پہلے دھولیں زم زمِ تطہیر سے فکر و قلم
کاغذِ اخلاص پر ہو نعتِ احمد پھر رقَم
باادب دروازۂ مدحت کھلے اس شان سے
چار جانب خوشبوے توصیف پھیلے دم بہ دم
نعت کا لکھنا نہیں آساں سنو اے دوستو!
راہِ تیغ آسا پہ جیسے کہ چلانا ہے قدم
اُن کے دربارِ مقدس کا بیاں کرتے ہوئے
ہے قرآں میں آیتِ ’لاترفعوا‘ دیکھیں رقَم
خُلقِ پاکِ مصطفی کا مرتبہ کیسے لکھوں؟
جب خدا نے خود کیا ہے اُس کو لوگو! محتشم
مدحتَِ خیرالورا کا حق ادا کیا ہوسکے؟
بعدِ رب لاریب! ہیں جب وہ بزرگ و محترم
مَیں نے تفسیرِ قرآں میں سیرتِ سرور پڑھی
ہر ورق میں موج زن ہے نعتِ شہنشاہِ اُمم
اُن کی عظمت کا بیاں کرنا تو ممکن ہی نہیں
جب ’رفعنا‘ میں بیاں ہے رفعتِ شاہِ اُمم
نعت گوئی بھی مُشاہدؔ اِک عبادت ہی تو ہے
تُو نے پائی یہ سعادت ہے خدا کا یہ کرم