حق اخوت
Poet: محمدصدیق پرہار By: Muhammad Siddique Prihar, Layyahہے ہم سے زیادہ محبوب کوخبرہمارے حالات کی
پہلے ہی سجدہ میں ہماری ہی بخشش کی بات کی
درپہ آیاجوسوالی نہیں گیاکبھی کوئی خالی
ہوجاتے ہیں منگتے غنی شان ہے یہ خیرات کی
کرتے ہیں سب کابھلادیتے ہیں دشمنوں کودعا
معترف ہے یہ دنیامیرے نبی کے اعلیٰ صفات کی
نمازاداکرتے رہاکرودرودنبی پرپڑھاکرو
ذکرخداذکررسول سے ابتداء ہوتمہارے معمولات کی
دل میں ہے یادمصطفی سجاتے ہیں محفل میلادمصطفی
نہیں ہے اس سے بڑی مصروفیت کوئی دن رات کی
آدم تاعیسیٰ انبیاء آئے زیرآسماں ہی معراج پائے
محبوب نے ہی عرش پررب سے ہے ملاقات کی
رب فرمایاپاک کلام میں پورے داخل ہوجاؤاسلام میں
یہی دین کرتاہے راہنمائی تہماری تمہارے معاملات کی
پڑھتے ہیں کلمہ شجروحجربھیجتے ہیں درودشام وسحر
نعت خواں پیارے نبی کی ہے ہرچیزکائنات کی
بھائی بھائی جب بنادیاحق اخوت ایسا اداکیا
نہیں لاسکتی مثال کوئی دنیااصحاب کے مساوات کی
ہے اس عمل کی اہمیت ہے جس میں حب رسالت
درودنبی پرپڑھنے سے رہتی ہے پاکیزگی خیالات کی
کرتا ہے نظراندازکوئی دیتا ہے عزت واعزازکوئی
اپنااپناظرف ہے صدیق ؔ نہیں بات یہاں اوقات کی
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






