جذبہ عشق
Poet: محمدصدیق پرہار By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahدرمحبوب پرخم شاہوں کی جبیں ہے
دوعالم سرورکونین کے زیرنگیں ہے
امام سب انبیاء کرام کارسول امیں ہے
ایساکوئی محبوب نہ ہوگانہ کہیں ہے
بیٹھاہے چٹائی پہ مگرعرش نشیں ہے
ٹل جائیں سب بلائیں امت کے سرسے
خالی لوٹانہیں کوئی محبوب کے گھرسے
دیکھتے ہیں منگتوں کورحمت کی نظرسے
ملتانہیں کیاکیادوجہاں کوتیرے درسے
اک لفظ نہیں ہے کہ تیرے لب پہ نہیں ہے
تیرے ہی وسیلے سے قبول ہوئی توبہ آدم کی
تیرے نام کے صدقے تیرتی رہی نوح کی کشتی
انبیاء کی زبان اقدس پرتیری ہی نعت رہی
ہیں تیرے ہواخواہوں میں مرسل بھی نبی بھی
کونین تیرے زیراثرزیرنگیں ہے
دیتاہے گواہی عظمتوں کی احوال شب اسریٰ
ملتی ہے تسکین آتے ہی خیال شب اسریٰ
تحفے ہیں امت کے لیے اعمال شب اسریٰ
توچاہے توہرشب ہومثال شب اسریٰ
تیرے لیے دوچارقدم عرش بریں ہے
دیتے ہیں گنبدخضریٰ پہ انس وملک سلامی
دیکھے توکوئی جذنہ ء عشق رسول اصحاب گرامی
چاہتے ہیں قرب مسلسل آپ کاعشاق تمامی
ہراک کومیسرکہاں اس درکی غلامی
اس درکاتودربان بھی جبریل امیں ہے
پڑھ کرنمازفجرتلاوت قرآن کرکے
لیے کرومزے روزانہ تم نورسحرکے
منگتے ہیں مسلمان سب اسی سخی درکے
رکتے ہیں یہیں آکے قدم اہل نظرکے
اس کوچے سے آگے نہ زماں ہے نہ زمیں ہے
بیٹھ کرمسجدنبوی میں تلاوت کاشرف دے
اطاعت میں رہتے ہوئے اپنی عبادت کاشرف دے
قبروحشرکے امتحان میں شفاعت کاشرف دے
اے شاہ زمن اب توزیارت کاشرف دے
بے چین ہیں آنکھیں میری بے تاب جبیں ہے
رہتی ہے دل میں صدیقؔ جستجوئے مدینہ
پہنچیں گے ایک دن وہ روبروئے مدینہ
دل میںیادزبان پرگفتگوئے مدینہ
دل گریہ کناں اورنظرسوئے مدینہ
اعظمؔ تیرااندازطلب کتناحسیں ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






