اما م احمد رضا کون؟
Poet: Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonوہ امامِ علم و حکمت ،وہ مخزنِ صدق وصفا
وہ عارفِ ربُ العلا،وہ عاشقِ خیرالورا
وہ کہ جس کا لمحہ لمحہ وقفِ نعتِ مصطفی
ذاتِ والا سر سے پاتک مخزنِ عشقِ نبی
وہ کہ جس کے خوش نما با غاتِ بخشش کے طفیل
صحراصحرا کِھل رہا ہے گل بُنِ عشقِ نبی
وہ کہ جس کے ترجمہ میں کنزِ ایماں موج زن
ہر ورق لاریب! جس کا معدنِ عشقِ نبی
ہے وہی جامعِ علوم ِ دین و دنیا بے گماں
سائنس، الجبرا، ادب ، فلسفہ و ہیئت کا
وہ کہ جس نے توڑا اپنی علمی ضرب سے
ساحرانِ دہر کا سارا فسوٗں
وہ مجاہد، وہ سپہ سالار ، و ہ مردِ جری
بزمِ دوشیں کی وہ شمعِ آخری
کفر کی ہر ایک چال
روٗ بہ روٗ اُس کے عیاں
جو اُڑائے فتنہ و غوغا و شر کی دھجیاں
وہ نڈر احقاقِ حق میں ، پیشِ باطل وہ قوی
دشمنانِ دیں کی حق میں ذوالفقارِ حیدری
وہ مصلحِ امت ، مٹایا بدعتوں کو دہر سے
وہ حامیِ سنت ، سنتوں کو عام دنیا میں کیا
عمر بھر جو بے قرارِ مصطفی بن کر جِیا
خونِ دل سے جس نے بزمِ دیں کو بخشی روشنی
ہند میں چاروں طرف ہے اُس کے رُخ کی چاندنی
روشنی ہی روشنی، تازگی ہی تازگی
عشق کی تابندگی، زندگی ہی زندگی
خوشبوے ایماں لیے آئی نسیمِ آگہی
عشقِ سرور(ﷺ) کی شمیمِ جاں فزا
یوں چلی، مُرجھائے غنچے کھل اُٹھے
قافلے صحراوں میں بھٹکے ہوئے
گنبدِ خضرا کے رُخ پر چل پڑے
اے مُشاہدؔ کون ہے وہ؟ کس کا ذکرِ خیر ہے
کون ہے فکر و نظر کا آج مرکز حبذا
وہ مفکر ، وہ محدث، وہ مفسر باصفا
وہ محقق، وہ مصنف، وہ سراپا اتقا
وہ مدبر، وہ معلم، وہ ہمارا رہِ نما
وہ امامِ عشق واُلفت و ہ فنا فی المصطفیٰ
وہ مجد دین کاوہ سیدی احمد رضا
٭
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






