سطورِ مدحت
Poet: Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi By: Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaonانھیں کے اوصاف کی ہو خوش بو مرے یقیں میں مرے گماں میں
مرے قلم میں مرے سخن میں مرے تخیل مرے بیاں میں
ہے خُلق اکمل ، ہے خَلق اجمل ، وہی ہیں محبوبِ ربِّ اکبر
قرآں کی تفسیر اُن کی سیرت ، کوئی نہ ان سا مکیں مکاں میں
نظیر اُن کی ملے گی کیسے ، نہ اُن سا پیدا ہوا ہے کوئی
مکیں مکاں میں زمیں زماں میں ، نہ اِس جہاں میں نہ اُس جہاں میں
’’یہ چاند سورج ستارے تارے انھیں کے جلووں سے فیض پائے‘‘
انھیں کے تلووں کی روشنی ہے ، شفق میں جاری تو کہکشاں میں
چمن چمن ہے سمن سمن ہے ، نبی کے عرقِ بدن کی نکہت
انھیں کے گیسوے عنبریں کی بسی ہے خوش بو گلِ جناں میں
مٹائی دنیا سے بُت پرستی ، چراغِ وحدت جلا دیا ہے
نہ آیا ہے اور نہ آئے گا اُن سا کوئی ظلمت شکن جہاں میں
بڑھی تھی وحشت جہاں میں لوگو! نہ حُسنِ اَخلاق تھا کہیں بھی
وہ آئے پھیلی یقیں کی خوش بو ، ادب بسا قومِ بد نشاں میں
لباسِ پیوند جسم پر ہے ، شکم پہ اُن کے بندھے ہیں پتھر
وہ سادگی ہے ملے نہ تمثیل اِس جہاں کیا؟ کسی جہاں میں
یہی مُشاہدؔ کی آرزو ہے ، سطورِ مدحت لکھے ہمیشہ
دُرود اُس کی خموشیاں ہوں ، سلام جاری رہے زباں میں
فہم و گماں سے آگے ہے رتبہ حسینؑ کا
قرآن کے ورق بولیں شبّرؑ کے نام پر
محشر میں ذکر ہوگا یہ خطبہ حسینؑ کا
دریا نے پیاس دیکھی، جھجک کر رُک گیا
سایہ بھی زیرِ زخم تھا قبضہ حسینؑ کا
باطل ہو یا ستم ہو، قدم نہ ڈگمگائے
قائم ہے آج تک بھی وہ وعدہ حسینؑ کا
نیزے پہ بھی زباں تھی، تلاوتیں ہوئیں
کانوں نے خود سنا ہے وہ لہجہ حسینؑ کا
بکھری تھیں لاشگاہ میں قربانیاں بہت
پر سب سے خاص منظر تھا سجدہ حسینؑ کا
تاریخ نے دکھایا ہے سچ کا یہ علم بھی
ہر دل پہ راج کرتا ہے کنبہ حسینؑ کا
جنت کا در جو کھلتا ہے در پر حسینؑ کے
اللہ نے دیا ہے یہ رتبہ حسینؑ کا
مظہرؔ لکھو عقیدت سے حرفوں کے چراغ
دل کہہ رہا ہے سارا ہے صدقہ حسینؑ کا
وہی مشکل گھڑی میں صاحبِ کامل مسلمان نکلے
جنہیں الزام دے کر اہلِ محرابوں نے دھتکارا
وہی حق کی حفاظت میں کھڑے کوہِ گراں نکلے
جنہیں بدنام کر کے شہر بھر میں شور برپا تھا
وہی باطل کے آگے بن کے سیلابِ رواں نکلے
جنہیں سمجھا گیا تھا بے عمل اور بے خبر لوگ
وہی میدانِ حق میں صف شکن مردِ جواں نکلے
جنہیں فتووں کی آندھی نے مٹانے کی ٹھانی تھی
وہی تاریخ کے اوراق میں روشن نشاں نکلے
جنہیں دنیا نے سمجھا تھا فقط خاموش رہنے والے
وہی طوفان بن کر ظلم کے آگے بیاں نکلے
مظہرؔ یہ بھی زمانے کی عجب تقدیر دیکھی ہے
جو سچے تھے وہی آخر میں اہلِ امتحاں نکلے
سکوں کی صدا ہے دعاؤں میں شامل
تری یاد کی روشنی جب سے اتری
مہکنے لگیں سب گھٹاؤں میں شامل
تری ہی عطا ہے جو دل کو ملی ہے
کرم کی لڑی ہے عطاؤں میں شامل
ہے خوشبو ہی خوشبو ہواؤں میں شامل
تری یادِ پاکیزہ چھاؤں میں شامل
غمِ دل بھی اب شکر بن کر چمکا
تری ہی رضا ہے بلاؤں میں شامل
تری نسبتِ پاک نے یہ دکھایا
حیاتِ یقیں ہے وفاؤں میں شامل
دلِ زار کو مل گئی اک تسلّی
تری مہک آئی فضاؤں میں شامل
مظہرؔ کی بس اک یہی التجا ہے
رہوں میں بھی تیری ثناؤں میں شامل
سب کا مولا، کریم بھی تو
ہے خالقِ کل، علیم بھی تو
تو ہی مولیٰ، عظیم بھی تو
سب کے دلوں کا ہے پیر بھی تُو
رازِ دروں کا خبیر بھی تو
ہے روشنی کا منیر بھی تو
ہے آسرے کا حمیر بھی تو
رزّاق بھی تو، حبیب بھی تو
ہر دم مرا دست گیر بھی تُو
بھٹکے ہوؤں کا حلیم بھی تو
ہے بے مثل و قدیم بھی تو
ستار بھی تو، غفور بھی تو
قدوس بھی تو، سلام بھی تو
سرشار میں ان گناہوں ڈوبا
بدکار میں پر رحیم بھی تُو
قرآن میں تذکرہ ہے جس کا
اس کا مولا، عظیم بھی تو







