جشنِ معراج النبی ﷺ
Poet: Dr.Muhammed Husainb Mushaid Razvi By: Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonعرشِ اعظم پر گئے شاہِ اُمم آج کی رات
مل گئے طالب و مطلوب بہم آج کی رات
سورۂ نجم کی تفسیر سے واضح یہ ہوا
حق نے کھائی ہے شہ دیں کی قسم آج کی رات
صرف یہ سوچ کے ہی عرشِ بریں جھوم اُٹّھا
آئیں گے مجھ پہ شہ دیں کے قدم آج کی رات
حق نے رضواں سے کہا آے گا محبوب مرا
خوب آراستہ کر باغِ ارم آج کی رات
عرش و کرسی ہی نہیں دیکھ کے آقا کو مرے
وجد میں آگئے خود لوح و قلم آج کی رات
کوئی انساں وہاں پہنچا ہے نہ پہنچے گا کبھی
آپ چھوڑ آے جہاں نقشِ قدم آج کی رات
جب کہ سرکارِ مدینہ سے محبت ہے ہمیں
جشنِ معراج منائیں نہ کیوں ہم آج کی رات
مانگنا ہو جو ، وسیلے سے نبی کے مانگو
جوش میں آیا ہے دریاے کرم آج کی رات
بالیقیں ہے یہ شہنشاہِ رسولاں کا کرم
ذکرِ معراج کیا میں نے رقم آج کی رات
اہلِ اسلام کو لازم ہے نہ غافل بیٹھیں
ذکرِ معراج کریں مل کے بہم آج کی رات
جن کا معراج پہ ایماں ہے مُشاہدؔ پُختہ
سرِ تسلیم کریں کیوں نہ وہ خم آج کی رات
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






