سارا جہاں تمھارا ہے ، زمین آسماں تمھار ا ہے
Poet: Humera Sajid By: Humera Sajid, Lahoreسارا جہاں تمھارا ہے ، زمین آسماں تمھار ا ہے
دنیا میں ہمیں بھی عزت دے دو ، تمھار ا محبوب نبی ﷺ ہمارا ہے
کر دے معا ف ہمیں اور د ے دے ہمیں بھی دنیا میں عزت
سن لے اپنے محبوب کی اُ مت کی یہ پکا ر ، ہمارا نبی ﷺ تمہیں بھی تو پیارا ہے
زبانی جمع خرچ کرتے ہو بس ، بات تو میرے محبوب کی کوئی مانتے نہیں
ہونہی کہتے رہتے ہو ہر وقت ، اپنا نبی ﷺ ہمیں جان سے بھی پیارا ہے
دنیا سے پیا را ہے تمھیں اور دنیا ہی کے واسطے سب کچھ ہو کرتے
قربان کرو کچھ تو دین کے لیے ، تو میں دیکھو ں، کتنا تمھیں میرا محبوب پیار ا ہے
جھوٹ ، رشوت ، قتل و غارت ، حسد ، بغض، نفرت ، کینہ
ہر برائی ہے تم میں ، پھر بھی یہ کہتے ہو ، ہمیں اپنا نبی ﷺ بڑا پیارا ہے
پیار ہے اگر ان سے تو ہر بات ہر اد ا آپ ﷺ کی اپنا لو
صدیوں سے تم کہہ ر ہے ہو اور میں سن رہا ہوں
ہمیں اپنا نبی ﷺ جان سے پیارا ہے
ہمیں اپنا نبی ﷺ جان سے پیار ا ہے
آپ ﷺ کی مہک ہے سب پھولوں میں
آپ ﷺ کے دم سے بہار ہے گلستاں میں
ابر کرم ، آپ ﷺ کی نظر کرم سے ہے برستا
ویران بنجر زمیں کو نغلستان میں بدل ہے دیتا
پرندے چہہچاتے ہیں ، آپ ﷺ پر واری واری جاتے ہیں
کھلے آسمان پر جب اُڑتے ہیں ، آپﷺ پر درود و سلام پڑھتے ہیں
کائنات کا زرہ زرہ آپ ﷺ کا ہے احسان مند
رہیں آپ ﷺ ہمیشہ ہم سے خوش ، دل اسی بات کا ہے آرزو مند
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو






