حمد خدا
Poet: Shabbir Rana By: Dr.Ghulam Shabbir Rana, Jhang City (Punjab-Pakistan)ابر رحمت فشاں ہے تیرا کرم
مخزن کن فکاں ہے تیرا کرم
حد ادراک سے بھی آگے تو
مہر و مہ کہکشاں ہے تیرا کرم
کیا تعین ہو تیری ہستی کا
ہر جگہ گلفشاں ہے تیرا کرم
ہست اور بود کی خبر کس کو
زیست کا راز داں ہے تیرا کرم
آنکھ کا نور تو ہے دل کا قرار
بے مثل بے نشاں ہے تیرا کرم
غم کا منجدھار اورکشتیء جاں
اس کا تو بادباں ہے تیرا کرم
سوا نیزے پہ جب ہوا خورشید
ہو گیا سائباں ہے تیرا کرم
سدرۃالمنتہیٰ سے آگے تک
زینت لا مکاں ہے تیرا کرم
جب سراب حیات گھیرتے ہیں
والی انس و جاں ہے تیرا کرم
حوصلوں کی ہزیمتوں میں بھی
حامی بے دلاں ہے تیرا کرم
منصفی سے بھٹک گئے قاضی
رہبر عادلاں ہے تیرا کرم
چشم افلاک نے یہ دیکھا ہے
زیست کا کارواں ہے تیرا کرم
جب درندے ہوں درپئے آزار
حافظ اور گلہ باں ہے تیرا کرم
گرتوں کو تھامنا تیری قدرت
ہر گھڑی کامراں ہے تیرا کرم
مجھ کو الفاظ کی ملی دولت
میرا عجز بیاں ہے تیرا کرم
کامرانی ملی شہیدوں کو
عشوہ غازیاں ہے تیرا کرم
غم کی وادیوں میں بھی
راحتوں کی اماں ہے تیرا کرم
تو کریم چارہ گر سب کا
مونس عاصیاں ہے تیراکرم
نار نمرود سے بچائے کون
معجزہ بے گماں ہے تیرا کرم
زریا کو بچایا آرے سے
کون چیرے جہاں ہے تیرا کرم
شکم ماہی میں بچ گیا یونس ؑ
کیا عیاں کیا نہاں ہے تیرا کرم
شرق تا غرب ہے تیری اقلیم
از کراں تا کراں ہے تیرا کرم
ہے نقیب وفا تیری قدرت
عاصیوں پہ عیاں ہے تیرا کرم
شرک کے بے امان لمحوں میں
ایک کامل ایقاں ہے تیرا کرم
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو







