اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب
Poet: حافظ محمد صہیب By: حافظ محمد صہیب, Karachiمیں رہی ہوں تیرے آبا کا زیور
تو مجھ کو یوں تو نہ پس پشت ڈال
مجھ میں ہی چھپا ہے تیرے اقبال کا راز
ذرا آنکھ کھول، کچھ نظر اس پے ڈال
بات تو صحیح، قابل اعتقاد
مگر مجھ کو ہے اس سے بڑھ کر کچھ درکار
تو نے دیکھا ہے مغرب کا اسلوب بیان
اس کو سیکھوں گا تو رہے گی مجھ پہ یہ دنیا آسان
لگتا ہے، تجھے مغرب کا خوب خمار
اپنے عروج سے بڑھ کر کیا تجھے درکار؟
مجھ کو پڑھ ، اپنی ثقافت تو سیکھ
مل جائے گا اسی میں جینے کا انداز
گر اپنی ثقافت میں ہوتا کچھ کمال
کیوں پھرتے یوں مارے مارے مسلمان
تہذیب مغرب ہے اس بات کی آئینہ دار
کہ اسی سے ہے جینے کا ثبات
یہ وہی ہیں جن کو میں نے
اپنے حکم پر کئی برسوں نچایا ہے
نسل آدم سے ہے ان کو بدلہ درکار
مغربی قرابت محض مکار و عیار
افسانوی باتوں پہ تو تہذیب نہیں کھڑی
پر شے ملاوٹ سے پاک پر چیز کھری کھری
تو کس بات کی رہی مکاری و عیاری
تم نے دیکھا نہیں مسلمانوں کا حال
مغرب کی اسی چال کے ہو شکار
جو شیر اپنے قصے بھول جائیں
سننے پڑتے ہیں ان کو پھر
شکاریوں کے ادوار
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






