رات کی رانی بول رہی ہے
Poet: Meena Batalvi By: Bakhtiar Nasir, Lahoreرات کی رانی بول رہی ہے‘ صبح کا تارا بول رہا ہے
دور افق کی جھولی میں اک نور کا دھارا بول رہا ہے
کس نے پہلے ہریالی دی اور رنگت دی پھر سونے جیسی
گندم کے خوشوں سے بھرا ہر کھیت سنہرا بول رہا ہے
کس نے یہ مٹی میں بوئے بیج دھنک کے رنگوں کے
پتہ پتہ بوٹا بوٹا باغ یہ سارا بول رہا ہے
اڑتے بادل‘ گھرتے جھرنے کس کی حمد سناتے ہیں
پیڑوں کے چھتنار سنہرے جھیل کنارا بول رہا ہے
کس نے رکھا خاک کے ذروں میں بھی نظام برق شرر
کس کی رمز سے پانی میں بھی آگ کا دھارا بول رہا ہے
یہ نرر کی بہتی سرگرم سی لے روشنیوں کی مدھم سی
ہر بولتی تار کے ہونٹوں سے کیا اکتارا بول رہا ہے
رنگوں کی سحر‘ خوشبو کی لہر یہ کسنے انکو بخشی ہے
شبنم میں دھلا اور تازہ کھلا ہر پھول کا چہرہ بول رہا ہے
یاں اک سمندر ہی میں جا کے گرنا ہے اک روز ہمیں
نالہ نالہ ندی ندی دریا دریا بول رہا ہے
عقل و خرد کی محرابوں میں گم صم ہیں سب راز ازل کے
آنکھ کے عدسوں میں لیکن ہر ایک نظارا بول رہا ہے
انساں کے یہ خال و خد معراج ہیں اسکی خلقت کے
یہ جسم کی مینا‘ پھول سے لب اور نین کٹورا بول رہا ہے
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






