اے فلسطین ہم سب اور پوری دنیا تجھ پر فدا ہے
Poet: ابو عکاشہ الغریب By: Abu Akasha Al-Gharib, Lahoreہم کتنے سالوں سے خواہش کرتے رہے کہ ہم مجاہد بنیں
اور ہم نے پختہ ارادہ کر لیا
اور ہم نے یہ عزم مصمم کر لیا کہ ہماری فجر روشن فجر ہوگی
اور ہم پکار اٹھے اللہ اکبر٭٭٭نہ ہم تھکیں گے نہ ہم کسی پر بھروسہ کریں گے
ہمارے ارادے شیروں کے ارادے جیسے ہیں٭٭ جب تک ہم باقی ہیں اور جب تک زندہ رہیں گے
گروزنی میں ہم دھاڑے اور داغستان میں ہم جم گئے
اور تروبورا میں ہم نے اپنا ٹھکانہ بنایا
فلپائن میں ہماری شان و شوکت ہے٭٭اور غمگین بغداد میں بھی
اورصومال بھی ہمیں پکار رہا ہے٭٭کہ نیک لوگوں کو خوش آمدید ہو
اے کشمیر تم خوش ہو جائو کہ ہم لشکر کے ساتھ زلزلا برپا کرنے پہنچ رہے ہیں
سہشواروں اور ہتھیاروں کے ساتھ جو رعیت کو حیرت میں ڈال دیں
سرایو میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے دردناک ظلم کو مٹا دیا
جنہوں نے ظالم اور مجرموں کو قیدی بنایا
ظالموں اور مجرموں کو
کتنے ہی قلعے ہم نے مسمار کیے
جب ہم غضب ناک ہو کر چلے
شہروں کو فتح کرنے کے لیے ہم مددگار کمک چاہتے تھے
ہم مددگار کمک چاہتے تھے
بلند و بالا میناروں سے تکبیر کی صدا گونجے
ایمان کو اپناتے ہوئے بے نیازی سے طوفانی طوفانی سمندر میں کودو٭٭
ایمان کے اپناتے ہوئے بے نیازی سے
تمہیں ہمارے لیے ذلت کا اقرار نہ کرنا چاہیے وہ ہمارے بارے میں کچھ بھی کہیں
ہم نے بلند حوصلے والے ہاتھوں سے مجد و شرف کے جام پیے ہیں
اے فلسطین ہم سب اور پوری دنیا تجھ پر فدا ہے
تو نور ہے تو سورج ہے ٭٭ تو سدا رہنے والوں کا گہوارا ہے
تو سدا رہنے والوں کا گہوارا ہے
ہم نے بہت دفعہ اعلانیہ طور پر اور خفیہ طور پر عہد کیے ہیں
کہ ہم بہت جلد مسلم ممالک میں تیری مدد کریں گے
اے امت مسلمہ کے نوجوانوں٭٭بغیر شک کے
کافروں کے سامنے تم ہی تلواروں کے حقدار ہو
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






