حمد
Poet: By: Jawed Siddiqi, Karachiعزیز احسن (کراچی)
دل پہ مرے احساس نے جو حرف لکھا ہے
ہے تیرے سوا کون کہ جس نے وہ پڑھا ہے
تصویر تری کثرت جلوہ سے ہے معدوم
آئینہ حیرت ہے کہ آغوش کشا ہے
ہر آنکھ ہے رنگوں کی فراوانی سے خیرہ
وحدت کا تری بھید کھلا تھا نہ کھا ہے
تو نے ہی تو ہر مرحلہ شوق میں یارب!
اس چشم تماشا کو نیا عزم دیا ہے
جو تو نہیں چاہے وہ کبھی ہو نہیں سکتا
ہر کام فقط تیرے ارادے سے ہوا ہے
ہر جاں کو تسلی کہ حفاظت میں ہے تیری
ہر زخم تری چشم عنایت سے بھرا ہے
ایماں ترے ہونے کا، مری جاں کا اثاثہ
ایماں ترے قرب کا اس دل کی جلا ہے
تو نے ہی مجھے نطق کی دولت سے نوازا
تو نے مرے احساس کو اظہار دیا ہے
احسن پہ عنایات کے در باز ہوں یارب
یہ دشت تحیر میں تجھے ڈھونڈ رہا ہے
صبیح رحمانی
خوشا وہ دن حرم پاک کی فضاﺅں میں تھا
زباں خموش تھی دل محو التجاﺅں میں تھا
در کرم پہ صدا دے رہا تھا اشکوں سے
جو ملتزم پہ کھڑے تھے، میں ان گداﺅں میں تھا
غلاف خانہ ¿ کعبہ تھا میرے ہاتھوں میں
خدا سے عرض و گزارش کی انتہاﺅں میں تھا
حطیم میں مرے سجدوں کی کیفیت تھی عجب
جبیں زمین پہ تھی ذہن کہکشاﺅں میں تھا
طواف کرتا تھا پروانہ وار کعبے کا
جہان ارض و سما جیسے میرے پاﺅں میں تھا
فضائے معرفت آثار میں تھا دل سرشار
مرا وجود خدا کے کرم کی چھاﺅں میں تھا
دھڑک رہا ہے مرے ساز روح پر اب بھی
وہ ایک نغمہ جو ”لبیک“ کی صداﺅں میں تھا
مجھے یقین ہے میں پھر بلایا جاﺅں گا
کہ یہ سوال بھی شامل مری دعاﺅں میں تھا
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






