Add Poetry

اے فلسطین! ہم شرمندہ ہیں

Poet: شایان عالم By: شایان عالم, Karachi

اے فلسطین! ہم شرمندہ ہیں
تیرے زخموں پہ ہم رنجیدہ ہیں
بیچ دریا کے ڈوبے ہوئے
چند سکوں پر جو فرزندہ ہیں
ظلم ہوتا رہا، ہم چپ رہے
اب گواہی میں لب بندہ ہیں

خون بہتا رہا تیرے شہر میں
بچّے تڑپے سحر، دوپہر میں
گھر گرے، بستیاں لُٹ گئیں
زندگی روئی شام و سحر میں
اور ہم نے فقط دیکھ کر چھوڑ دیا
کیسی غیرت ہے، کیسا اثر دل میں؟

دھوپ میں خاک و خوں چلتے رہے
گولیوں میں بدن جلتے رہے
کتنے ماں باپ سسکیوں میں گئے
کتنے بچے تہی پلتے رہے
اور ہم امن کے راگ گاتے رہے
سنگِ غفلت میں خواب بنتے رہے

بچوں کی آہیں، کلی کی فغاں
چیخ سنتی نہیں یہ جہاں
ننھے ہاتھوں میں کھِلنے سے پہلے
جل گیا خواب کا ہر سماں
ماں کی ممتا پکارے مگر
کس کو پرواہ، کہاں، کس کو یاں؟

ماں جو گودوں میں لاشیں لیے
نوحہ خوانی میں شب بھر جلے
جس کے سر پر ردائے سکوں بھی نہ ہو
وہ کہاں جائے، کس سے گلے؟
اپنے قاتل کو پہچان بھی لے اگر
کس کو پرواہ کہ کیا بول دے؟

خاک و خوں میں ہے بیٹی پڑی
وحشتوں میں ہے عصمت جَڑی
دشمنوں نے اسے روند ڈالا مگر
یہ زمیں اپنے غم سے بھری
کون انصاف دے گا یہاں؟
کس کے در پر فریاد پڑی؟

مسجدیں چیختی ہیں، اذانیں نہیں
عقل مفقود، زندہ زبانیں نہیں
لوگ خاموش ہیں، سب تماشائی ہیں
دل میں غیرت نہیں، بدگمانیں نہیں
ہم نے حق کو بھلا کر یہ سوچا مگر
کیا ہمیں بھی ملیں گی امانیں کہیں؟

جب صدا آئی مسجد کے مینار سے
کچھ نہ بدلا یہاں کاروبار سے
وہ جو بِکتے ہیں شاہی محل میں ابھی
کیسے بچھڑیں زر و مال و زر دار سے؟
ان کے پہلو میں سوئے رہے سب مگر
خواب جاگے نہیں نوحہ زار سے

تُو جو قرباں ہوا، بے خبر ہم رہے
ظلم ہوتا رہا، بے اثر ہم رہے
وقت چیختا، نوحہ سننے لگا
اور بدلے نہ ہم، بے حس ہم رہے
قرض ہے جو ہمارے ضمیر پر
اب بھی ممکن ہے، شاید اتار ہم رہے

ہاتھ اٹھتے نہیں، ہاتھ باندھے گئے
حق کے نعروں پہ پہرے بٹھائے گئے
جن کے دل میں چمکتی تھی غیرت کبھی
ان کے لب بھی کہیں پر سلا دیے گئے
اور ہم کہہ رہے ہیں دعاؤں میں یہ
اے خدا! ہم سے کیا کیا خطا ہو گئے؟

باغ تیرے ابھی بھی جلے جا رہے
گھر کے سائے ابھی بھی ڈھلے جا رہے
خواب آنکھوں میں خونابہ ہو چکے
نوحے بچے ابھی بھی سنے جا رہے
پر یہ امت ہے غفلت میں ڈوبی ہوئی
عیش و عشرت کے خوابوں میں کھوئی ہوئی

ظلم سہتے رہے، ظلم سہتے رہو
اپنی مٹی پہ لاشیں گنتے رہو
ہم زبانی ہمدردی دکھائیں گے بس
اور تم خوں کے دریا میں بہتے رہو
یہ سیاست ہے، مفروضہ بازی نہیں
ہم سے امید نہ رکھنا کہ بازی نہیں

جن کی گولی سے چھلنی ہوا تیرا گھر
ہم خریدیں نہ ان کا کوئی بھی ہنر
جو ترے خوں سے تجھ کو مٹاتے رہے
ان کے مال و زَرَف کو جلاتے رہے
ہم اگر تیرے ہمدرد ہیں اے وطن
پھر نہ آئیں گے ان کے کبھی بھی نگر

