تخلیق ارض و سما
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab --Pakistan)تخلیق ارض و سما
وہ خالق ہے سب کے لیے رحیم اور رحمن
جس نے اپنی قدرت سے پڑھایا قرآن
جس خالق نے پیدا کیے ہیں سارے انسان
فبای الا ربکماتکذبان
سورج اور چاند کا ایک حساب میں ہے گزران
تارے اور درخت تمامی سجدوں میں ہر آن
اونچا کیا افلاک کو اور قائم کی میزان
اس میزان کو کسی بھی صورت مت پہنچے نقصان
حق و صداقت سے انصاف کے پورے ہوں امکان
فبای الا ربکما تکذبان
دھرتی کو مخلوق کی خاطر کیا ہے یوں تخلیق
میوے ،پھل ،اثمار،اشجار ہیں دور و نزدیک
کھجور کے پودے اور ان کے پھل جن کے گرد غلاف
بھوسے ،دانے والے غلے خود ہی کرو انصاف
ایسی نعمتیں پا کر لوگو مت بننا انجان
فبای الا ربکما تکذبان
پیدا کیا انسان کو ٹھیکری جیسے گارے سے
اور بنایا جن کو دہکتے ہوئے انگارے سے
اس کی قدرت کے ہیں لوگو یہ سارے عنوان
فبای الا ربکما تکذبان
مشرق اور مغرب کا خالق دھرتی کا نگہبان
فبای الا ربکما تکذبان
دو سمندر اس نے بنائے تا کر لیں آپس میں ادغام
پھر بھی حائل ہے اک پردہ تا کہ حد سے بڑھے نہ کام
ان سمندروں کی تہہ سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
جن و ملک سبھی تو اس کے رزق پہ پلتے ہیں
دیکھو اپنے خالق کے یہ سارے احسان
فبای الا ربکما تکذبان
بحر کے اندر کوہ کے مانند ہیں جو جہاز بلند
خلقت کو سمجھانے کا اسے ہے یہ انداز پسند
ہے بقا تو صرف خدا کو باقی ہے سب فان
اکرام اور جلال اسی کو زیبا ہیں ہر آن
فبای الا ربکما تکذبان
ارض و سما کی ساری خلقت رب کے در کی سوالی ہے
اس کے حضور ہر ایک کا کاسہ بالکل خالی ہے
ہر لحظہ اس رازق کی نئی شان اور آن
فبای الا ربکما تکذبان
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






