ان کے روضے پہ بہاروں کی وہ پُروائی ہے
’’جیسے فردوس پہ فردوس اُتر آئی ہے‘‘
کیوں نہ تخلیق کرے آپ کی تخلیق پہ ناز
سارے یکتاوں میں یکتا تری یکتا ئی ہے
اس کی قسمت پہ فدا کردوں ہزاروں جانیں
ہاں وہی جس کو قضا طیبہ میں لے آئی ہے
ان کے تلووں کے سبب سُرخیاں پاتی ہے شفق
باغِ جنت نے پسینے سے مہک پائی ہے
بدرِ کامل ہو کہ ہو مہرِ مبیں ، قلبِ حزیں
سب نے تو ان کے سبب ہی سے ضیا پا ئی ہے
’’انت فیہم نے عدو کو بھی لیا دامن میں‘‘
عیشِِ جاوید اسے ان کا جو شیدائی ہے
یہ مُشاہدؔ ، شہِ دیں گرمیِ محشر کے لیے
سایۂ گیسوئے رحمت کا تمنائی ہے