بحضور حضرت حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindiغم حسین کو جو دل سے ہیں لگائے ہوئے
وہی تو اپنا جہاں آپ ہیں بسائے ہوئے
خوشی خوشی ہیں رواں کربلا کی منزل کو
بڑھے ہیں موت کی جانب تو مسکرائے ہوئے
حسین ابن علی کے سوا تھا کون ایسا؟
خدا، رسول کا پرچم چلے اٹھائے ہوئے
یہ ماتم غم شبیر ہے حقیقت میں
زمین دشت ہے اب تک جو خاک اڑائے ہوئے
یقین ان کا مٹائیں گے کیا یہ وہم و گماں
جنھیں وہ خود مئے توحید ہیں پلائے ہوئے
فلک اداس، زمیں چپ، فضا پریشاں ہے
غم و الم کے بہر سو ہیں ابر چھائے ہوئے
بپا ہوا ہے قیامت کا شور خیموں میں
حسین آئے جو اصغر کی لاش اٹھائے ہوئے
وہ قاسم و علی اکبر جواں مجاہد تھے
عدو بھی جن کے مقابل تھے لڑکھڑائے ہوئے
وہی تو منزل مقصود پائیں گے اپنی
چلے ہیں جو کہ انھیں رہنما بنائے ہوئے
لٹا ہے قافلہ، زینب ہی رہ گئی باقی
وفائے خون شہیداں کا بوجھ اٹھائے ہوئے
سکینہ روئی جو ہائے، مرے چچا ! کہہ کر
تو پوئے خیمے میں سجاد تلملائے ہوئے
بنہ کے گھر کا ہر اک فرد ہے زمانے میں
لہو سے اپنے چراغ وفا جلائے ہوئے
جو اہل بیت نبی کی نہیں ہے الفت یہ
تو کس لئے ہیں یہ آنکھوں میں اشک آئے ہوئے
یہی تو عون و محمد وہ دو ستارے ہیں
جو کربلا کے افق پر ہیں جگمگائے ہوئے
بہایئں اشک نہ کیوں زار زار ہم رومی !
ہمیں تو پھر علی اصغر ہیں یاد آئے ہوئے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






