سَہل اَنگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں

Poet: Mahmood ul Haq By: Mahmood ul Haq, Lahore
Sahal Angaron Ka Peecha Pachtaway Karte Hain

سَہل اَنگاروں کا پیچھا پچھتاوے کرتے ہیں
گرہوں عاجز تو خوف کے مارے ڈرتے ہیں

وحدہُ لاشریک لہ کی اَمان میں جو نہیں رہتے
نفس کے کئی خداوَں سے وہ مرتے ہیں

قربتیں کم ہوں یا تفاوت بڑھ جائیں
ساعَت کی قید فرنگ سے نہیں نکل پاتے ہیں

بڑھتے درد کا صبر جب فریاد بن جائے
انصاف کے باب کھلنے سے نہیں رکتے ہیں

بلند پرواز میں نہیں رکھتے جو ماویٰ
بدلتی رتوں سے بھی گزرتے چلے جاتے ہیں
 

Rate it:
Views: 1095
12 Nov, 2013