در مدح حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ تعالٰی علیہ
Poet: Khalid Roomi By: Khalid Roomi, Rawalpindi ہو تم نقش آئینہ گر غوث اعظم
مرے، مالک بحر و بر غوث اعظم
دو عالم کے ہیں راہبر غوث اعظم
طریقت کے ہیں تاجور غوث اعظم
شریعت میں ہے محی دیں ذات ان کی
حقیقت میں ہیں یہ مگر ،“ غوث اعظم “
ہے کس اوج پر یہ پھریرا تمھارا
نہ پائی کسی نے خبر غوث اعظم
تمھارے گدا اولیائے جہاں ہیں
مسلم تمھارا اثر غوث اعظم
نہ دیکھا ، نہ دیکھا، نہ دیکھا ، نہ دیکھا
کسی میں تمھارا ہنر غوث اعظم
وہ ڈوبے ، وہ ڈوبے بدور اولیں کے
نہ ڈوبے تمھارا قمر غوث اعظم
تمھارا ہوں بندہ ، تمھارا گدا ہوں
تمھی ہو مرے چارہ گر غوث اعظم
ہو عقدہ کشائی مری اب خدارا
نہ پھیرو مجھے در بدر غوث اعظم
ہم ایسے فقیروں کی دولت یہی ہے
نہ چھوٹے ترا سنگ در غوث اعظم
تمھارے غلاموں کو کچھ حشر کا اب
نہیں باقی خوف و خطر غوث اعظم
جو پایا ہے میں نے، وہ پایا ہے ان سے
جہاں میں مرا کرو فر غوث اعظم
فقیروں کا ہے آسرا تیری نسبت
تری یاد زاد سفر غوث اعظم
نہ باقی رہے گی ذرا کوئی الجھن
کریں چشم رحمت اگر غوث اعظم
نہیں ہیں کسی طور واللہ نہیں ہیں
مرے حال سے بے خبر غوث اعظم
مرے سر پہ سایہ فگن، دیکھئے ہیں
ادھر شاہ اجمیر، ادھر غوث اعظم
ترا نام عقدہ کشا ہے ہمارا
تری یاد قوت جگر غوث اعظم
رہے تیری چشم عنایت ہمیشہ
ترے رومی ء زار پر “ غوث اعظم “
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






