پہ لائیے انھیں۔
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