کیوں بھلا ہم نے بھولا وہ بدر و حنین؟
کب جھکا تھا نبی کا کوئی بھی حسین؟
جب برستے تھے تلوار کے بجلیاں
پھر بھی حق کے تھے عاشق وہ دیوار چین
کیوں ہیں غافل، کہاں کھو گئے سب اصول؟
کس طرف لے گئی ہے ہمیں یہ زمین؟

سب نبی آج رو کر پکارے یہاں
"کیا ہوئے میرے ماننے والے گءے کہاں؟"
کون نوح و زکریا کی سنت چلے؟
کون موسیٰ کی غیرت کو دے گا زباں؟
کون ابراہیم جیسا کھڑا ہو سکے؟
کون عیسیٰ کی مانند دے امتحاں؟

اے نمازیو! مسجد کی فریاد سنو
قبلہِ اولیٰ کی سسکیاں گن لو
یہ وہی ہے جہاں سجدے پہلے ہوئے
یہ وہی ہے جہاں نبی گزرے تھے تو
کیوں ہے خاموش امت یہاں آج بھی؟
کیوں نہیں اس کے غم میں کوئی آنکھ نم ہو؟

کب تلک یونہی ہاتھ باندھے رہو گے؟
کب تلک خونِ مسلم کو بہنے دو گے؟
اٹھو، کہہ دو یہ ظالم جہاں سن لے اب
ہم سپاہی ہیں حق کے، نہ دبنے دو گے
یہ زمیں آج ہم سے گواہی مانگ رہی
ہمیں جہادِ خدا سے نہ بھٹکنے دو گے

قرآن میں حق کی آیتیں ہیں
جو ہمیں راہ دیں، وہ ہدایتیں ہیں
"لَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا" سنو
یہ وہی فیصلہ، وہ وصیتیں ہیں
"وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم" پڑھو
یہ خدا کے نبی کی بشارتیں ہیں

اور احادیث میں روشنی بھی ملے
وہ جو ایمان کی پہلی نشانی بنے
"من رأى منكم منكراً فليغيره"
یہ نبی کی ہے امت کی پہچان بھی
کیا ہوا جو زباں سے نہ کہہ پاؤ تم؟
پھر بھی ہاتھوں میں قدرت ہو، ایمان بھی

عرشِ اعظم پہ ہے اک صدا
فرشتے بھی روتے ہیں رو بہ خدا
کہ "اے مالکِ ارض و کون و مکاں!
یہ مظلوم کب ہوں گے آخر رہا؟"
الٰہی! مدد دے، کہ مظلوم ہیں
یہی ہے فرشتوں کی ہر اک دعا

تم نے دنیا میں عیش و طرب چن لیا
اپنے بھائی کا ہر درد تم نے دیا بھُلا
ظلم دیکھا، سنا، پر نظر موڑ لی
کیوں بھٹکتے ہو، کس کو بناؤ گے ماں؟
کیا نہ آیا نبی کا یہ فرمان یاد؟
"مسلم اخ المسلم" تمہیں کیوں کہا گیا؟

اللہ فرمائے گا حشر کے دن
"کہاں تھے جب جلتے تھے میرے چمن؟
کیوں نظر کی تھی تم نے پرائی طرف؟
کیوں نہ روکا تھا ظالم کے ظلم و ستم؟
تم نے دنیا کی رونق بچا لی مگر
کیا قیامت کے دن بھی کوءی رہے گا بھرم"

ہم جو سوئے ہوئے تھے، جگا دو ہمیں
اپنے خوں کا تقاضا سنا دو ہمیں
تیرے دردوں کی شدت میں بہرے ہوئے
اپنی چیخوں سے کانوں پہ لا دو ہمیں
اپنے آنسو دکھا دو کہ شاید کبھی
کچھ تو بیدار ہو، کچھ ہلا دو ہمیں

اے فلستین! ہم نادم ہیں، ہم شرمندہ ہیں
ہم تیری آنکھ کے آنسوؤں میں بھی زندہ ہیں
تیرے دکھ کے سوا کچھ نہیں پاس میں
غم کی دنیا میں تیرے پرندہ ہیں
اے فلستین! خدا گواہ ہے
تیرے حق کے لیے ہم بھی بندہ ہیں

اے خدا! رحم فرما زمینِ حرم
ہم گناہ گار ہیں، پر ہیں تیرے کرم
فتح دے اہلِ حق کو ستم گر پہ تو
عدل تیرا ہی روشن کرے ہر بھرم
میرے مولا، دعا ہے شایانؔ کی تجھ ہی سے یہ
کر عطا پھر سے امت کو عزم و ہنر

Rate it:
Views: 2
31 Mar, 2025
Related Tags on Islamic Poetry
Load More Tags
More Islamic Poetry
Popular Poetries
View More Poetries
Famous Poets
View More Poets